ملکی منظرنامہ امید و خدشات

کورونا کی صورتحال اب بھی ایک گہرے تجزیے کی متقاضی ہے، وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہی ہے۔

کورونا کی صورتحال اب بھی ایک گہرے تجزیے کی متقاضی ہے، وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہی ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں کورونا وائرس کا دباؤ بلند ترین سطح پر ہو گا، ہماری کوشش ہے کہ ڈھائی ماہ میں صورتحال قابو میں رہے اور ملک کو مشکل صورتحال سے بچایا جائے۔

اس کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے، ایس او پیز پر عملدرآمد سے وائرس کا پھیلاؤ کم کیا جا سکتا ہے لیکن عام لوگ اس بیماری کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے، کورونا سے بچنے کے لیے گھر سے ماسک پہن کر نکلیں، ماسک پہننے سے وائرس کے پھیلاؤ میں 50 فیصد کمی آتی ہے۔

بے احتیاطی بزرگوں اور دیگر افراد کی زندگی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پیر کو کورونا وباء سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ہر شعبہ کے لیے ایس او پیز جاری کیے ہیں، عوام ان پر سنجیدگی سے عمل کریں، اگر احتیاط نہ کی تو خود کو مشکل میں ڈالیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ کورونا کی صورتحال اب بھی ایک گہرے تجزیے کی متقاضی ہے، وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہی ہے، صحت حکام کو ہر لحظہ اس بات کی خبر ہونی چاہیے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کورونا سے متعلق تحقیقی عمل کی رفتار کیا ہے، حکومت کو ریسیونگ اینڈ پر نہیں ہونا چاہیے، عملاً کچھ کرنا چاہیے۔

ایک طرف اسے عالمی ادارہ صحت کوئی نیا مراسلہ اور خط تھما دیتا ہے یا ملکی سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی آمد کی ہوشربا تعداد ہی ذہنی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیتی ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ ارباب اختیار کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے کون سی جادو کی چھڑی استعمال کی جائے،حالانکہ یہ آزمائش کوئی جادوگری یا رعونت بھری سیاست نہیں مانگتی، کورونا ایک نزلہ کا چنگھاڑ ہے، بڑی دیدہ وری مانگتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے پھر کہا کہ دنیا یہ نہ سمجھے کہ کورونا کی کہانی ختم ہوگئی، وزیر اعظم عمران خان نے غالباً اس عالمی پیغام کی روح کو محسوس کیا، اسی لیے انھوں نے جولائی اور اگست میں کورونا کے عذاب اور اداسی& Gloom Doom کے خطرہ سے آگاہ کردیا۔ یہ سن کر عوام ہیلتھ سسٹم سے کس قدر خائف ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو کورونا کے عذابوں سے گزر رہے ہیں، بظاہر عالمی میڈیا اس شعور کو بڑھاوا دے رہا ہے کہ کورونا کی شدت جولائی میں دم توڑ بھی سکتی ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق لاک ڈاؤن کھولنے کا مطلب وہ یقین کامل ہے کہ انسانیت کورونا کے سامنے ہمیشہ کے لیے سرینڈر کرنے کو تیار نہیں ہوگی، اس جرثومہ اور وائرس کو جلد یا بدیر دنیا سے رخصت ہونا پڑیگا۔تاہم ارباب اختیار کو بے اعتباری کے ایک سنگین مسئلہ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، اگر دیکھا جائے تو ملکی سیاست نے حکومت کو بلاوجہ مصروف کر رکھا ہے، کورونا پر بیشتر کام مسیحاؤں کے سپرد ہے اور وہ شدید ڈپریشن میں مبتلا ہیں، ان کے کئی اہم فرنٹ لائن کردار کورونا کی نذر ہوچکے۔

لوگ اپنے پیاروں کو لے کر ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال میں دھکے کھا رہے ہیں، ان مریضوں کے علاج کے لیے نجی اسپتالوں نے اپنے ریٹ اور پیکیجز کی جو تفصیلات بتائی ہیں وہ حد درجہ تشویشناک اور ننگ انسانیت ہیں، کیا مسیحائی اس درجہ گرگئی ہے، کیا کورونا ایک لاٹری کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

آخر اسپتال جب مرض ہی قبول نہیں کر رہے تو حکومت لاک ڈاؤن، ماسک، سماجی فاصلہ اور گھر میں رہنے کی ضرورت کو صحت کے مربوط سسٹم سے جوڑنے میں کیوں ناکام نظر آتی ہے، قیاس آرائیوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ جولائی اور اگست میں کورونا کی سونامی کہیں ارباب ہنر کی ناکامی کا سب سے بڑا اعلان تو نہیں۔


ایسے اعلانات سے عوام میں بے یقینی بڑھے گی، خوف کا عنصر غلبہ پائے گا، غریب لوگ جو کورونا سے ڈرے ہوئے ہیں یہی چاہیں گے کہ حکومت میدان میں آئے، سیاست کو پس پشت ڈال دے، اس کا ہدف صرف اور صرف کورونا سے نمٹنا ہو۔ لوگوں کو یقین ہو کہ حکومت کی حکمت عملی موزوں اور مناسب ہے۔لیکن سچ یہ ہے کہ وفاقی حکومت لاک ڈاؤن کے فلسفے سے متفق نہیں، وزیر اعظم نظری طور پر اس یقین کا اظہار کرچکے ہیں کہ لاک ڈاؤن دنیا سے ختم ہو رہا ہے، لیکن سندھ حکومت سے ویو لینتھ نہیں مل رہی، حکمت عملی میں تضاد کے باعث قوم فکری انتشار کا شکار ہے۔

عندیہ دیا جا رہا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر پھر سے بندش کے بادل منڈلا رہے ہیں، وزیر اعظم بھارت کی مثال دیتے ہیں کہ مودی حکومت نے لاک ڈاؤن کیا تھا اور نتیجہ دیکھ بھی لیا کہ ہلاکتیں بے شمار ہوگئیں، مگر اسی بھارت نے لاک ڈاؤن سے آج تعلق ترک کر لیا، کیسز اگرچہ بہت زیادہ ہیں مگر شاپنگ مالز، مندر اور مساجد کھول دی گئی ہیں، یعنی کورونا کی مائع جاتی صورتحال ہے،کوئی فیصلہ اٹل نہیں، ہر ملک اپنے حالات، عوام کے مزاج، نظم وضبط اور حکومتی سسٹم کے مطابق ایس اوپیز پر عمل پیرا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین، جنوبی کوریا، اٹلی، فرانس، ایران اور امریکا میں لاک ڈاؤن سے53 کروڑ افراد کورونا سے محفوظ رہے۔

ادھر مہاراشٹر میں کیسز کی تعداد چین سے تجاوز کرگئی، اس سیاق و سباق میں نیوزی لینڈ نے خود کو کورونا سے آزاد ہونے والا پہلا ترقی یافتہ ملک ڈیکلیئر کردیا، پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے لیے نیوزی لینڈ کی پیش قدمی سسٹم کو فالو کرنے کے حوالہ سے ایک بڑا دھچکا ہے، پاکستان کو نیوزی لینڈ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو ایک برمودا ٹرائنگل جیسے بھنور کا سامنا ہے جس میں ایک طرف حکومت و ریاستی مشینری کو ملکی معیشت کی بحالی اور22 کروڑ اہل وطن کی صحت کے تحفظ کا اعصاب شکن چیلنج درپیش ہے تو دوسری جانب قرضوں کے بڑھتے ہوئے کمر توڑ بوجھ، وفاقی بجٹ آئی ایم ایف سفارشات سے فائنل کرنے کا فیصلہ جب کہ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ ہدایت کہ حکومت کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کرے کیونکہ یہ وبا پریس کانفرنسوں سے نہیں ٹل سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب دیگر ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں؟

وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کورونا کبھی ختم نہیں ہوتا، البتہ پھیلاؤ میں کمی آتی ہے۔ امریکا میں اس وباء سے ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوئے، انھوں نے لاک ڈاؤن ختم کر دیا، امیر ملک بھی اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ لاک ڈاؤن مسئلہ کا حل نہیں۔ ہمیں بھی لاک ڈاؤن کے دوران مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کورونا وباء تیزی سے نہیں پھیلے گی تو اسپتالوں پر دباؤ بھی نہیں بڑھے گا، صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی سے اس وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رواں ماہ کے آخر تک ایک ہزار آکسیجن بیڈز کا بندوبست کر لیں گے۔

بہر حال حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ریت میں سر چھپانے کی کوشش نہیں کر رہی، مگر حکومت کہیں نظر بھی تو نہیں آرہی، اس نازک وقت میں امریکی خاتون بلاگر سنتھیا رچی کے رومانٹک قصے چھیڑے جارہے ہیں، تجزیہ کار اس مہم جوئی کے سنگین خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں، بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پٹرول کا بحران جاری رہا تو ملک انتشار کا شکار ہوجائیگا۔

عالمی بینک کے مطابق دنیا کو ڈیڑھ سو سال کی معاشی تباہی کا سامنا ہے، قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات میں انکشاف ہوا کہ جون تا دسمبر2018-19 پاکستان نے 88 ٹریلین قرضہ لیا ہے۔ قوم اپنا تن داغ داغ لٹا چکی، اس پر چاروں طرف سے سنگ باری کا سماں ہے۔ حکمراں پلیز وقت کا دھارا بدلیں۔ وحشتیں کم ہونی چاہئیں۔

 
Load Next Story