جنوبی کوریا کا فضائی دفاعی زون میں توسیع کا اعلان چینی بحری کشتیاں متنازع جزیرے میں داخل ہوگئیں
متعلقہ ممالک سے تعاون کیلیے تیار ہیں تاکہ جنگی تصادم سے محفوظ رہا جا سکے، ترجمان وزارت دفاع
متعلقہ ممالک سے تعاون کیلیے تیار ہیں تاکہ جنگی تصادم سے محفوظ رہا جا سکے، ترجمان وزارت دفاع. فوٹو اے ایف پی
KARACHI:
جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی دفاعی حدود میں توسیع کرنے جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں اسی طرح کا اعلان چین نے بھی کیا ہے اور اب اس اعلان سے دونوں ممالک کی فضائی حدود ایک دوسرے میں دخل کے زمرے میں آتی ہیں، اس اعلان کے بعد ایک چٹان اب ایسی ہے جو دونوں ممالک کی فضائی دفاعی حدود میں ہے، اس چٹان پر دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس پر جنوبی کوریا کا قبضہ ہے۔ اس چٹان کو جنوبی کوریا میں 'لیوڈو' کہا جاتا ہے جبکہ چینی اسے 'سویان' کہتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ ممالک سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل چین نے گذشتہ ماہ نئی فضائی دفاعی حدود کی نشاندہی زون کا اعلان کیا تھا جو کہ علاقائی تنازعات کا باعث بنی۔ جنوبی کوریا کی اس وسیع تر زون کا نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا۔ 1951 کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب جنوبی کوریا نے اپنی فضائی دفاعی زون کا از سر نو تعین کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا نے چین کے فضائی دفاعی اعلان کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے غیر اعلانیہ طور پر ان حدود میں اپنے فوجی طیارے بھیجے تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان کم من سیؤک نے بتایا کہ ہم متعلقہ ممالک سے تعاون کریں گے تاکہ جنگی تصادم سے محفوظ رہا جا سکے۔ وزارت دفاع کے مطابق نیا زون اس کے جنوبی ساحل پر پانی میں گھرے پہاڑی علاقے کو احاطہ کرے گا۔ ادھر امریکا نے کہاکہ جنوبی کوریا نے اپنی فضائی دفائی حدود میں توسیع کرنے سے پہلے واشنگٹن کو آگاہ کردیا تھا، امریکی دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان جین پساکی نے کہا کہ جنوبی کوریا کا فیصلہ قابل تحسین ہے کیونکہ اس نے امریکا، جاپان اور چین کو اپنے فیصلے سے قبل آگاہ کیا ہے۔ امریکی ترجمان نے کہا کہ علاقے میں امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہے گا، امریکا خطے میں امن کیلیے کام کرتا رہے گا۔
دوسری طرف چینی بحریہ نے مشرقی سمندری حدود میں فضائی مشقیں کی ہیں، جنگی طیاروں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، چین نے متنازع مشرقی سمندری حدود میں فضائی مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور اظہار کیا ہے، فضائی حملے، دفاع، آپریشن، میزائل کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنانے کی مشق میں درجنوں ہیلی کاپٹروں اور بمبار طیاروں نے حصہ لیا، چین نے ایئر ڈیفنس زون منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کو اس پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ متنازع جزیروں پر ایئر ڈیفنس زون کا منصوبہ تمام عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ آن لائن کے مطابق چین کی 3 کشتیاں جاپان کے زیرکنٹرول متنازع جزیرے میں اتوارکودیکھی گئیں۔ جاپانی حکام کے مطابق یہ کشتیاں بیجنگ کی جانب سے سمندرکے اوپرایئرڈیفنس شناختی زون کے اعلان کے بعدپہلی بارمتنازع جزیرے میں داخل ہوئی ہیں۔ جاپانی وزیراعظم نے کہاکہ سمندری حدود میں چین کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔
جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی دفاعی حدود میں توسیع کرنے جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں اسی طرح کا اعلان چین نے بھی کیا ہے اور اب اس اعلان سے دونوں ممالک کی فضائی حدود ایک دوسرے میں دخل کے زمرے میں آتی ہیں، اس اعلان کے بعد ایک چٹان اب ایسی ہے جو دونوں ممالک کی فضائی دفاعی حدود میں ہے، اس چٹان پر دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس پر جنوبی کوریا کا قبضہ ہے۔ اس چٹان کو جنوبی کوریا میں 'لیوڈو' کہا جاتا ہے جبکہ چینی اسے 'سویان' کہتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ ممالک سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل چین نے گذشتہ ماہ نئی فضائی دفاعی حدود کی نشاندہی زون کا اعلان کیا تھا جو کہ علاقائی تنازعات کا باعث بنی۔ جنوبی کوریا کی اس وسیع تر زون کا نفاذ 15 دسمبر سے ہوگا۔ 1951 کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب جنوبی کوریا نے اپنی فضائی دفاعی زون کا از سر نو تعین کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا نے چین کے فضائی دفاعی اعلان کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے غیر اعلانیہ طور پر ان حدود میں اپنے فوجی طیارے بھیجے تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان کم من سیؤک نے بتایا کہ ہم متعلقہ ممالک سے تعاون کریں گے تاکہ جنگی تصادم سے محفوظ رہا جا سکے۔ وزارت دفاع کے مطابق نیا زون اس کے جنوبی ساحل پر پانی میں گھرے پہاڑی علاقے کو احاطہ کرے گا۔ ادھر امریکا نے کہاکہ جنوبی کوریا نے اپنی فضائی دفائی حدود میں توسیع کرنے سے پہلے واشنگٹن کو آگاہ کردیا تھا، امریکی دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان جین پساکی نے کہا کہ جنوبی کوریا کا فیصلہ قابل تحسین ہے کیونکہ اس نے امریکا، جاپان اور چین کو اپنے فیصلے سے قبل آگاہ کیا ہے۔ امریکی ترجمان نے کہا کہ علاقے میں امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہے گا، امریکا خطے میں امن کیلیے کام کرتا رہے گا۔
دوسری طرف چینی بحریہ نے مشرقی سمندری حدود میں فضائی مشقیں کی ہیں، جنگی طیاروں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، چین نے متنازع مشرقی سمندری حدود میں فضائی مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور اظہار کیا ہے، فضائی حملے، دفاع، آپریشن، میزائل کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنانے کی مشق میں درجنوں ہیلی کاپٹروں اور بمبار طیاروں نے حصہ لیا، چین نے ایئر ڈیفنس زون منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کو اس پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ متنازع جزیروں پر ایئر ڈیفنس زون کا منصوبہ تمام عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ آن لائن کے مطابق چین کی 3 کشتیاں جاپان کے زیرکنٹرول متنازع جزیرے میں اتوارکودیکھی گئیں۔ جاپانی حکام کے مطابق یہ کشتیاں بیجنگ کی جانب سے سمندرکے اوپرایئرڈیفنس شناختی زون کے اعلان کے بعدپہلی بارمتنازع جزیرے میں داخل ہوئی ہیں۔ جاپانی وزیراعظم نے کہاکہ سمندری حدود میں چین کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔