سندھ کا امید افزا بجٹ
عوامی مسائل حل کرنے کےلیے مختص فنڈزدرست انداز میں استعمال کیے جائیں تاکہ عوامی زندگی میں بہتری کے آثارنمایاں ہوں
وفاقی بجٹ کے بعد صوبے اپنا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، لامحالہ اس کے اثرات سے صوبے بھی محفوظ نہیں رہ پائے ہیں۔
اگلے روز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 21-2020 کے لیے 12کھرب 41 ارب 12 کروڑ 57 لاکھ روپے کا بجٹ پیش کیا ،جس میں خسارے کا تخمینہ 18 ارب 37 کروڑ 95 لاکھ روپے لگایا گیا۔ سندھ کے بجٹ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیا گیا ہے،گریڈ1 سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور17 سے 22 گریڈ تک کے افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، یہ ایک لائق تحسین عمل ہے۔ وفاقی بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کو یکسر نظرانداز کرکے انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔
ملک میں جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، اس تناظر میں وفاقی حکومت کو نہ صرف سرکاری ملازمین ہے بلکہ پرائیوٹ سیکٹرکے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ میں اضافے پر دوبارہ غورکرناچاہیے، تاکہ ملازمین کو ریلیف مل سکے۔سندھ حکومت نے کورونا رسپانس کے نام سے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے ہیں، محکمہ صحت کے لیے 139.1 ارب روپے رکھے گئے جس میں ترقیاتی بجٹ کا حجم 23 ارب 50 کروڑ روپے ہوگا، تعلیم کے لیے 244.5 ارب روپے میں سے ترقیاتی اسکیموں کے لیے 21 ارب 8 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جب کہ امن و امان کے لیے 113 ارب 87 کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔
بلدیاتی محکموں کے لیے 78 ارب روپے، زراعت کے لیے 10.6ارب روپے، ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، دوسری جانب بجٹ میں ایک بار پھرکراچی کو نظر اندازکرنے کا تاثر نمایاں ہوا ہے،کیونکہ کراچی کے لیے کسی نئے بڑے منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، اس کی ترقی پرصوبائی حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بجٹ اعدادوشمارکا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جوعام آدمی کی سمجھ سے بالاتر شئے ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے، مختص فنڈزدرست انداز میں استعمال کیے جائیں تو عوام کی زندگی میں بہتری کے آثارنمایاں ہوسکتے ہیں۔
اگلے روز وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 21-2020 کے لیے 12کھرب 41 ارب 12 کروڑ 57 لاکھ روپے کا بجٹ پیش کیا ،جس میں خسارے کا تخمینہ 18 ارب 37 کروڑ 95 لاکھ روپے لگایا گیا۔ سندھ کے بجٹ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیا گیا ہے،گریڈ1 سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور17 سے 22 گریڈ تک کے افسران کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، یہ ایک لائق تحسین عمل ہے۔ وفاقی بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کو یکسر نظرانداز کرکے انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔
ملک میں جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، اس تناظر میں وفاقی حکومت کو نہ صرف سرکاری ملازمین ہے بلکہ پرائیوٹ سیکٹرکے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ میں اضافے پر دوبارہ غورکرناچاہیے، تاکہ ملازمین کو ریلیف مل سکے۔سندھ حکومت نے کورونا رسپانس کے نام سے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے ہیں، محکمہ صحت کے لیے 139.1 ارب روپے رکھے گئے جس میں ترقیاتی بجٹ کا حجم 23 ارب 50 کروڑ روپے ہوگا، تعلیم کے لیے 244.5 ارب روپے میں سے ترقیاتی اسکیموں کے لیے 21 ارب 8 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جب کہ امن و امان کے لیے 113 ارب 87 کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔
بلدیاتی محکموں کے لیے 78 ارب روپے، زراعت کے لیے 10.6ارب روپے، ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے 44 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، دوسری جانب بجٹ میں ایک بار پھرکراچی کو نظر اندازکرنے کا تاثر نمایاں ہوا ہے،کیونکہ کراچی کے لیے کسی نئے بڑے منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، اس کی ترقی پرصوبائی حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بجٹ اعدادوشمارکا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جوعام آدمی کی سمجھ سے بالاتر شئے ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے، مختص فنڈزدرست انداز میں استعمال کیے جائیں تو عوام کی زندگی میں بہتری کے آثارنمایاں ہوسکتے ہیں۔