کورونا سے معاشی صورتحال میں ابتری
سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو دیوار سے لگانے کی دیوانگی نے بھی حکمرانوں کو اندھی گلی میں دھکیل دیا ہے
سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو دیوار سے لگانے کی دیوانگی نے بھی حکمرانوں کو اندھی گلی میں دھکیل دیا ہے
ISLAMABAD:
صحت کے بیدار اور حقیقت آشنا حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے عالمی ادارہ صحت نے بادی النظر میں پاکستان پر کورونا وائرس کو روکنے میں نا سمجھی، غفلت، نااہلیت اور عاقبت نااندیشی کی فرد جرم عائد کردی ہے، حقیقت میں وفاق مارچ یعنی کورونا کے ابتدائے آفرینش سے موثر لاک ڈاؤن کی رٹ صوبوں پر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، وزیر اعظم کی ٹیم کو کورونا سے زیادہ اہم ٹاسک شاید دیے گئے، ملک سیاسی اور معاشی دلدل میں پھنستا چلا گیا، کوئی مربوط سماجی ومعاشی پالیسی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو دیوار سے لگانے کی دیوانگی نے بھی حکمرانوں کو اندھی گلی میں دھکیل دیا ہے، کوئی صائب رائے دینے والا یونانی فلسفی ''سسرو'' دستیاب نہیں، سب باون گزے وزیر اعظم کو نیک اور چونکا دینے والے مشورے دے رہے ہیں، کورونا کو ایک خوفناک دیو بناکر طبی دنیا کو بھی مایوسیوں کا شکار بنا دیا گیا ہے جب کہ ارباب اختیار ٹویٹ اور ٹاک شوز سے کورونا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے رہے، جو اب ایک ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ میڈیا کے مطابق نیب نے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز عامر محمود کیانی اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایات پر تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل کرنا پاکستان کے لیے ضروری نہیں۔
در اصل کورونا کو ایک بلائے بے درماں Monster بنانے میں ہمارے باتدبیر وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی کا بھی اہم کردار ہے، چنانچہ صحت سے وابستہ فرنٹ لائن افرادی قوت اور پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ جو کام ہیلتھ سسٹم کی نگرانی اور معالجاتی اداروں اور تجربہ کار ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بنیادی ذمے داری تھی وہ فرائض بھی سیاست کی نذر ہوئے، کورونا پر سیاست کے نئے در کھلے حالانکہ جس دکھی انسانیت کی خدمت کا ایک شاندار باب حکومت اپنی دانشمندی سے رقم کرواسکتی تھی وہ مواقع بھی بیدردی سے ضایع کیے گئے۔
جن بزرجمہروں کا صحت سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا ان کے کاندھوں پر بھی بھاری ذمے داریاں ڈالی گئیں، ظاہر ہے تکنیکی نزاکتوں اور انتظامی و پیشہ ورانہ باریکیوں سے چشم پوشی برتی گئی اور سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں نے جمہوری رویے سے سراسر گریز کیا گیا، ملک سیاسی جنگل بنا دیا گیا، ریاست کے اندر ایک متحرک، متفقہ، نتیجہ خیز صحت میکنزم کے فقدان نے وہ ناگزیر مرکزیت ختم کردی جو کورونا سے نمٹنے کے لیے اشد ضروری تھی، اگر حکومت تدبر اور حکمت ودانش سے کام لیتی، مخالفانہ اقدامات کو سردست روک کر قوم کو ایک جاں فزا پیغام دیتی اور اپنے عمل سے سب کو متحد کر دیتی تو نتائج مختلف ہوتے، عدلیہ کی پکار بھی نہیں سنی گئی جو پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے دل سوزی کے ساتھ ریمارکس دیتی رہی ہے۔
دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور کورونا کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے 6 شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے اور پاکستان لاک ڈاؤن خاتمے کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کے نام لکھے گئے خط میں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا، پاکستان کورونا سے متاثرہ 10سر فہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے، یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کی اہلیت بے حد ضروری ہے، پاکستان 2 ہفتے لاک ڈاؤن، 2 ہفتے نرمی کی پالیسی اختیارکرے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا مریض26 فروری کو سامنے آیا اب وبا ملک کے تمام اضلاع میں پھیل چکی ہے، بڑے شہروں میں کورونا کیسز بڑی تعداد میں ہیں۔
لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے یقینی بنایا جائے کہ وبا مکمل کنٹرول میں ہے اور ہیلتھ سسٹم ہر کیس کی تشخیص، ٹیسٹ اور علاج کا اہل ہو۔ پاکستان قرنطینہ، سماجی فاصلے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے اقدامات اٹھائے اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریسس نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ عالمی سطح پر کورونا کیسز بدستور بڑھ رہے ہیں یورپ میں کورونا کیسز میں کمی ہوگئی ہے۔ یورپ کے بعد برازیل کورونا وائرس کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے یورپ میں کورونا کیسز میں کمی کو تسلی بخش قرار دیا۔
بلاشبہ وقت کی ضرورت تھی کہ مختلف الخیال عناصر اپنی ناتدبیریوں سے وبا کو ہلاکت خیز نہ بناتے، مگر انھوں نے نرالی راہیں نکالیں، اور حکومت کو الجھا کر رکھ دیا، ادارے ایک پیج پر ہوںگے تو پالیسیوں پر عمل درآمد میں دشواریاں کم ہوںگی، مگر جب حکومت کا ذہن خود کئی چیزوں میں الجھا ہوا ہو تو بہت سے معاملات کاروبار ریاست کے لیے ناقابل بیان چیلنجز بن جاتے ہیں، یہی صورت حال حکومت کو درپیش ہے، سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی اور اپنے من پسند احکامات اور منطق پر عمل کیا، جو انجام کار ہر مناسب اقدام پر بھی بلڈوزر پھیر گئے۔
اب لازم ہے کہ حکومت معیشت، کورونا اور ریاستی اہداف اور عالمی سیناریو کے سیاق وسباق میں پیش رفت کرے، مسئلہ صرف کورونا سے نمٹنے کا نہیں، وزیر اعظم عمران خان اک دست تہہ سنگ قسم کی صورت حال سے چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں، ان پر ناگفتہ بہ حالات اور قوم سے کیے گئے وعدوں کا زبردست بوجھ ہے، ملک کھربوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری بے قابو جب کہ پٹرول کی قلت سے شہری پریشان ہیں، اس قلت کے معمہ کی بھی اپنی ایک اقتصادی اور کاروباری پیچیدگی ہے، لوگ سمجھ نہیں پائے کہ دنیا میں پٹرول اتنا سستا ہوا کہ بے مول ہوگیا، پھر عالمی آئل مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا۔
ان ملکی آئل کمپنیوں نے اپنا اسٹاک پرانے اور سستے ریٹ کے تناسب سے محفوظ کیا تھا اب انھیں بھی مسابقتی عوامل کا سامنا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں گرنے کے فائدے کی ترسیلات زر میں کمی نے نفی کردی ہے، حکومت عوام کو سستے تیل کے حقیقی ثمرات نہیں دے سکی، الٹا ملک بھر کے پٹرول پمپوں سے پٹرول غائب ہوگیا، گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خطرہ سے بچنے کے لیے گندم امپورٹ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، سنا ہے مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی دستیابی کی صورت حال بہتر ہوگی، ادھر چینی مافیا کی گردن ناپنے کے لیے حکومت کے لیے مافیا کی شناخت کا مسئلہ بھی گھمبیرتا ہے، تاہم حکومت کا عزم ہے کہ چینی مافیا کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے، لیکن اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔
ٹڈیوں کی ایک بار پھر یلغار کا بگل بجنے والا ہے، ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ٹڈی دل کسی مزید ہولناکی کے انتظار میں ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت بھی بس انتظار میں ہے، کوئی ایسی حکمت عملی یا لائحہ عمل جس سے ٹڈی دل کا صفایا ہو وہ نظر نہیں آتی، ٹڈیوں کی مقامی کھپت اور تجارتی افادیت کا معاملہ بھی محض حکومتی تجاویز تک محدود ہے۔ بلوم برگ نے ٹڈیوں کے حملے کو کورونا سے بڑا بحران قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اس سے معاشی کساد بازاری بھی جنم لے سکتی ہے، فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بہر کیف دیکھنا یہ ہے کہ وفاق کے ساتھ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں ٹڈیوں کو ٹھکانے لگانے میں کس حد تک اشتراک عمل سے کام لیتی ہیں، ٹڈیوں نے بھارت اور ایران کی طرف اڑان بھرنے کا بھی ٹائم ٹیبل نہیں دیا ہے۔
جہاں تک زمینی حالات کا تعلق ہے یا خطے اور عالمی تناظر میں موجود چیلنجز کی سنگینی ہے اس باب میں اب کسی کے پاس کوئی معقول دلیل یا حکمت عملی اور بیانیہ نہیں ہے بجز عذر لنگ کے۔ صحت مبصرین کے مطابق صوبوں نے دیدہ دلیری یا چالاکی سے لاک ڈاؤن، فیس ماسک، سماجی فاصلہ اور بھیڑ سے گریز کی واضح رہنما ہدایات سے مجرمانہ چشم پوشی پر نرمی دکھائی، بازاروں میں ہجوم دکھائی دیا، اور کورونا کے بتدریج پھیلاؤ کے خطرات سے چشم پوشی کی جس کی آج پوری قوم کو بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے، یہ صحت نظام کی کھلی شکست اور عالمی ادارہ کے سامنے ملک کی سبکی ہوئی ہے۔
پاکستان کورونا کی عدالت میں بطور مجرم دسویں ملک کی فہرست میں شامل ہے۔ اس افسوس ناک صورت حال میں وہ تمام عناصر اور ادارے ذمے دار ہیں جو کورونا پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل کے عظیم بریک تھرو سے قاصر رہے، وزیر اعظم کی صحت ٹیم اس ادارہ جاتی اہلیت اور کامیابی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جس میں نیوزی لینڈ کی ایک خاتون وزیر اعظم نے کسی قسم کی سیاسی مہم جوئی اور بڑھک بازی سے دور رہتے ہوئے ایک قومی فریضہ سمجھ کر اپنی قوم کو دنیا کے سامنے سرخرو کیا۔ کاش ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں ہوتی۔
صحت کے بیدار اور حقیقت آشنا حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے عالمی ادارہ صحت نے بادی النظر میں پاکستان پر کورونا وائرس کو روکنے میں نا سمجھی، غفلت، نااہلیت اور عاقبت نااندیشی کی فرد جرم عائد کردی ہے، حقیقت میں وفاق مارچ یعنی کورونا کے ابتدائے آفرینش سے موثر لاک ڈاؤن کی رٹ صوبوں پر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، وزیر اعظم کی ٹیم کو کورونا سے زیادہ اہم ٹاسک شاید دیے گئے، ملک سیاسی اور معاشی دلدل میں پھنستا چلا گیا، کوئی مربوط سماجی ومعاشی پالیسی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی۔
سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو دیوار سے لگانے کی دیوانگی نے بھی حکمرانوں کو اندھی گلی میں دھکیل دیا ہے، کوئی صائب رائے دینے والا یونانی فلسفی ''سسرو'' دستیاب نہیں، سب باون گزے وزیر اعظم کو نیک اور چونکا دینے والے مشورے دے رہے ہیں، کورونا کو ایک خوفناک دیو بناکر طبی دنیا کو بھی مایوسیوں کا شکار بنا دیا گیا ہے جب کہ ارباب اختیار ٹویٹ اور ٹاک شوز سے کورونا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے رہے، جو اب ایک ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ میڈیا کے مطابق نیب نے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز عامر محمود کیانی اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایات پر تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل کرنا پاکستان کے لیے ضروری نہیں۔
در اصل کورونا کو ایک بلائے بے درماں Monster بنانے میں ہمارے باتدبیر وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی کا بھی اہم کردار ہے، چنانچہ صحت سے وابستہ فرنٹ لائن افرادی قوت اور پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ جو کام ہیلتھ سسٹم کی نگرانی اور معالجاتی اداروں اور تجربہ کار ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بنیادی ذمے داری تھی وہ فرائض بھی سیاست کی نذر ہوئے، کورونا پر سیاست کے نئے در کھلے حالانکہ جس دکھی انسانیت کی خدمت کا ایک شاندار باب حکومت اپنی دانشمندی سے رقم کرواسکتی تھی وہ مواقع بھی بیدردی سے ضایع کیے گئے۔
جن بزرجمہروں کا صحت سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا ان کے کاندھوں پر بھی بھاری ذمے داریاں ڈالی گئیں، ظاہر ہے تکنیکی نزاکتوں اور انتظامی و پیشہ ورانہ باریکیوں سے چشم پوشی برتی گئی اور سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں نے جمہوری رویے سے سراسر گریز کیا گیا، ملک سیاسی جنگل بنا دیا گیا، ریاست کے اندر ایک متحرک، متفقہ، نتیجہ خیز صحت میکنزم کے فقدان نے وہ ناگزیر مرکزیت ختم کردی جو کورونا سے نمٹنے کے لیے اشد ضروری تھی، اگر حکومت تدبر اور حکمت ودانش سے کام لیتی، مخالفانہ اقدامات کو سردست روک کر قوم کو ایک جاں فزا پیغام دیتی اور اپنے عمل سے سب کو متحد کر دیتی تو نتائج مختلف ہوتے، عدلیہ کی پکار بھی نہیں سنی گئی جو پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے دل سوزی کے ساتھ ریمارکس دیتی رہی ہے۔
دریں اثنا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور کورونا کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے 6 شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے اور پاکستان لاک ڈاؤن خاتمے کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کے نام لکھے گئے خط میں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا، پاکستان کورونا سے متاثرہ 10سر فہرست ممالک میں شامل ہو گیا ہے، یومیہ 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کی اہلیت بے حد ضروری ہے، پاکستان 2 ہفتے لاک ڈاؤن، 2 ہفتے نرمی کی پالیسی اختیارکرے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا مریض26 فروری کو سامنے آیا اب وبا ملک کے تمام اضلاع میں پھیل چکی ہے، بڑے شہروں میں کورونا کیسز بڑی تعداد میں ہیں۔
لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے یقینی بنایا جائے کہ وبا مکمل کنٹرول میں ہے اور ہیلتھ سسٹم ہر کیس کی تشخیص، ٹیسٹ اور علاج کا اہل ہو۔ پاکستان قرنطینہ، سماجی فاصلے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے اقدامات اٹھائے اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریسس نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ عالمی سطح پر کورونا کیسز بدستور بڑھ رہے ہیں یورپ میں کورونا کیسز میں کمی ہوگئی ہے۔ یورپ کے بعد برازیل کورونا وائرس کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے یورپ میں کورونا کیسز میں کمی کو تسلی بخش قرار دیا۔
بلاشبہ وقت کی ضرورت تھی کہ مختلف الخیال عناصر اپنی ناتدبیریوں سے وبا کو ہلاکت خیز نہ بناتے، مگر انھوں نے نرالی راہیں نکالیں، اور حکومت کو الجھا کر رکھ دیا، ادارے ایک پیج پر ہوںگے تو پالیسیوں پر عمل درآمد میں دشواریاں کم ہوںگی، مگر جب حکومت کا ذہن خود کئی چیزوں میں الجھا ہوا ہو تو بہت سے معاملات کاروبار ریاست کے لیے ناقابل بیان چیلنجز بن جاتے ہیں، یہی صورت حال حکومت کو درپیش ہے، سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی اور اپنے من پسند احکامات اور منطق پر عمل کیا، جو انجام کار ہر مناسب اقدام پر بھی بلڈوزر پھیر گئے۔
اب لازم ہے کہ حکومت معیشت، کورونا اور ریاستی اہداف اور عالمی سیناریو کے سیاق وسباق میں پیش رفت کرے، مسئلہ صرف کورونا سے نمٹنے کا نہیں، وزیر اعظم عمران خان اک دست تہہ سنگ قسم کی صورت حال سے چومکھی لڑائی لڑ رہے ہیں، ان پر ناگفتہ بہ حالات اور قوم سے کیے گئے وعدوں کا زبردست بوجھ ہے، ملک کھربوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، مہنگائی اور بیروزگاری بے قابو جب کہ پٹرول کی قلت سے شہری پریشان ہیں، اس قلت کے معمہ کی بھی اپنی ایک اقتصادی اور کاروباری پیچیدگی ہے، لوگ سمجھ نہیں پائے کہ دنیا میں پٹرول اتنا سستا ہوا کہ بے مول ہوگیا، پھر عالمی آئل مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا۔
ان ملکی آئل کمپنیوں نے اپنا اسٹاک پرانے اور سستے ریٹ کے تناسب سے محفوظ کیا تھا اب انھیں بھی مسابقتی عوامل کا سامنا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں گرنے کے فائدے کی ترسیلات زر میں کمی نے نفی کردی ہے، حکومت عوام کو سستے تیل کے حقیقی ثمرات نہیں دے سکی، الٹا ملک بھر کے پٹرول پمپوں سے پٹرول غائب ہوگیا، گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خطرہ سے بچنے کے لیے گندم امپورٹ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، سنا ہے مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی دستیابی کی صورت حال بہتر ہوگی، ادھر چینی مافیا کی گردن ناپنے کے لیے حکومت کے لیے مافیا کی شناخت کا مسئلہ بھی گھمبیرتا ہے، تاہم حکومت کا عزم ہے کہ چینی مافیا کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے، لیکن اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔
ٹڈیوں کی ایک بار پھر یلغار کا بگل بجنے والا ہے، ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ ٹڈی دل کسی مزید ہولناکی کے انتظار میں ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت بھی بس انتظار میں ہے، کوئی ایسی حکمت عملی یا لائحہ عمل جس سے ٹڈی دل کا صفایا ہو وہ نظر نہیں آتی، ٹڈیوں کی مقامی کھپت اور تجارتی افادیت کا معاملہ بھی محض حکومتی تجاویز تک محدود ہے۔ بلوم برگ نے ٹڈیوں کے حملے کو کورونا سے بڑا بحران قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اس سے معاشی کساد بازاری بھی جنم لے سکتی ہے، فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بہر کیف دیکھنا یہ ہے کہ وفاق کے ساتھ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں ٹڈیوں کو ٹھکانے لگانے میں کس حد تک اشتراک عمل سے کام لیتی ہیں، ٹڈیوں نے بھارت اور ایران کی طرف اڑان بھرنے کا بھی ٹائم ٹیبل نہیں دیا ہے۔
جہاں تک زمینی حالات کا تعلق ہے یا خطے اور عالمی تناظر میں موجود چیلنجز کی سنگینی ہے اس باب میں اب کسی کے پاس کوئی معقول دلیل یا حکمت عملی اور بیانیہ نہیں ہے بجز عذر لنگ کے۔ صحت مبصرین کے مطابق صوبوں نے دیدہ دلیری یا چالاکی سے لاک ڈاؤن، فیس ماسک، سماجی فاصلہ اور بھیڑ سے گریز کی واضح رہنما ہدایات سے مجرمانہ چشم پوشی پر نرمی دکھائی، بازاروں میں ہجوم دکھائی دیا، اور کورونا کے بتدریج پھیلاؤ کے خطرات سے چشم پوشی کی جس کی آج پوری قوم کو بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے، یہ صحت نظام کی کھلی شکست اور عالمی ادارہ کے سامنے ملک کی سبکی ہوئی ہے۔
پاکستان کورونا کی عدالت میں بطور مجرم دسویں ملک کی فہرست میں شامل ہے۔ اس افسوس ناک صورت حال میں وہ تمام عناصر اور ادارے ذمے دار ہیں جو کورونا پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل کے عظیم بریک تھرو سے قاصر رہے، وزیر اعظم کی صحت ٹیم اس ادارہ جاتی اہلیت اور کامیابی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جس میں نیوزی لینڈ کی ایک خاتون وزیر اعظم نے کسی قسم کی سیاسی مہم جوئی اور بڑھک بازی سے دور رہتے ہوئے ایک قومی فریضہ سمجھ کر اپنی قوم کو دنیا کے سامنے سرخرو کیا۔ کاش ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں ہوتی۔