کانگریس کے زوال اور بی جے پی کے عروج کے اشارے

بھارت میں حکمران جماعت کانگریس کو ریاستی انتخابات میں نئی دہلی سمیت چار ریاستوں میں بی جے پی سے شکست کا سامنا کرناپڑا۔

بھارت میں حکمران جماعت کانگریس کو ریاستی انتخابات میں نئی دہلی سمیت چار ریاستوں میں بی جے پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔ فوٹو : فائل

بھارت میں حکمران جماعت کانگریس کو ریاستی انتخابات میں نئی دہلی سمیت چار ریاستوں میں بی جے پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نئی دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں میں سے بی جے پی نے 32 اور کانگریس نے صرف آٹھ نشستیں جیتیں۔ ان دونوں جماعتوں کے مقابلے میں ایک سال قبل انسداد بدعنوانی کے نعرے کے ساتھ وجود میں آنے والی سیاسی جماعت 'عام آدمی پارٹی' نے 28 نشستیں حاصل کر کے بڑا اپ سیٹ کیا اور کانگریس کی شکست کا باعث بنی اور دوسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

مدھیہ پردیش کی 230 نشستوں میں سے 165 بی جے پی نے جب کہ کانگریس نے 58 نشستیں جیتیں' راجستھان اسمبلی کی200 سیٹوں میں162 بی جے پی اور کانگریس نے21 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ ان تین ریاستوں میں بی جے پی نے کانگریس کو بدترین شکست دی البتہ چھتیس گڑھ اسمبلی کی 90 نشستوں میں سے 49 بی جے پی اور 39کانگریس نے حاصل کیں اور اس طرح یہاں بی جے پی کو کانگریس پر دس سیٹوں کی برتری حاصل رہی۔

بھارتی ریاستی انتخابات میں ایک نئی سیاسی صورت حال سامنے آئی ہے اور اعتدال پسند جماعت کانگریس کو انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی نے ایک بار پھر شکست سے دوچار کیا ہے۔ ان انتخابی نتائج سے عیاں ہوتا ہے کہ بھارت میں ووٹر کانگریس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور وہ بی جے پی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند ماضی میں بھی اقتدار میں رہے ہیں لیکن اس وقت کے مرار جی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی جیسے مدبر لیڈروں نے ہندو انتہا پسندی کے رجحانات کو کسی حد تک قابو میں رکھا لیکن اب بی جے پی کی قیادت گجرات کے سابق وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے۔


ان کی وزارت اعلیٰ کے دورمیں گودھرا ٹرین حادثے کے بعد ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا اور بلوائیوں کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی' یوں نریندر مودی مسلمانوں کے شدید مخالف بن کر ابھرے۔ نریندر مودی نے حالیہ ریاستی انتخابی مہم میں بھی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا اور ہندو عوام کی ایک بڑی تعداد کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ حالیہ چار ریاستی انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ آیندہ برس ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہواتو نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم بن جائیں گے۔ اس سے قبل اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی برسراقتدار آئی تھی۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی دعوت پر واجپائی پاکستان تشریف لائے اور یہ امید کی جانے لگی کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ تنازعات باہمی مذاکراتی عمل کے ذریعے خوش اسلوبی سے طے کر لیے جائیں گے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے۔

حیرت کی بات ہے کہ کانگریس جو اعتدال پسند جماعت کے طور پر مشہور ہے، اس کے دور حکومت میں پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات تو ہوتے رہے مگر بات کبھی ان رسمی مذاکرات سے آگے نہ بڑھ سکی بلکہ کانگریس کے دور میں پاکستان مخالفانہ جذبات کو زیادہ ہوا ملی۔ اب ایک بار پھر بی جے پی کے نئی دہلی میں برسراقتدار آنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں، ممکن ہے کہ وہ دشمنی کے جذبات کو ہوا دینے کے بجائے پاکستان سے بہتر تعلقات کا آغاز کر دے۔ دوسری جانب پاکستان میں اب ایک بار پھر میاں نواز شریف کی حکومت ہے جو بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں ایک اہم تبدیلی عمران خان کے بیانات سے آئی ہے جو بھارت سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں تین بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف بھارت سے عداوت کے بجائے بہتر تعلقات قائم کرنا چاہ رہی ہیں۔ کانگریس انتہا پسندوں کے خوف کے باعث پاکستان سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔

تجزیہ نگار قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ بی جے پی ہی وہ قوت ہے جو پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کر سکتی ہے۔ کانگریس بھارت کی بانی جماعت ہے اور بھارت کے قیام کے فوراً بعد حکومت میں آئی۔ وہ ایک طویل عرصے سے بھارت کے تخت پر راج کرتی چلی آ رہی ہے مگر اب یوں لگتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کانگریس کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش جانتے ہوئے اس سے دور ہوتی جا رہی ہے جس کا واضح ثبوت نئی ابھرنے والی جماعت عام آدمی پارٹی ہے جس نے نئی دہلی ریاست میں کانگریس سے کئی گنا زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ جماعت انسداد بدعنوانی کا نعرہ لے کر اٹھی ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد میں اسے پذیرائی ملی ہے۔ جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کانگریس کے دور میں سرکاری اداروں میں موجود کرپشن سے عوام تنگ آ چکے ہیں اور دوسری جانب عوام کی ایک تعداد انتہا پسندوں سے بھی عاجز آچکی ہے۔ لہٰذا عوام کی اس تعداد نے عام آدمی پارٹی کو اپنا نجات دہندہ سمجھا اور اسے ووٹ دیے۔

بھارت ایک بڑی جمہوری حکومت ہے وہاں جمہوری روایات اپنی مضبوط جڑیں بنا چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سونیا گاندھی نے خوش دلی سے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کانگریس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نئی دہلی نے وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ہم عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاستدانوں کو بھی بھارتی سیاستدانوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بجائے انتخابی نتائج کا احترام کرنا چاہیے۔ بھارت کی4 ریاستوں میں بی جے پی کی فتح مستقبل کے عام انتخابات میں واضح تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے کہ خطے میں حالات نئی کروٹ لینے والے ہیں۔ اگر بی جے پی حکومت نئی دہلی کے تخت پر متمکن ہوتی ہے تو امید کی جا رہی ہے کہ وہ پاکستان سے مخاصمت کے بجائے دوستانہ تعلقات کا آغاز کرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔
Load Next Story