’’لاک ڈاؤن معمہ کیوں‘‘

حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بڑھ گیا ہے۔ فوٹو، فائل

کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حقیقت میں حکومت نے جن انتباہات اور ڈیڈ لائنزکا جو حوالہ دیا ہے سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کے مطابق جولائی اور اگست کو ہولناک دورانیے سے تعبیرکیا گیا ہے، جس میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرکے مطابق اس وقت ڈیڑھ لاکھ کورونا مریض ہیں، رواں ماہ کے آخر تک یہ تعداد 3 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سینٹر میں اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں ان کاکہنا تھا عوام سے بار بار اپیل کی گئی کہ احتیاط کریں۔ وفاقی وزیرکا کہنا تھا ہے کہ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا حفاظتی اقدامات سے کورونا پر قابو پایا جا سکتاہے تاہم موجودہ صورتحال برقرار رہی اوراحتیاط نہ کی گئی تو جولائی کے آخر تک یہ تعداد10سے 12لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

اس بیانیہ کی روشنی میں جو پیغام عوام یا کورونا سے متاثرہ افراد تک پہنچا ہے اس میں خوف اور سنسنی کی ملی جلی کیفیت ہے، عوام کو ریاستی سہولتوں میں جو سب سے بنیادی رعایتیں اور سہولتیں ملنی چاہئیں ان میں زندگی کے تحفظ، علاج معالجے اور شفاف ترین ہیلتھ سسٹم سے مربوط مراعات اور مسیحائی کی بیش بہا نعمت شامل ہے۔

اسی تناظر میں کورونا سے بے بس عوام اس انتظار میں ہیں کہ ارباب اختیار عالمی ادارہ صحت کے اعلانات کا انتظار اور ان کی تعمیل میں اپنی ساری توانائی صرف نہ کریں بلکہ یہ دیکھیں کی ملکی ہیلتھ سسٹم عوام کو وائرس سے بچانے میں کہاں تک کامیاب رہا ہے، لیکن حقیقت اس قدر تلخ ہے کہ کورونا کے مسئلہ کا کوئی تسلی بخش حل پیش کرنے کے بجائے سارا انحصار مختلف رپورٹوں اور اعلانات پر ہے جب کہ اعلانات کی افراط وتفریط نے ایک عام آدمی کا ذہن منتشر کردیا ہے۔

ایک طرف اسد عمر کا بیانیہ ہے جو اگست تک پاکستان میں کورونا کی لاشیں دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزاکا کہنا ہے کہ اگست تک کورونا کیکیسز 10لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں، ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق کورونا سے جنوبی ایشیا کے70 کروڑ لوگ غربت کا شکار ہیں۔کسی رپورٹ کی تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ عالمی معیشت کو 9000 ارب ڈالرکے نقصان کا سامنا ہے۔

دریں اثنا ملک میں کورونا وائرس کیسز میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ24گھنٹوں کے دوران6363نئے مریض سامنے آنے سے مجموعی ایک لاکھ42 ہزار306 جب کہ مزید67ہلاکتوں کے بعد مجموعی 2664 ہو گئی ہیں۔

برطانیہ کے امپیریل کالج کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا سے پاکستان میں 22 لاکھ اموات کا خدشہ ہے، تفصیل میں کہا گیا کہ اگر 27 فروری تا 11جولائی لاک ڈاؤن ہو، تو اگست میں ایک کروڑ 35 لاکھ مریض ہوتے، رپورٹ کے مطابق10اگست کو وبا عروج پر ہوگی پھر اس میں کمی آنا شروع ہوگی،جنوری2021 میں وائرس کا خاتمہ ہوگا،اگر لاک ڈاؤن ہو تو 26 جنوری 2021 میں 21لاکھ، نہ ہو تو 22 لاکھ سے زائد اموات ہونگی، یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اگر فوری لاک ڈاؤن کردیا جاتا تو اس عرصہ میں 10 ہزار1200 اموات ہوتیں۔


عجب سانپ سیڑھی کا کھیل ہے۔ پھر بھارت کی طرف رجوع کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جنوری تک 1.36 کروڑ ہلاکتیں ہونگی، رپورٹ کے مطابق بھارت میں لاک ڈاؤن کے بغیر 25 جنوری 2021 تک ایک کروڑ سے زائد افراد مریں گے۔

یوں عالمی سناریو بھی موت کی پیشگوئیوں، قیاس آرائیوں سے مزین رہا اور صحت ماہرین اچھے خاصے نجومی بن گئے، یہی مائنڈ سیٹ ہمارے حکمرانوں کا بھی ہوچکا ہے کہ وہ مسیحائی میں عافیت وخیریت اور زندگی کی دعا دینے سے زیادہ موت سے ڈرانے لگے ہیں، ہم پہلے بھی کورونا کی دہشت انگیز پیش قدمی اور اس کی ہلاکت خیزی کا ذکر کرچکے ہیں تاہم تیمارداری اور مسیحائی کے اس آفاقی اصول کو دہرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹرکبھی اپنے مریض کو موت سے نہیں ڈراتا، وہ آخری لمحے تک اس کو زندگی کی دوا اور دعا دیتا ہے، مگر کورونا کی ڈکشن نے شاید نیا بیانیہ دیا ہے کہ ''مرنا تو ایک دن ہے ڈرنے سے فائدہ کیا، شکوہ گلہ کسی سے کرنے سے فائدہ کیا۔

لہذا پاکستان کے کورونا کیسز کا حل ڈھونڈنے میں اب بھی ناقابل بیان مشکلات درپیش ہیں اور مکمل اتفاق رائے ڈاکٹروں، صحت حکام، اداروں اور عالمی ادارہ صحت کے حفظ مراتب میں بھی نہیں ہے، ادارہ نے پاکستان کے لاک ڈاؤن فلسفہ کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور نئے لاک ڈاؤن اور نان لاک ڈاؤن میعاد کی بھی ہدایت کردی، لیکن ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ایسی کسی ہدایت پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔

بہرحال یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج حکمراں ایک مربوط لاک ڈاؤن پالیسی پر قومی اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے، پاکستان میں کورونا کیسز ایک لاکھ 39 ہزار 230 سے بڑھ گئے ہیں، احتیاطی تدابیر اگرچہ بہت ہی سادگی کے ساتھ عوام الناس کو سمجھائی جا سکتی ہیں، ماسک استعمال کرنے ہاتھ نہ ملانے، ہجوم سے گریز کرنے اور صابن سے ہاتھوں کو بار بار دھونے کی موبیلائزیشن مہم حکومت کو اب تک تو چلا لینی چاہیے تھی، مگر ارباب اختیار جواب دیں کہ انھوں نے ان یورپی ملکوں میں کتنے وفود صرف اس مقصد سے بھیجے کہ انھوں نے لاک ڈاؤن کرکے یا اس کے بغیرکیسے کورونا سے نجات حاصل کی۔

حکومت اور اس کی صحت ٹیم نے عوام کو کنفیوژ کیا، اکثر نے خود ماسک پہننے تک کی زحمت نہیں کی۔ اسی عوامی بے اعتباری کے باعث ملک میں کورونا سے بچائیو کے لیے ہدایات کے حوالے سے کنفیوژن پھیلا۔ اس میں صوبائی حکومتوں کی بے سمتی کا بڑا عمل دخل ہے، وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کو ایک معمہ بنا رکھا ہے، اس سے متعلق اتنی ساری دیومالائی ضرورتوں کا جال اورکہانیاں پھیلا رکھی ہیں کہ ایس او پیز اور حفاظتی احتیاط کی سادہ تفصیل بھی کسی ہارر فلم سے کم نہیں، نتجہ یہ نکلا ہے کہ وفاق نے سندھ کے تین بڑے اسپتال اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں، اس پر تنازع شدت اختیار کرسکتا ہے، سندھ حکومت نیا محاذ کھول سکتی ہے،مگر وفاقی کے اس استدلال کو رد کرنا مشکل ہے کہ سندھ حکومت نے ان اسپتالوں کو سسٹم مہیا نہیں کیا۔افراتفری برقرار رہی۔

وفاقی وزیر اسد عمر کے مطابق سماجی فاصلے پر عملدرآمد ضروری ہے،حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد نہ ہونے سے وبا پھیلی، خلاف ورزی پر کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ حکومت جولائی کے آخر تک 2ہزار150آکسیجن بیڈ فراہم کرے گی، دو روز سے یومیہ 30ہزار ٹیسٹ ہو رہے ہیں، 4سے 6ہفتوں میں یہ صلاحیت ڈیڑھ لاکھ تک لے جائینگے۔اسمارٹ لاک ڈاؤن کا دائرہ وسیع کریں گے، پنجاب حکومت مخصوص علاقوں کے متعلق اعلان کریگی۔

سندھ، پنجاب میں 500 بستر اور کے پی میں 400 آکسیجن بستروں کا اضافہ کیاجائے گا، کورونا کو پھیلنا ہے لیکن اس کی رفتارکم کرنی ہے تاکہ صحت کا نظام دباؤ میں نہ آئے،حکومت شہریوں کی زندگی کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہی ہے، وہ غریبوں کی مدد کرنے میں کامیاب ہوئی تاہم جہاں کورونا کیس زیادہ ہوں گے وہاں لاک ڈاؤن کریں گے، پابندیاں لگائی جائیں گی۔ سب درست،اقدامات بجا، مگرکورونا سے حتمی نجات کا حل کیا ہے،اس پر اتفاق رائے کب پیدا ہوگا۔

 
Load Next Story