نیا کوچ ملکی ہو یا غیرملکی فرق نہیں پڑیگا محمد حفیظ
ڈیو واٹمور نے ہمارے ساتھ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کام کیا، ٹی 20 کپتان
اگر مجھے بھی مستقبل میں کوئی ذمے داری دی گئی تو اس سے انصاف کرنے کی پوری کوشش کروں گا. فوٹو: رائٹرز/فائل
پاکستان ٹوئنٹی 20 کپتان محمد حفیظ نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کا آئندہ کوچ ملکی ہو یا غیرملکی ، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑیگا۔
واضح رہے کہ دبئی روانگی سے قبل قومی ٹیم کے منیجر معین خان نے میڈیا سے گفتگو میں دیسی کوچ کی حمایت کردی تھی، اس مقصد کیلیے انھوں نے غیرمحسوس طور پر اپنی خدمات بھی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مجھے بھی مستقبل میں کوئی ذمے داری دی گئی تو اس سے انصاف کرنے کی پوری کوشش کروں گا، موجودہ قومی ٹیم کے آسٹریلوی نژاد کوچ ڈیو واٹمور فروری میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے، حفیظ نے کہا کہ واٹمور نے اپنا کام بااحسن انداز میں انجام دیا ، بورڈ کی جانب سے آئندہ کوچ ملکی ہو یا غیرملکی اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑیگا، لیکن میں یہ بات ضرور کہ سکتا ہوں کہ واٹمور نے ہمارے ساتھ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کام کیا ہے۔
کوچ صرف پلیئرز کو بہترین چیزیں بتاسکتا ہے اسکے بعد یہ پلیئرز پر ہوتا ہے کہ وہ اس سے کس انداز میں فائدہ اٹھاپاتے ہیں، معین خان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سے مقامی کوچ کا حامی رہا ہوں، میں نے اس وقت بھی یہ بات کہی تھی جب میں بطور معاون منیجر ٹیم کیساتھ وابستہ ہوا تھا، میری دانست میں پلیئرز مقامی کوچ کی بات کو بخوبی سمجھ پاتے ہیں اور وہ ملکی کرکٹ میں بہتری لانے میں زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے، معین کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں اپنے سابق کرکٹرز کی خدمات سے اس شعبے میں بھی استفادہ کرنا چاہیے، سابق وکٹ کیپر نے یہ بھی کہا تھا کہ میں کسی بھی حیثیت میں ملک کی خدمت کیلیے ہمہ وقت حاضر ہوں۔
واضح رہے کہ دبئی روانگی سے قبل قومی ٹیم کے منیجر معین خان نے میڈیا سے گفتگو میں دیسی کوچ کی حمایت کردی تھی، اس مقصد کیلیے انھوں نے غیرمحسوس طور پر اپنی خدمات بھی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مجھے بھی مستقبل میں کوئی ذمے داری دی گئی تو اس سے انصاف کرنے کی پوری کوشش کروں گا، موجودہ قومی ٹیم کے آسٹریلوی نژاد کوچ ڈیو واٹمور فروری میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے، حفیظ نے کہا کہ واٹمور نے اپنا کام بااحسن انداز میں انجام دیا ، بورڈ کی جانب سے آئندہ کوچ ملکی ہو یا غیرملکی اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑیگا، لیکن میں یہ بات ضرور کہ سکتا ہوں کہ واٹمور نے ہمارے ساتھ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کام کیا ہے۔
کوچ صرف پلیئرز کو بہترین چیزیں بتاسکتا ہے اسکے بعد یہ پلیئرز پر ہوتا ہے کہ وہ اس سے کس انداز میں فائدہ اٹھاپاتے ہیں، معین خان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سے مقامی کوچ کا حامی رہا ہوں، میں نے اس وقت بھی یہ بات کہی تھی جب میں بطور معاون منیجر ٹیم کیساتھ وابستہ ہوا تھا، میری دانست میں پلیئرز مقامی کوچ کی بات کو بخوبی سمجھ پاتے ہیں اور وہ ملکی کرکٹ میں بہتری لانے میں زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے، معین کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں اپنے سابق کرکٹرز کی خدمات سے اس شعبے میں بھی استفادہ کرنا چاہیے، سابق وکٹ کیپر نے یہ بھی کہا تھا کہ میں کسی بھی حیثیت میں ملک کی خدمت کیلیے ہمہ وقت حاضر ہوں۔