امن کیلیے اے پی سی بلائی جائےحکومت کی تجویز

علمااہم کردارادا کر سکتے ہیں،ندیم افضل،موثرحکمت عملی بنائی جائے،سعدرفیق۔

علمااہم کردارادا کر سکتے ہیں،ندیم افضل،موثرحکمت عملی بنائی جائے،سعدرفیق، فوٹو: فائل

KANDAHAR:
ایوان زیریں میںبدھ کوملک میں امن وامان کی صورتحال پرتفصیلی بحث کی گئی ۔

اجلاس ڈپٹی چیئرمین فیصل کنڈی کی زیر صدارت تاخیر سے شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت کے خاتمے کیلیے علمائے کرام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،رویوں میں بہتری لائیں توکسی کوبھی جمہوریت پرحملہ آورہونے کی جرات نہیں ہوگی، امن و امان کے قیام کیلیے حکومت، مسلم لیگ (ن) یا علمائے کرام میں سے کوئی اے پی سی طلب کرنے میں پہل کرے۔سعد رفیق نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے حکومت دیگر معاملات میں الجھنے کے بجائے سیاسی و عسکری قیادت کو اعتماد میں لے کر موثر حکمت عملی وضع کرے۔


انھوں نے کہا کہ حکومت کویہ بھی بتانا ہوگا کہ امریکاجب افغانستان سے جائے گا تو اس وقت کیا حکمت عملی اپنائی جائیگی ،فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت میں ہمارا دشمن ملوث ہے، سیکیورٹی ادارے صورتحال پر قابو کیوں نہیں کر پا رہے۔وزیر انسداد منشیات خدابخش راجڑ نے وقفہ سوالات میں بتایا کہ پاکستان پوست سے پاک ملک قرار دیا جاچکا ہے ۔وزیر تجارت امین فہیم نے بتایا کہ حکومت نے برآمدات بڑھانے کیلیے کئی اقدامات کئے ہیں ۔

وزیر مملکت تسنیم احمد قریشی نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ بجلی چوروں کا تعاقب کریں تو لائن لاسز 80 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، حکومت نے چار برس میں بجلی پر ایک ہزار ارب کی سبسڈی دی ، سب ڈویژن کی سطح پر ایسا نظام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے پتہ چلے گا کہ لائن لاسز کا ذمہ دار کون ہے،سب سے پہلے اسلام آباد میں یہ سسٹم لگایا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے تحریری طور پر بتایا کہ سعودی عرب کی23جیلوں میں 1831پاکستانی قید ہیں جن میں 30خواتین بھی شامل ہیں۔اے پی پی کے مطابق پاکستان کی تنظیم برائے تخلیقی مواد بل 2012ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی جبکہ صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی بل 2011ء مزید مشاورت کیلیے موخرکر دیا گیا۔
Load Next Story