ڈبلیو ٹی او کا عالمی تجارت میں اضافے کا معاہدہ پاکستان میں2ارب ڈالر اضافے کی توقع
اس معاہدے کے تحت ماہرین کے مطابق عالمی معیشت میں10 کھرب ڈالر تک اضافہ ممکن ہوسکے گا۔
معاہدے کے تحت تجارت کے طریقہ کارکو سادہ بنایا گیا ہے فوٹو: اے ایف پی/فائل
عالمی تجارتی تنظیم 'ڈبلیو ٹی او'نے تجارت کو فروغ دینے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا عالمی معاہدہ کیا ہے۔
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت ماہرین کے مطابق عالمی معیشت میں10 کھرب ڈالر تک اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ اس معاہدے کے تحت تجارت کے طریقہ کارکو سادہ بنایا گیا ہے جس میں غریب ممالک کواپنا سامان فروخت کرنے میں آسانی ہو گی۔ بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو واکر کے مطابق یہ معاہدہ ڈبلیو ٹی او کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اسے نئے تجارتی معاہدے کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ سنیچر کی صبح 159 ممالک کے وزرائے تجارت کے درمیان طویل بات چیت کے بعد اس معاہدے پر اتفاق ہوا۔عالمی تجارتی تنظیم 'ڈبلیوٹی او' کی جانب سے عالمی تجارت کے فروغ کے لیے منظور کردہ معاہدے سے پاکستان کی تجارت میں 2 ارب ڈالر سالانہ اضافہ ہوگا تاہم اس کے مقابلے میں بھارت کی تجارت میں 18 اور چین کی تجارت میں 98 ارب ڈالر سالانہ اضافہ ہوگا۔
معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ امریکا اور چین کو ہوگا کیونکہ عالمی تجارت میں سب سے زیادہ حصہ ان ممالک کا ہے ، ڈبلیو ٹی او نے پاکستان کے تحفظات کے پیش نظر بھارت کو فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے دی جانے والی چھوٹ پر سخت شرائط عائد کی ہیں ۔ وزارت تجارت کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ عالمی تجارتی معاہدے کیلیے مذاکرات میں پاکستان نے بھرپور انداز میں اپنا موقف پیش کیا اور اپنے خدشات دور کرنے کے لیے سخت شرائط منوانے میں بھی کامیاب رہا ۔ بین الاقوامی تجارت میں پاکستان کا حصہ صرف 0.18 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں بھارت کا حصہ 1.8 فیصد اور چین کا 9.8 فیصد ہے ۔ اگرنئے عالمی تجارتی معاہدے سے بین الاقوامی تجارت میں سالانہ 10کھرب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کی عالمی تجارت میں 2 ارب ڈالرسالانہ اضافہ ہوگا تاہم اس کے برعکس بھارت کی تجارت میں 18ارب ڈالر اور چین کی تجارت میں 98ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ ہوگا ۔
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت ماہرین کے مطابق عالمی معیشت میں10 کھرب ڈالر تک اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ اس معاہدے کے تحت تجارت کے طریقہ کارکو سادہ بنایا گیا ہے جس میں غریب ممالک کواپنا سامان فروخت کرنے میں آسانی ہو گی۔ بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو واکر کے مطابق یہ معاہدہ ڈبلیو ٹی او کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اسے نئے تجارتی معاہدے کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ سنیچر کی صبح 159 ممالک کے وزرائے تجارت کے درمیان طویل بات چیت کے بعد اس معاہدے پر اتفاق ہوا۔عالمی تجارتی تنظیم 'ڈبلیوٹی او' کی جانب سے عالمی تجارت کے فروغ کے لیے منظور کردہ معاہدے سے پاکستان کی تجارت میں 2 ارب ڈالر سالانہ اضافہ ہوگا تاہم اس کے مقابلے میں بھارت کی تجارت میں 18 اور چین کی تجارت میں 98 ارب ڈالر سالانہ اضافہ ہوگا۔
معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ امریکا اور چین کو ہوگا کیونکہ عالمی تجارت میں سب سے زیادہ حصہ ان ممالک کا ہے ، ڈبلیو ٹی او نے پاکستان کے تحفظات کے پیش نظر بھارت کو فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے دی جانے والی چھوٹ پر سخت شرائط عائد کی ہیں ۔ وزارت تجارت کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ عالمی تجارتی معاہدے کیلیے مذاکرات میں پاکستان نے بھرپور انداز میں اپنا موقف پیش کیا اور اپنے خدشات دور کرنے کے لیے سخت شرائط منوانے میں بھی کامیاب رہا ۔ بین الاقوامی تجارت میں پاکستان کا حصہ صرف 0.18 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں بھارت کا حصہ 1.8 فیصد اور چین کا 9.8 فیصد ہے ۔ اگرنئے عالمی تجارتی معاہدے سے بین الاقوامی تجارت میں سالانہ 10کھرب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کی عالمی تجارت میں 2 ارب ڈالرسالانہ اضافہ ہوگا تاہم اس کے برعکس بھارت کی تجارت میں 18ارب ڈالر اور چین کی تجارت میں 98ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ ہوگا ۔