قانون کی حکمرانی آئین کی بالادستی

بہر کیف وکلا کی تنظیوں اور وکلا رہنماؤں نے اسے تاریخی فیصلہ کہا ہے

بہر کیف وکلا کی تنظیوں اور وکلا رہنماؤں نے اسے تاریخی فیصلہ کہا ہے

KARACHI:
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روک دی، عدالت نے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا شوکاز نوٹس بھی خارج کردیا، قاضی فائز عیسیٰ کیس کا 11 صفحات پر مشتمل مختصر مگر تاریخی فیصلہ جاری کردیا گیا، فیصلے میں صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے ایف بی آر کو قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کی جائیدادوں کی چھان بین کر کے75 روز میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست منظور کرتے ہوئے صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا مظہر ہے، عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو وزیر اعظم عمران خان سمیت حکومتی عہدیداروں نے احسن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی کی ہار یا جیت نہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ قانون کی حکمرانی پر قومی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، فیصلہ پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا کیونکہ ابھی قانونی عمل جاری ہے۔


بہر کیف وکلا کی تنظیوں اور وکلا رہنماؤں نے اسے تاریخی فیصلہ کہا ہے اور بروز پیر 22 جون کو ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے، اپوزیشن نے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ۔ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے معاملہ ایف بی آر کو بھجوانے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں کہا کہ پاکستان کے آئین میں عدلیہ کی خود مختاری کو مکمل تحفظ حاصل ہے، آئین پاکستان تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور مساوی برتاؤ کی بات کرتا ہے۔

آئین پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یا کوئی جج یا کوئی انفرادی شخص یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں، کسی جج کیخلاف کاروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، جج کو بھی آئین پاکستان کے تحت حقوق دیے گئے ہیں، مقدمہ کی41 سماعتیں ہوئیں، عدلیہ کے فیصلہ سے سر ونسٹن چرچل کا تاریخی مقولا قابل ذکر ہے جب انھوں نے دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے دوران اہل برطانیہ سے سوال کیا تھا کہ کیا عدالتیں کام کر رہی ہیں اور اگر ایسا ہے تو پھر پریشانی کی کوئی بات نہیں، یہ اعتماد اور اعتبار قانون کی حکمرانی کی اساس ہوا کرتی ہیں، ہماری عدلیہ نے اس سمت بہترین مسافت کرکے قوم کو سرخرو کیا۔
Load Next Story