ملکی معیشت اور بجٹ ترجیحات

ہم اس سچائی سے آخرکیسے انکار کرسکتے ہیں کہ کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت متاثر ہورہی ہے۔

ہم اس سچائی سے آخرکیسے انکار کرسکتے ہیں کہ کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت متاثر ہورہی ہے۔ فوٹو، فائل

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں 2.1 فیصد جی ڈی پی شرح نمو اور نیشنل ڈویلپمنٹ آؤٹ لے کم کرتے ہوئے ایک ہزار 300 ارب روپے کی منظوری دی گئی، یہ اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

دراصل کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، لہذا بجٹ پیش کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ آمدن واخراجات کے لیے مقامی ذرایع پر انحصارکرنا ہوگا جب کہ زمینی حقائق کے مطابق پیداواری شعبوں کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی طور پراس قدر وسائل موجود نہیں ہیں۔ دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک اورحکومت پاکستان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، جس کے تحت اے ڈی بی30 کروڑ ڈالر قرض اور 50لاکھ ڈالر امدادکی صورت میں دے گا۔

یہ خبر کسی حد تک خوش آیند سہی لیکن صورتحال روز بروز جتنی سنگین ہوتی جا رہی ہے اس کا اندازہ ایک عام فردکو بھی ہورہا ہے۔ تیرہ سو ارب کا ترقیاتی بجٹ اجلاس میں منظورکرتے ہوئے ترقیاقی منصوبوں کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں میں بھرپورتعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ روزگارکے بہتر مواقعے، زراعت ، صحت اور تعلیم بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔حکومتی ترجیحات اور وزیراعظم کا وژن اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے اوراس میں شک وشبہ کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد پاکستان کی جانب سے اقدامات پر آئی ایم ایف زیادہ خوش نہیں ہے جب کہ ہماری حکومت بھی مجبورہے کہ وہ آئی ایم ایف کے احکامات کی پیروی کرے، لہذا آنے والے بجٹ سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ممکن ہے ۔ ہمارے پاس ایسے کوئی اعدادوشمار اور حقائق موجود نہیں ہیں، جن کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مالی طور پر کمزور افراد کی کفالت اور غذائی وطبی ضروریات پوری ہوسکیں گی۔

دراصل مختلف اشیا پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی شرح مہنگائی کا باعث ہیں جیسا کہ ٹماٹرکی درآمد پر ساڑھے پانچ فیصد انکم ٹیکس' سبزی پر کسٹم ڈیوٹی یا سیلز ٹیکس نہیں لیکن پیازکی درآمد پر حکومت بیس فیصد سیلز ٹیکس اور ساڑھے پانچ فیصد انکم ٹیکس وصول کرتی ہے، آلو پر حکومت پچیس فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی، سترہ فیصد سیلز ٹیکس اور درآمد پر ساڑھے پانچ فیصد انکم ٹیکس لیتی ہے۔اسی طرح گندم پر ساٹھ فیصد ڈیوٹی، گندم سے بنے آٹے پر پچیس فیصد ، چینی پر چالیس فیصد اور بغیر ہڈی گوشت پر پانچ فیصد ڈیوٹی نافذ ہے، بجٹ سے قبل یا بعد میں ان بنیادی اشیاء پر عائد ڈیوٹی اور محصولات ختم کرنا عوام کو فوری ریلیف پہنچانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

ہم اس سچائی سے آخرکیسے انکار کرسکتے ہیں کہ کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت متاثر ہورہی ہے۔ ملکی صنعتکاروں نے وفاقی حکومت سے آیندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی اورگیس کے بلوں میں ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ شرح سود کو پانچ فیصد تک لانے، ایمپورٹ ڈیوٹی میں کمی کے مطالبات پیش کیے ہیں تاکہ خام مال باآسانی ایمپورٹ کیا جاسکے۔ صنعتکاروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران انھوں نے حکومت کا مکمل ساتھ دیا تھا، اب حکومت کوچاہیے کہ وہ ان کا بھی خیال رکھے اور بجٹ میں ریلیف دیتے ہوئے حکومت بینکوں سے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمہ کا بھی اعلان کرے۔

ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ حکومت دوسرے برس بھی بیشتر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوئی ہے، کورونا سے ملکی معیشت کو 2500 ارب کا نقصان ہوچکا ہے، اور شرح نمو 68 برس بعد منفی اعشاریہ 4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملکی معاشی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ حکومت پہلے برآمدی سیکٹر سے 17فیصد سیلز ٹیکس وصول کررہی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتکاروں کا خطیر سرمایہ حکومت کے پاس پھنس کر رہ جاتا ہے۔

ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو مدنظر رکھنا ہوگا اورخدشات یہ ہیں کہ جب تک عام آمی کی معیشت ومعاشرت کو بحال کرنے کے لیے حکومتی امدادی پیکیج کے ثمرات عملاً دکھائی دینا شروع نہیں ہو جاتے، اس وقت تک زبانی دعوؤں اور اعلانات سے خاطرخواہ بہتری و تبدیلی نہیں آئے گی۔


اسٹیٹ بینک کے مطابق سترہ مارچ سے اب تک 96 ارب کے قرضے دے کر 9 لاکھ 27 ہزار افرادکی نوکریاں بچالی گئیں، تین ماہ کے دوران نہ صرف شرح سود 525 بیسس پوائنٹس کم کی گئی بلکہ 491 ارب روپے کے قرضوں کی ادائیگیاں بھی موخرکی گئیں۔ایک ایسے وقت میں جب ملک میں بیروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے،یقیناً وباء کے دوران روزگارکے تحفظ کے لیے یہ اقدامات لائق تحسین ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میںتیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ، 54 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں 36ارب 72کروڑ کا اضافہ ہوگیا۔ کاروباری دورانیے میں ایک موقعے پر 310 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی ، نتیجتاً کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100انڈیکس 261 پوائنٹس کے اضافے سے 35065 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

ایسا محسوس ہوتاہے وطن عزیز میں ہرروزایک نیا بحران جنم لیتا ہے، چینی اور آٹا بحران کے بعد اب ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران جاری ہے، بیشترچھوٹے پٹرول پمپس مکمل بند ہیں۔ بڑے پٹرول پمپس مالکان موٹر سائیکل سوارکو ایک سوروپے اورگاڑی سوارکوایک ہزار روپے کا پٹرول فروخت کر رہے ہیں،جب کہ غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں اور شاپس کی چاندی ہوگئی ہے انھوں نے پٹرول120 روپے لیٹر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے، جب کہ عوام بوتلوں اورکینز میں منت سماجت کے ساتھ پٹرول مہنگے داموں گھر لے جانے پر مجبور ہیں۔ یہ بحران کیوں پیدا ہوا ہے اوراس کا ذمے دارکون ہے؟

اس ضمن میں تاحال خاموشی ہے اوراس بحران پر قابو پانے کے تمام حکومتی دعوے نقش برآب ثابت ہوئے ہیں۔ آنیوالے دنوں میں ملک میں بڑے غذائی بحران کے خدشات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ سچ پوچھیں تواس وقت مزدور طبقہ پس چکا ہے، عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، یہ سب کیا ہو رہا ہے، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔ حکومت نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران بجلی کے بلوں میں جس ریلیف کا اعلان کیا تھا ، اب وہی ریلیف شدہ بل ادا نہ کرنے پر صارفین کے میٹرکاٹے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

کسانوں کی مشکلات بھی روزبروز بڑھتی جارہی ہیں۔گندم کی خریداری ابھی جاری ہے پھر بھی گندم کی قیمت 2 ہزار فی من تک پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف لاک ڈاؤن کھول کر ملکی معیشت بحال کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں دوسری طرف پرائیویٹ اسکولز بند ہونے سے لاکھوں لوگ بے روزگارہو چلے ہیں۔ جب تک مختلف مافیازکا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک عوام کو ریلیف ملنا مشکل نظر آرہا ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، اموات کی شرح اور متاثرہ مریضوں کی تعداد انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہیں پرائیوٹ اور سرکاری سیکٹر میں قائم اسپتالوں میں مریضوں سے لوٹ مار کر سلسلہ بھی جاری ہے۔ کورونا وائرس میں مبتلا وینٹی لیٹر پرپڑے مریض کے لیے دو انجکشن لگوانا انتہائی ضروری ہوتا ہے یہ انجکشنزمارکیٹ میں دستیاب نہیں ، اسپتالوں کا عملہ تیس ہزار روپے کے ایک انجکشن کو تین لاکھ روپے تک بھی فروخت کررہا ہے۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ کیسی سفاکیت ہے یہ ہماری۔یقین جانیے، اس وقت ملک میں خوف وہراس کی فضا بھی پیدا ہو رہی ہے، ہر شخص خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے ۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے انتہائی منفی اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ انسانی زندگیوں اور روزگار دونوں کو بچانے اور ان کے درمیان توازن رکھنے کے لیے حکومتی سطح پرمزید اقدامات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ دراصل ہم معیشت کے لحاظ سے کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں آتے ہیں۔ ہماری آبادی کا دوتہائی حصہ روزانہ آمدنی پرگزر بسرکرتا ہے۔کیا ایسی صورتحال میں ہم اب دوبارہ لاک ڈاؤن کے متحمل ہوسکتے ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہے،کیونکہ عملًا ایسا ممکن نہیں ہے۔

وطن عزیزمیں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد بھی روز بروز بڑھ رہی ہے، یقیناً ٹیکنالوجی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں، یہ ایک امید افزا بات ہے، لیکن دوسری جانب سوشل میڈیا پرکسی بھی قسم کا کنٹرول نہ ہونے کے سبب غلط معلومات کا ایک سیلاب بھی آرہا ہے،جس کی وجہ سے لوگوں تک غلط معلومات پہنچ رہی اوروہ گمراہ ہورہے ہیں۔کورونا وائرس کی وبا نے اب تک چار لاکھ سے زائد افراد کو نگل لیا ہے لیکن ایسی پوسٹیں اور ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں کورونا کے وجود سے مکمل انکارکیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے، ایسے میں ایسی پوسٹیں انتہائی خطرناک ہیں۔

ہم پہلے بھی ان سطورکے ذریعے مطالبہ کرچکے ہیں کہ حکومتی سطح پرآگاہی پروگرام کی انتہائی کمی ہے، مثلًا 95 فیصد لوگوں کو لفظ ''ایس او پیز'' کا مطلب ہی پتہ نہیںہے تو بھلا وہ اس پر عمل کیا کریں گے۔ دوسری جانب ایک ایسا طبقہ جو عوام کو انتہائی خوفزدہ کررہا ہے کہ جیسے ہم سب بہت جلد مرنے والے ہیں۔ حکومت عام فہم زبان میں احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کے بارے میں شعور بیدارکرے تو وبا کی شدت پر بآسانی قابو پایا جاسکے گا۔ یہی ہماری بقا کا واحد راستہ ہے جسے ہمیں لازمی طور پر اپنانا ہے۔
Load Next Story