ناکام ٹریڈ ڈپلومیسی اہم منڈیاں بھارت کے ہاتھ لگنے کا خدشہ
بھارتی لابی موٹرسائیکلوں کی تیاری وامپورٹ کیلیے بھارتی معیارات نافذ کرانے کے لیے سرگرم ہوگئی
بھارتی لابی موٹرسائیکلوں کی تیاری وامپورٹ کیلیے بھارتی معیارات نافذ کرانے کے لیے سرگرم ہوگئی. فوٹو:فائل
پاکستان کی خطے میں ناکام ٹریڈ ڈپلومیسی کے نتیجے میں افغانستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی مارکیٹ مکمل طور پر بھارت کے ہاتھ لگنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ ملنے پر پاکستانی انڈسٹری کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بھارتی لابی بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی موٹرسائیکلوں کی تیاری اور امپورٹ کے لیے بھارتی معیارات نافذ کرانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان سے بنگلہ دیش اور سری لنکا کو موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ بند ہونے کا خدشہ ہے، افغانستان کو پاکستان سے موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ پہلے ہی بند ہوچکی ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھارتی معیارات کے نفاذ کی صورت میں دونوں منڈیاں مکمل طور پر بھارت کے ہاتھ لگ جائیں گی اور پاکستان کو ابھرتی ہوئی دو منڈیوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کے ساتھ آٹو سیکٹر میں آزاد تجارت شروع ہونے کی صورت میں نہ صرف مقامی موٹرسائیکل سازی کی صنعت میں گزشتہ 50سال کے دوران کی جانے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہوجائیگی بلکہ اس شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، لوکلائزیشن اور وینڈر انڈسٹری کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے یورو ٹیکنالوجی کی طرز پر معیارات نافذ کررکھے ہیں ان معیارات کی وجہ سے پاکستانی موٹرسائیکلوں کے لیے بھارتی منڈی تک پہنچ ناممکن بنادی گئی ہے اور اب یہ معیارات خطے کے دیگر ملکوں میں بھی رائج کرانے کی کوششیں جاری ہیں موٹرسائیکل انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان موٹرسائیکلوں کے لیے بھارتی معیارات بنگلہ دیش میں رائج کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے، بھارت پہلے ہی نیپال میں اپنے معیارات رائج کراچکا ہے، بنگلہ دیش میں پاکستانی سرمایہ کاری سے لگائی جانے والی انڈسٹری سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی لابی کے ہاتھ لگ چکی ہے تاہم سری لنکا کی مارکیٹ میں پاکستانی موٹرسائیکل بھارتی موٹرسائیکل سے مقابلہ کررہی ہے اور سری لنکن عوام بھی بھارت کے مقابلے میں پاکستانی موٹرسائیکل کو ترجیح دیتے ہیں تاہم اب سری لنکا کی منڈی بھی ہاتھ سے نکلنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
سری لنکا اور بنگلہ دیش کو جاپانی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ موٹرسائیکل ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کے مطابق تین سال کے دوران پاکستان سے موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ 18ہزار 900یونٹس سے کم ہوکر 8 ہزار 128 یونٹس تک محدود ہوچکی ہے۔ سال 2010-11 کے دوران 13ہزار 557یونٹس، سال 2011-12کے دوران 18ہزار909یونٹس جبکہ سال 2012-13کے دوران 8ہزار 128یونٹس ایکسپورٹ کیے گئے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ ایک ہزار یونٹس تک رہی جس سے رواں مالی سال میں موٹر سائیکلوں کی برآمد میں مزید کمی کا اندازہ لگایا جاچکا ہے۔ افغانستان پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ بن کر ابھر رہا تھا تاہم ایف بی آر اور وزارت خزانہ کی عدم دلچسپی اور پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے کھڑی کی جانے والی مشکلات کے سبب افغانستان کی مارکیٹ بھی بھارت کے ہاتھ لگ گئی ہے۔
افغانستان نے ایکسپورٹ رسید ''گمرک'' کا اجرا کمپیوٹرائزڈ کردیا ہے تاہم پاکستانی اتھارٹیز اب بھی کاغذ کی سند طلب کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ایکسپورٹرز کو ڈیوٹی اور ٹیکسز ریفنڈ نہ ملنے کے سبب شدید مشکلات کا سامنا ہے، اب تک پاکستانی ایکسپورٹرز کے 20کروڑ روپے سے زائد ریفنڈ پھنسے ہوئے ہیں دوسری جانب افغانستان نے خود مقامی سطح پر موٹرسائیکل اسمبلنگ شروع کردی ہے افغانستان میں چین اور بھارت سے پرزہ جات اور سی کے ڈی درآمد کی جارہی ہے، اس طرح پاکستان کے لیے افغان مارکیٹ بھی بند ہونے کے قریب ہے چینی اور جاپانی کمپنیوں نے افغانستان کو ایکسپورٹ بند کردی ہے تاہم متعلقہ پاکستانی ادارے بدستور لاتعلقی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ ملنے پر پاکستانی انڈسٹری کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بھارتی لابی بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی موٹرسائیکلوں کی تیاری اور امپورٹ کے لیے بھارتی معیارات نافذ کرانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان سے بنگلہ دیش اور سری لنکا کو موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ بند ہونے کا خدشہ ہے، افغانستان کو پاکستان سے موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ پہلے ہی بند ہوچکی ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھارتی معیارات کے نفاذ کی صورت میں دونوں منڈیاں مکمل طور پر بھارت کے ہاتھ لگ جائیں گی اور پاکستان کو ابھرتی ہوئی دو منڈیوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کے ساتھ آٹو سیکٹر میں آزاد تجارت شروع ہونے کی صورت میں نہ صرف مقامی موٹرسائیکل سازی کی صنعت میں گزشتہ 50سال کے دوران کی جانے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہوجائیگی بلکہ اس شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، لوکلائزیشن اور وینڈر انڈسٹری کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے یورو ٹیکنالوجی کی طرز پر معیارات نافذ کررکھے ہیں ان معیارات کی وجہ سے پاکستانی موٹرسائیکلوں کے لیے بھارتی منڈی تک پہنچ ناممکن بنادی گئی ہے اور اب یہ معیارات خطے کے دیگر ملکوں میں بھی رائج کرانے کی کوششیں جاری ہیں موٹرسائیکل انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان موٹرسائیکلوں کے لیے بھارتی معیارات بنگلہ دیش میں رائج کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے، بھارت پہلے ہی نیپال میں اپنے معیارات رائج کراچکا ہے، بنگلہ دیش میں پاکستانی سرمایہ کاری سے لگائی جانے والی انڈسٹری سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی لابی کے ہاتھ لگ چکی ہے تاہم سری لنکا کی مارکیٹ میں پاکستانی موٹرسائیکل بھارتی موٹرسائیکل سے مقابلہ کررہی ہے اور سری لنکن عوام بھی بھارت کے مقابلے میں پاکستانی موٹرسائیکل کو ترجیح دیتے ہیں تاہم اب سری لنکا کی منڈی بھی ہاتھ سے نکلنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
سری لنکا اور بنگلہ دیش کو جاپانی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ موٹرسائیکل ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کے مطابق تین سال کے دوران پاکستان سے موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ 18ہزار 900یونٹس سے کم ہوکر 8 ہزار 128 یونٹس تک محدود ہوچکی ہے۔ سال 2010-11 کے دوران 13ہزار 557یونٹس، سال 2011-12کے دوران 18ہزار909یونٹس جبکہ سال 2012-13کے دوران 8ہزار 128یونٹس ایکسپورٹ کیے گئے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں موٹرسائیکلوں کی ایکسپورٹ ایک ہزار یونٹس تک رہی جس سے رواں مالی سال میں موٹر سائیکلوں کی برآمد میں مزید کمی کا اندازہ لگایا جاچکا ہے۔ افغانستان پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ بن کر ابھر رہا تھا تاہم ایف بی آر اور وزارت خزانہ کی عدم دلچسپی اور پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے کھڑی کی جانے والی مشکلات کے سبب افغانستان کی مارکیٹ بھی بھارت کے ہاتھ لگ گئی ہے۔
افغانستان نے ایکسپورٹ رسید ''گمرک'' کا اجرا کمپیوٹرائزڈ کردیا ہے تاہم پاکستانی اتھارٹیز اب بھی کاغذ کی سند طلب کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ایکسپورٹرز کو ڈیوٹی اور ٹیکسز ریفنڈ نہ ملنے کے سبب شدید مشکلات کا سامنا ہے، اب تک پاکستانی ایکسپورٹرز کے 20کروڑ روپے سے زائد ریفنڈ پھنسے ہوئے ہیں دوسری جانب افغانستان نے خود مقامی سطح پر موٹرسائیکل اسمبلنگ شروع کردی ہے افغانستان میں چین اور بھارت سے پرزہ جات اور سی کے ڈی درآمد کی جارہی ہے، اس طرح پاکستان کے لیے افغان مارکیٹ بھی بند ہونے کے قریب ہے چینی اور جاپانی کمپنیوں نے افغانستان کو ایکسپورٹ بند کردی ہے تاہم متعلقہ پاکستانی ادارے بدستور لاتعلقی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔