وزیراعظم کا گلگت بلتستان کا دورہ
گلگت بلتستان فلک بوس پہاڑی چوٹیوں، خوبصورت وادیوں اور چشموں کی سرزمین ہے۔
گلگت بلتستان فلک بوس پہاڑی چوٹیوں، خوبصورت وادیوں اور چشموں کی سرزمین ہے۔ فوٹو : فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کو پاکستان کے شمالی صوبے گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے تحفظ پاکستان آرڈیننس نافذ کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت فرقہ واریت، اغوأ برائے تاوان، قتل و غارت اور دیگر گھنائونے جرائم میں ملوث ملزموں کو فوری سزائیں دلوانے کے لیے عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ شاہراہ ریشم چین کے ساتھ زمینی آمد و رفت اور تجارت کا سب سے اہم راستہ ہے جس پر دہشت گردی کی وارداتوں کی شکایات پر وزیر اعظم نے کہا کہ اس شاہراہ کو مکمل طور پر محفوظ و مامون بنانے کے لیے گلگت بلتستان میں اسپیشل فورس بنائیں گے۔ وزیر اعظم نے یہاں یوتھ بزنس لون پروگرام کا اعلان بھی کیا جس کے تحت 21 سے 45 سال کی عمر کے افراد کو 20 لاکھ روپے تک کے قرضے آسان شرائط پر دیے جائیں گے۔ گلگت بلتستان میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ چلاس میں غیرملکی سیاحوں کو قتل کرنے والے17 ملزمان میں سے11 کو ماسٹر مائنڈ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔
نواز شریف نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کے لیے گزشتہ سال 8 ارب روپے دیے گئے تھے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ پیسہ قوم کی امانت سمجھتے ہوئے دیانتداری سے استعمال کیا جائے۔ انھوں نے کہا ایمانداری سے جو کام ہو گا وہ دیرپا ہو گا۔ وزیر اعظم نے یہ اعلان بھی کیا کہ یہاں کاشغر سے لے کر گوادر تک موٹر وے طرز کی سڑک بنے گی جب کہ ریلوے لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ گلگت بلتستان میں امراض قلب کے علاج کا اسپتال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اب دل کے مریضوں کو علاج کے لیے اسلام آباد اور خیبر پختونخوا نہیں جانا پڑے گا۔ سکردو اور گلگت کے لیے فضائی سروس بہتر بنانے کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پی آئی اے کے لیے نئے طیارے خرید رہی ہے جس سے فضائی سروس بہتر ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ دیامر بھاشا، داسو اور بونجی ڈیم پر کام جلد شروع ہو گا۔ ان منصوبوں سے پندرہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہو گی۔ نوجوان قرضہ اسکیم میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے زمین کے حصول میں سست روی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل ماہ رواں میں مکمل ہونا چاہیے۔
گلگت بلتستان ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت پسماندہ خطہ ہے، اس سرزمین میں جو وسائل ہیں، انھیں اگر منصوبہ بندی کے تحت استعمال میں لایا جائے تو اس سے نہ صرف گلگت بلتستان میں خوشحالی آ سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان فلک بوس پہاڑی چوٹیوں، خوبصورت وادیوں اور چشموں کی سرزمین ہے۔ پاکستانی اور غیرملکی سیاحوں کے لیے اس علاقے میں بے پناہ کشش ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کا دورہ کر کے اور یہاں مختلف ترقی منصوبوں کا جو اعلان کیا ہے اگر ان پر عمل ہو جائے تو اس خطے کے عوام کو بہت زیادہ سہولتیں میسر آ جائیں گی۔ گلگت اور بلتستان کی خوشحالی کے لیے پہلا کام انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ذرائع مواصلات جس قدر ترقی یافتہ ہوں گے، سیاحوں کے لیے یہاں تک پہنچانا اتنا ہی آسان ہو گا۔ اس وقت اگر کوئی سیاح گلگت و بلتستان کے کسی مقام تک جانا چاہے تو اسے کئی دن لگ جاتے ہیں۔ پھر سردیوں میں یہ علاقہ ملک سے کٹ جاتا ہے۔
اگر سڑکیں، ٹیلی فون کا نظام، توانائی اور ہوائی سروس ترقی یافتہ ہو اور راستے سارا سال کھلے رہیں تو بلتستان میں معاشی سرگرمیاں حیران کن حد تک تیز ہو سکتی ہیں۔ سیاحوں کی آمد ہو گی تو یہاں ہوٹلنگ کی صنعت ترقی کرے گی جس کی بدولت علاقے کے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کو ان کے علاقے میں روزگار مل جائے گا۔ گھریلو دستکاری کی صنعت میں ترقی ہو گی۔ پولٹری کی صنعت بھی ترقی کرے گی۔ دوسرے لفظوں میں اگر پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحت کی صنعت کو ہی منصوبہ بندی سے آگے بڑھایا جائے تو ان علاقوں میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سیاحت کی صنعت سے اس علاقے میں ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہو گی۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک سیاحت کی صنعت سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاحت کی صنعت سے اربوں روپے سالانہ کما رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی معیشت کا انحصار ہی سیاحت پر ہے۔ اس طرح پاکستان بھی چاہے تو اس صنعت سے اربوں روپے کما سکتا ہے۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن، چترال، سوات وغیرہ بھی سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر فاٹا میں بھی امن ہو جائے تو وہاں بھی سیاحت کی صنعت سے اربوں روپے کی کمائی ممکن ہے۔ بہرحال ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے پہلی شرط امن و امان کا قیام اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گلگت میں قیام امن کے لیے اسپیشل فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ درست اقدام ہے۔ چلاس میں دہشت گردی کی واردات نے اس علاقے کی سیاحت کی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حکومت کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔ اس طرح فاٹا میں امن قائم کرنے اور خوشحالی لانے کے لیے یہاں دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ وہاں آئینی اور قانونی اصلاحات لانا بھی ضروری ہے۔ فاٹا کو بھی آئین و قانون کے تابع کر کے ہی ترقی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
نواز شریف نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کے لیے گزشتہ سال 8 ارب روپے دیے گئے تھے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ پیسہ قوم کی امانت سمجھتے ہوئے دیانتداری سے استعمال کیا جائے۔ انھوں نے کہا ایمانداری سے جو کام ہو گا وہ دیرپا ہو گا۔ وزیر اعظم نے یہ اعلان بھی کیا کہ یہاں کاشغر سے لے کر گوادر تک موٹر وے طرز کی سڑک بنے گی جب کہ ریلوے لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ گلگت بلتستان میں امراض قلب کے علاج کا اسپتال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اب دل کے مریضوں کو علاج کے لیے اسلام آباد اور خیبر پختونخوا نہیں جانا پڑے گا۔ سکردو اور گلگت کے لیے فضائی سروس بہتر بنانے کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پی آئی اے کے لیے نئے طیارے خرید رہی ہے جس سے فضائی سروس بہتر ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ دیامر بھاشا، داسو اور بونجی ڈیم پر کام جلد شروع ہو گا۔ ان منصوبوں سے پندرہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہو گی۔ نوجوان قرضہ اسکیم میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے زمین کے حصول میں سست روی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل ماہ رواں میں مکمل ہونا چاہیے۔
گلگت بلتستان ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت پسماندہ خطہ ہے، اس سرزمین میں جو وسائل ہیں، انھیں اگر منصوبہ بندی کے تحت استعمال میں لایا جائے تو اس سے نہ صرف گلگت بلتستان میں خوشحالی آ سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان فلک بوس پہاڑی چوٹیوں، خوبصورت وادیوں اور چشموں کی سرزمین ہے۔ پاکستانی اور غیرملکی سیاحوں کے لیے اس علاقے میں بے پناہ کشش ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کا دورہ کر کے اور یہاں مختلف ترقی منصوبوں کا جو اعلان کیا ہے اگر ان پر عمل ہو جائے تو اس خطے کے عوام کو بہت زیادہ سہولتیں میسر آ جائیں گی۔ گلگت اور بلتستان کی خوشحالی کے لیے پہلا کام انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ذرائع مواصلات جس قدر ترقی یافتہ ہوں گے، سیاحوں کے لیے یہاں تک پہنچانا اتنا ہی آسان ہو گا۔ اس وقت اگر کوئی سیاح گلگت و بلتستان کے کسی مقام تک جانا چاہے تو اسے کئی دن لگ جاتے ہیں۔ پھر سردیوں میں یہ علاقہ ملک سے کٹ جاتا ہے۔
اگر سڑکیں، ٹیلی فون کا نظام، توانائی اور ہوائی سروس ترقی یافتہ ہو اور راستے سارا سال کھلے رہیں تو بلتستان میں معاشی سرگرمیاں حیران کن حد تک تیز ہو سکتی ہیں۔ سیاحوں کی آمد ہو گی تو یہاں ہوٹلنگ کی صنعت ترقی کرے گی جس کی بدولت علاقے کے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کو ان کے علاقے میں روزگار مل جائے گا۔ گھریلو دستکاری کی صنعت میں ترقی ہو گی۔ پولٹری کی صنعت بھی ترقی کرے گی۔ دوسرے لفظوں میں اگر پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحت کی صنعت کو ہی منصوبہ بندی سے آگے بڑھایا جائے تو ان علاقوں میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ سیاحت کی صنعت سے اس علاقے میں ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہو گی۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک سیاحت کی صنعت سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاحت کی صنعت سے اربوں روپے سالانہ کما رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی معیشت کا انحصار ہی سیاحت پر ہے۔ اس طرح پاکستان بھی چاہے تو اس صنعت سے اربوں روپے کما سکتا ہے۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن، چترال، سوات وغیرہ بھی سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر فاٹا میں بھی امن ہو جائے تو وہاں بھی سیاحت کی صنعت سے اربوں روپے کی کمائی ممکن ہے۔ بہرحال ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے پہلی شرط امن و امان کا قیام اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے گلگت میں قیام امن کے لیے اسپیشل فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ درست اقدام ہے۔ چلاس میں دہشت گردی کی واردات نے اس علاقے کی سیاحت کی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حکومت کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔ اس طرح فاٹا میں امن قائم کرنے اور خوشحالی لانے کے لیے یہاں دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ وہاں آئینی اور قانونی اصلاحات لانا بھی ضروری ہے۔ فاٹا کو بھی آئین و قانون کے تابع کر کے ہی ترقی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔