بینگوائی میں فسادات جاری 2 دن میں 300 افراد مارے گئے

وسط افریقی ملک میں حالات انتہائی کشیدہ،سیکڑوں افراد زخمی، فرانس نے قیام امن کیلیے فوجی ساز و سامان بھیج دیا

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کا کہنا ہے کہ 650 فوجی فوری طور پر بینگوئی بھیج دیے ۔فوٹو:رائٹرز/فائل

وسط افریقی ریاست جمہوریہ بینگوئی میں مسلم عیسائی فسادات کے باعث ہفتے کو دوسرے دب بھی حالات انتہائی کشیدہ رہے اور2 روز کے دوران تشدد کے واقعات میں ہلاکتیں 300 سے بڑھ گئیں جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بینگوئی میں کام کرنے والی عالمی ریڈ کراس کے سربراہ اینٹونی مبائو بوگو کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران گزشتہ رات تک ان کی تنظیم کے ارکان نے شہر کے مختلف علاقوں سے 821 لاشیں اکٹھی کرلی تھیں جبکہ رات ہوجانے کے باعث کام روک دیا گیا۔ سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعت کے بعد ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے علاقے میں امن بحال کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں فرانس کے سیکڑوں فوجی اہلکار وہاں پہنچ رہے ہیں۔




فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کا کہنا ہے کہ 650 فوجی فوری طور پر بینگوئی بھیج دیے اور یہ تعداد چند دنوں میں دگنی کر دی جائے گی۔ ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ برطانیہ وسطی افریقی جمہوریہ میں فرانس اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ مشن کی مدد کیلیے ایک سی17ٹرانسپورٹ طیارہ دے گا جس کے ذریعے فرانسیسی آلات بھیجے جائیں گے۔واضح رہے کہ ملک پر اس وقت مسلمانوں کا کنٹرول ہے جبکہ اس سے قبل فارغ کیے جانیوالے صدر فرانسوا بوزیزی مسیحی ملیشیاء کے حامی اور انکے جنگجوئوں کے مددگار ہیں۔ بینگوئی میں قیام امن کیلیے افریقن فورسز کی مدد کیلیے مزید 600 فرانسیسی فوجی بھی آگئے ہیں جبکہ فرانسیسی وزارت دفاع نے اپنی اس سابق کالونی جمہوریہ ہنگوئی میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلیے مزید فوجی ساز و سامان بھی پہنچانا شروع کر دیا ہے۔
Load Next Story