وزیر اعظم کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کا عندیہ

بائیس کروڑ آبادی والا ملک جس کے وسائل انتہائی محدود ہیں

بائیس کروڑ آبادی والا ملک جس کے وسائل انتہائی محدود ہیں،

وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ کو لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ کورونا کی صورتحال پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کورونا کو بھی روکنا اورمعیشت کا پہیہ بھی چلانا ہے۔انھوں نے لاہور سمیت پنجاب میں مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے لاک ڈاؤن نہیں اسمارٹ لاک ٹاؤن کی ضرورت ہے۔

اس وقت ملک میں دومختلف طبقہ ہائے فکرکی آراء سامنے آرہی ہیں، پہلے طبقے کی رائے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اور اموات کی شرح خطرناک حدودکو چھورہی ہے، لہذاملک بھر میںکرفیو لگا کر مکمل لاک ڈاؤن کردیا جائے جب کہ دوسرا طبقہ جس کی نمایندگی وزیراعظم کررہے ہیں۔

ان کے مطابق ایسا لاک ڈاؤن نہیں چاہتے جس سے ہر چیز بند ہوجائے،اسی تناظرمیں وزیراعظم نے چند روز سے مکمل لاک ڈاؤن کی گردش کرتی ہوئی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ لاک ڈاؤن سے نیویارک کا دیوالیہ نکل چکا ، سنگا پور اور نیوزی لینڈ سمیت کم آبادی اور زیادہ وسائل والے ممالک نے لاک ڈاؤن کیا کیونکہ وہ برداشت کرسکتے ہیں، ہمارے حالات ان سے مختلف ہیں۔ دونوں آراء کو سامنے رکھتے ہوئے تجزیہ کیا جائے تو وزیراعظم کی رائے میں وزن اور وژن دونوں نمایاں نظر آتے ہیں۔

بائیس کروڑ آبادی والا ملک جس کے وسائل انتہائی محدود ہیں، وہ بھلا کیسے اور کیونکرمسلسل اور سخت ترین لاک ڈاؤن کا متحمل ہوسکتا ہے۔ اعدادوشمارکی روشنی میں دیکھا جائے توملک میں لاکھوں،کروڑوں افراد دیہاڑی دارمزدورہیں، اگر دوبارہ لاک ڈاؤن سے معاشی سرگرمیاں رک جاتی ہیں تو غریب اور دیہاڑی دار طبقہ شدید متاثر ہوگا۔ معاشی صورتحال کو سنبھالا دینے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں کورونا وائرس سے شرح اموات اور متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، کرکٹر شاہدخان آفریدی ، صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے بعد ان کی اہلیہ تہمینہ درانی، رکن پنجاب اسمبلی چوہدری جاویدکوثر ایڈووکیٹ اورجی ڈی اے کی رکن سندھ اسمبلی نسیم راجپربھی حالیہ وبا کا شکار ہوگئیں،جب کہ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقارمہدی ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب زاہد پرویزاقبال گوندل بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

قومی سیاسی قیادت کا کورونا وائرس میں مبتلا ہونا، اس امرکی جانب واضح نشاندہی کررہا ہے کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے اس وائرس سے صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکا اجلاس وفاقی وزیر اسد عمرکی زیر صدارت ہوا جس میں ملک بھر میں کوروناکی صورتحال اور ایس او پیز پر عملدرآمد کاجائزہ لیاگیا، بریفنگ کے دوران بتایا گیاکہ ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور قرنطینہ حکمت عملی کے تحت ملک کی 3لاکھ 8ہزار 600والی آبادی کے لیے 1292 مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔ کوئی لاکھ تنقید کرے، لیکن اسمارٹ لاک ڈاؤن ہی کورونا کے پھیلاؤکو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت نے بلاشبہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے جس کی وجہ سے بتدریج معاشی حالات میں بہتری کے آثار نظر آنا بھی شروع ہوگئے ہیں۔ عوام کی غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ آج مزید پریشان کن حالات کی صورت سامنے آیا ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطلب یہ لیا گیا کہ جیسے کورونا وائرس ختم ہوگیا اور ہر طرح کی گھومنے پھرنے کی آزادی حاصل ہوگئی ہے، لہذا تمام پبلک مقامات پر عوام کا جم غفیر نظرآنے لگا ۔گلی، محلوں میں لوگ پانچ، چھ افرادکی ٹولیوں میں خوش گیپیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ یہی لاپروائی ہمیں لے ڈوبے گی۔ حالت یہ ہے کہ سڑکوں کے کنارے حفاظتی ماسک فروخت کیے جا رہے ہیں، جو دھول اور مٹی سے اٹے ہوتے ہیں۔ بھلا یہ کیونکر وبا سے بچاؤ میں مدد گار ہوسکتے ہیں؟ لہذا ان ماسک کی حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھلے عام فروخت کی ممانعت ہونی چاہیے۔ عوام بھی ذمے داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایس او پیز پر پوری طرح عمل کریں، تاکہ حکومتی کاوشیں ثمرآور ثابت ہوسکیں۔

ظفر مرزا نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں ریمڈیسویر انجکشن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، دو امپورٹرز اور بارہ لوکل مینوفیکچررزکی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ امر درست سہی لیکن عوام کو پریشانی سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے کہ ایکٹیمرا انجکشن کی زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، کیونکہ انجکشنزمہنگے داموں فروخت کرنیوالے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں بلکہ ان سفاک اور بے رحم افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی ضروری ہے۔


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جو دنیا کے تمام ملکوں کی طبی اور وبائی صورتحال کو مانیٹرکرنے کے بعد حفاظتی ہدایات جاری کرتی ہے، اس کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلامریض کے ٹھیک ہونے کے بعد بھی دوبارہ اس وائرس کا شکار ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ کئی لوگ ٹھیک ہونے کے بعد دوبارہ اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں، لہٰذا احتیاط ہی اس سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔

اسی طرح جن گھرانوں میں زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں وہاں بھی اس کے پھیلاؤکا خطرہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یہ شعور بیدارکرنے کی ضرورت ہے کہ عوام بہت زیادہ احتیاط کریں، ماسک لازمی لگائیں، اگر آپ صحت مند ہیں توآپ کوکوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے لیبز میں جاکر رش نہ لگائیں۔ طبی ماہرین کے مطابق گھر میں جگہ تنگ ہو تو مریض ماسک کا استعمال کریں، اپنے گھر والوں سے دور رہیں اور بار، بار ہاتھ دھوئیں،رش والی جگہوں میں پرجانے سے گریزکریں۔

عوام ان تمام باتوں پر عمل پیرا ہوکر اپنی قیمتی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ اس امرکی جانب دوبارہ مبذول کروانا ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے،کیونکہ ملک بھرمیں طبی عملے کی ایک بہت بڑی تعداد اس وائرس سے روزانہ کی بنیاد پر متاثر ہورہی ہے۔اب تک پچاس کے قریب ڈاکٹرز بھی اس وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں، خدانخواستہ یہی صورتحال برقرار رہی تو مریضوں کا علاج کون کرے گا؟ حکومت اس حوالے سے فوری قانون سازی کرے، وفاقی وصوبائی حکومتوں پر وبا سے نمٹنے کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، انھیں آپس میں کوآرڈینیشن کے تحت کام کرنا چاہیے۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کوسیلوٹ پیش کرنا خوش آیند عمل سہی لیکن ان کی جانوں کا تحفظ کرنا بھی حکومت وقت کی ذمے داری ہے۔

جاں بحق ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لواحقین کو امدادی رقوم کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،اسپتالوں میں حفاظتی سازوسامان کی کمی کو دورکرنے سے عوام کو بہتر طبی سہولتیں میسر آئیں گی۔

حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاںکمی کی ہے، لیکن دوسری جانب مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ پاکستان کے تمام چھوٹے، بڑوں شہروں میں پیٹرول کی مصنوعی قلت برقرار ہے جو مسلسل دوسرے ہفتے بھی جاری ہے،غیر قانونی طور پر پیٹرول فروخت کرنے والے افراد منہ مانگے دام وصول کررہے ہیں۔ موٹرسائیکل رکشہ، پرائیویٹ موٹرگاڑیاں اور رینٹ اے کار والوں کو پیٹرول کی مصنوعی قلت کی وجہ سے اپنے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہورہا ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ نجی آئل کمپنیزکو صرف نوٹس جاری کرنے کے علاوہ عملی اقدامات بھی اٹھائیں تاکہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی آسکے۔

حکومتی وزراء حالیہ بجٹ کو مشکل ترین حالات میں بہترین بجٹ قراردے رہے ہیں جب کہ اپوزیشن جماعتیں اسے تنقیدکا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی شرح 8.49 فی صد ہوگئی ہے، جس کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے، تمام ترحکومتی دعوؤں کے باوجود مہنگائی کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات غیر موثر ثابت ہورہے ہیں۔ ملک میں کورونا وبا کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور اوپر سے مہنگائی کی شرح میں اضافے نے ان کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔

ایک اور حقیقت سے بھی ہم نظریں نہیں چراسکتے کہ بیرونی ممالک میں مقیم لاکھوں محنت کش افراد جو قیمتی زرمبادلہ اپنے وطن باقاعدگی سے ارسال کرکے ملکی معیشت کو سہارا دیتے تھے، ان کی ایک تعداد بے روزگار ہوکر وطن واپس لوٹ رہی ہے۔

حکومت کو سنجیدگی سے مہنگائی کی شرح کم کرنے پر اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے ، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیے تاکہ عوام کومہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا مل سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا کورونا پر رویہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے ، وفاقی حکومت نے ٹیکس فری اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے،اپوزیشن کو تنقید برائے تنقید زیب نہیں دیتی ، جب کہ سندھ کے وزیر اطلاعا ت، بلدیات اور ترجمان سندھ حکومت نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی بجٹ کو مایوس کن قراردیتے ہوئے اسے مسترد کردیا اورکہا کہ وفاقی بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔

وفاقی بجٹ میں صوبوں بالخصوص سندھ کے ساتھ وفاق کا رویہ درست نہیں، رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کو اس کے شیئرسے 234 ارب روپے کم دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے صوبہ کی ترقی پرمنفی اثر پڑے گا۔

بلوچستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم میں ترمیم قبول نہیں، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو اس کا حصہ دیا جائے، صوبے سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ہماراالمیہ یہ ہے کہ ہماری تمام سیاسی جماعتیں اور حکومت ایک پیج پر نہیں ہیں، سیاسی محاذ آرائی جاری ہے جب کہ یہ وقت باہمی رنجشوں کو بھلا کرمتحد ہونے کا ہے۔
Load Next Story