ملکی سیاسی منظر نامے میں اضطرابی کیفیت
سیاسی میدان پر چھائی یہ کالی بدلیاں کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں؟
سیاسی میدان پر چھائی یہ کالی بدلیاں کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں؟ فوٹو : فائل
اس وقت ملکی منظر نامے میں سیاسی اور انتظامی سطح پر کنفیوژن اور قیاس آرائیوں کے ناتمام سلسلے نے اضطرابی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔
چند دن قبل وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریرکے دوران جب یہ کہا کہ اگر ان کو عہدے سے ہٹا کر مائنس ون فارمولے پر عمل درآمد ہو بھی گیا تو پاکستان تحریک انصاف کا دوسرا رہنما بھی اپوزیشن کو نہیں چھوڑے گا اور اسے رعایت نہیں ملے گی، اس سے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل مچ گئی دوسری جانب وزراء اور مشیر یہ وضاحتیں کر رہے ہیں کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی، اس نئی سیاسی بحث میں اس سوال نے جنم لیا کہ آخر وزیر اعظم اپنے مائنس ون ہونے کا ذکرکیوں کر رہے ہیں۔
سیاسی بساط پر حکومت کے انھیں بیانات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعتوں کو یہ کہنے کا موقع ہاتھ آ گیا کہ حکومت انتظامی طور پر ناکام ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی موجودہ صورت حال کا رخ اپنے حق میں پھیرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اگلے ہفتے متوقع آل پارٹیزکانفرنس کی آوازیں بھی بلند ہونے لگیں۔ نئے میدان سجانے کے اس کھیل میں ملکی سیاسی صورتحال میں تناؤکی کیفیت کا جنم لینا فطری امر ہے۔
مسلم لیگ (نواز) کے ایک اہم رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اِن ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں ، اِن ہاؤس تبدیلی کی حمایت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب قبل از وقت انتخابات کی یقین دہانی کروائی جائے۔ سب منتظر ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوںکے درمیان رسہ کشی کا کھیل کیا نیا رخ اختیار کرتا ہے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی حکومتی کارکردگی کو تنقید و تنقیص کی سان پر کستے ہوئے وزیراعظم کومناظرے کا چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا لب ولہجہ بھی خاصا سخت معلوم ہوتا ہے۔
سیاسی میدان پر چھائی یہ کالی بدلیاں کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں؟ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس بدلتی صورتحال کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا وہ مخالفین کو سیاسی مات دینے کے لیے آج کل نہ صرف پارلیمان کو وقت دے رہے بلکہ اپنے پارٹی اراکین سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسے مثبت تبدیلی کہا جائے یا وقت کی سیاسی ضرورت، بہرحال ان کا اسمبلی میں لوٹ آنا خوشگوار حیرت سے کم نہیں ہے۔
انتظامی سطح پر ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ، روزانہ کی بنیاد پر اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے بھی تجاوزکرچکی ہے، کورونا وائرس پر سندھ اوروفاق میں تناؤکی کیفیت کے خاتمے کے آثار بھی ہویدا ہو جاتے تو عوام میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ حکومت کا موقف ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں بروقت فیصلے کیے گئے ہیں، جو پوری دنیا کے لیے مثال بنے اس پر قوم کو فخر کرنا چاہیے، پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کورونا کیسز اور اموات کی شرح کم ہے، ویکسین کے آنے میں ایک سال لگ سکتا ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیارکریں۔
حکومت کے مطابق احساس پروگرام کے ذریعے غریب لوگوں کو مزید ریلیف دیا جائے گا۔حسب روایت حکومتی موقف میں سب اچھا کی گردان سننے میں آ رہی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر شدید تنقید کررہی ہیں کہ ملک میں انتظامی فقدان کے باعث صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی اورکورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام نظرآرہی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت لاک ڈاؤن کے حوالے سے باہمی غوروفکر اور بحث جاری ہے، لیکن ہمارے یہاں اس کے برعکس مکالمے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔
صوبوں اور وفاق کے درمیان تم اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش کے مصداق لاتعلقی کی صورت حال ہے۔ سندھ اور وفاق کے درمیان رابطوں کا فقدان ہونا سمجھ آتا ہے کیونکہ دونوں حکومتیں الگ جماعتوں کی ہیں مگر پنجاب اور وفاق کے درمیان بھی کوآرڈینیشن کی کمی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ پر پنجاب اور وفاق کے اعداد وشمار ایک نہیں اور صحت کے مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا تو پنجاب کے ٹیسٹوں کی تعداد پر سوال اٹھا چکے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سب سے پہلے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کی بات کی تاکہ وائرس کے پھیلاؤکو روکا جا سکے، تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس فیصلے کے خلاف تاویلیں پیش کیں، حتیٰ کہ جب سندھ حکومت نے 23 مارچ کولاک ڈاؤن نافذ کر دیا اس کے بعد بھی وزیرِ اعظم اور پارٹی کے دیگر رہنما اس کی مخالفت کرتے رہے۔ صورتحال میں تب ڈرامائی تبدیلی آئی جب وفاق کی جانب سے انکارکے باوجود پنجاب حکومت نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔
کورونا وائرس کے سدباب کی کوششوں میں حکومت سندھ خاصی متحرک رہی جس کے برعکس سندھ بالخصوص کراچی میں پی ٹی آئی کے عوامی نمایندے اور اعلیٰ قیادت کہیں دکھائی نہ دی۔ چھبیس مارچ کو چین سے امدادی طبی سامان کراچی پہنچا جس میں 5 لاکھ حفاظتی ماسک بھی شامل تھے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ نے یہ سامان ایئرپورٹ پر وصول کیا اور بعد میں اعلان کیا کہ سندھ خیر سگالی کے جذبے کے تحت صرف 2 لاکھ ماسک اپنے لیے رکھے گا اور باقی دیگر صوبوں کے لیے وفاق کے حوالے کردے گا۔
سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ تمام ضرورت مندوں کو گھر گھر راشن پہنچائے گی، تاہم یہ اعلان صرف بیان تک ہی محدود رہا اور پیپلز پارٹی کو اس حوالے سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم کا بھی یہ بیانیہ رہا کہ لاک ڈاؤن میں ہچکچاہٹ کی وجہ دیہاڑی دار مزدوروں کے مسائل ہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کے احساس کفالت پروگرام سے پورے ملک میں لوگ استفادہ کر رہے ہیں، تاہم سندھ حکومت مستحقین تک راشن کی فراہمی میں ناکامی کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سیاسی چپقلش کے دوران حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بیان دیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کو دی جانے والی ٹیسٹنگ کٹس غیر معیاری ہیں، تاہم پی ٹی آئی حکومت نے اس دعوے کو رد کردیا۔
اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور این ڈی ایم اے کے سربراہ نے انھیں آگاہ کیا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ ان ہی کٹس کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کورونا وائرس کے حوالے سے قومی سطح پراتفاق رائے پیدا نہیں کر سکی۔
اب اگر ہم قومی معیشت کی بات کریں تو آیندہ سال پاکستان کی جی ڈی پی میں منفی 0.4 فیصد تک کمی کا اندازہ ہے۔ قومی اقتصادی جائزہ کے مطابق اس وبا سے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوارکو 3ہزار ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وائرس سے قبل پاکستان کی طرف سے اقتصادی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی جی ڈی پی میں 3 فیصد تک اضافے کا امکان تھا، تاہم وبا کی وجہ سے یہ اب منفی 0.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
دنیا بھر میں پہلی دفعہ فی کس آمدنی میں کمی آئے گی جب کہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں 7 فیصد تک سکڑنے کا خدشہ ہے۔ ملک میں اس وقت لاک ڈاؤن کے مختلف درجات ہیں، جن کا نفاذ متعلقہ حکومت کی ایماء پہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ میں بڑے کاروباری مراکز تاحال بند ہیں اور صنعتیں بھی محدود پیمانے پرکام کر رہی ہیں،جب کہ اس کے برعکس وفاقی حکومت نے صنعتوں کے حوالے سے لاک ڈاؤن میں خاصی نرمی کر دی ہے۔ تاجر سندھ میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم صوبائی حکومت اس حوالے سے وفاقی حکومت کی تائید نہیں کر رہی ہے۔
ملک بحرانوں کی زد میں ہے، چینی بحران پر جوکہ عوامی نوعیت کا معاملہ ہے اس پر سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کردی ہے۔شوگر ملز مالکان کا موقف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رد ہوا ہے، سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے چینی بحران میں ملوث کرداروں کے خلاف خود کارروائی کیوں نہیں کی ؟ اور چینی کی قیمتیں کیونکر کم نہ ہوسکی ہے۔ عدالتی کارروائیوں میں وقت ضایع کرکے کس کو ریلیف دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزراء نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ قومی ایئرلائن کو بہت جلد بہترین اداروں میں شامل کریں گے، بات صائب ہے اور ہم حکومتی نیت پر شک بھی نہیں کررہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتا رہے ہیں۔ طیارہ حادثے کی رپورٹ جس بے احتیاطی سے منظر عام پر لائی گئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں قومی ایئرلائن کی پروازوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
حکومت کے لیے یہ بڑی خوشخبری ہے کہ وہ بجٹ پاس کروانے میں کامیاب ہوگئی ، لیکن عجب ماجرا ہے کہ عوام کو اس بجٹ میں کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملا ہے۔ مہنگائی کا دور دورہ ہے، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کرائے طے نہیں کیے گئے ، جس کے باعث عوام پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔
بجٹ میں لگایا جانے والا جی ایس ٹی بھی عوام سے ہی وصول کیا جارہا ہے۔ معاشی مینجرز نے جو پالیساں بنائی ہیں، ان میں ذرہ برابر عوام کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ وبا کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ معاشی دباؤکے تحت پریشانیوں اور مسائل میں اضافے کے باوجود اب بھی عوام اہل اقتدار سے بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔
چند دن قبل وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریرکے دوران جب یہ کہا کہ اگر ان کو عہدے سے ہٹا کر مائنس ون فارمولے پر عمل درآمد ہو بھی گیا تو پاکستان تحریک انصاف کا دوسرا رہنما بھی اپوزیشن کو نہیں چھوڑے گا اور اسے رعایت نہیں ملے گی، اس سے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل مچ گئی دوسری جانب وزراء اور مشیر یہ وضاحتیں کر رہے ہیں کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی، اس نئی سیاسی بحث میں اس سوال نے جنم لیا کہ آخر وزیر اعظم اپنے مائنس ون ہونے کا ذکرکیوں کر رہے ہیں۔
سیاسی بساط پر حکومت کے انھیں بیانات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعتوں کو یہ کہنے کا موقع ہاتھ آ گیا کہ حکومت انتظامی طور پر ناکام ہوتی جا رہی ہے۔ ملک کی موجودہ صورت حال کا رخ اپنے حق میں پھیرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اگلے ہفتے متوقع آل پارٹیزکانفرنس کی آوازیں بھی بلند ہونے لگیں۔ نئے میدان سجانے کے اس کھیل میں ملکی سیاسی صورتحال میں تناؤکی کیفیت کا جنم لینا فطری امر ہے۔
مسلم لیگ (نواز) کے ایک اہم رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اِن ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں ، اِن ہاؤس تبدیلی کی حمایت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب قبل از وقت انتخابات کی یقین دہانی کروائی جائے۔ سب منتظر ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوںکے درمیان رسہ کشی کا کھیل کیا نیا رخ اختیار کرتا ہے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی حکومتی کارکردگی کو تنقید و تنقیص کی سان پر کستے ہوئے وزیراعظم کومناظرے کا چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا لب ولہجہ بھی خاصا سخت معلوم ہوتا ہے۔
سیاسی میدان پر چھائی یہ کالی بدلیاں کسی طوفان کا پیش خیمہ تو نہیں؟ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس بدلتی صورتحال کا بخوبی ادراک ہے لہٰذا وہ مخالفین کو سیاسی مات دینے کے لیے آج کل نہ صرف پارلیمان کو وقت دے رہے بلکہ اپنے پارٹی اراکین سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسے مثبت تبدیلی کہا جائے یا وقت کی سیاسی ضرورت، بہرحال ان کا اسمبلی میں لوٹ آنا خوشگوار حیرت سے کم نہیں ہے۔
انتظامی سطح پر ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ، روزانہ کی بنیاد پر اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے بھی تجاوزکرچکی ہے، کورونا وائرس پر سندھ اوروفاق میں تناؤکی کیفیت کے خاتمے کے آثار بھی ہویدا ہو جاتے تو عوام میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ حکومت کا موقف ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں بروقت فیصلے کیے گئے ہیں، جو پوری دنیا کے لیے مثال بنے اس پر قوم کو فخر کرنا چاہیے، پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کورونا کیسز اور اموات کی شرح کم ہے، ویکسین کے آنے میں ایک سال لگ سکتا ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیارکریں۔
حکومت کے مطابق احساس پروگرام کے ذریعے غریب لوگوں کو مزید ریلیف دیا جائے گا۔حسب روایت حکومتی موقف میں سب اچھا کی گردان سننے میں آ رہی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر شدید تنقید کررہی ہیں کہ ملک میں انتظامی فقدان کے باعث صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی اورکورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام نظرآرہی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت لاک ڈاؤن کے حوالے سے باہمی غوروفکر اور بحث جاری ہے، لیکن ہمارے یہاں اس کے برعکس مکالمے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔
صوبوں اور وفاق کے درمیان تم اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش کے مصداق لاتعلقی کی صورت حال ہے۔ سندھ اور وفاق کے درمیان رابطوں کا فقدان ہونا سمجھ آتا ہے کیونکہ دونوں حکومتیں الگ جماعتوں کی ہیں مگر پنجاب اور وفاق کے درمیان بھی کوآرڈینیشن کی کمی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ پر پنجاب اور وفاق کے اعداد وشمار ایک نہیں اور صحت کے مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا تو پنجاب کے ٹیسٹوں کی تعداد پر سوال اٹھا چکے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سب سے پہلے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کی بات کی تاکہ وائرس کے پھیلاؤکو روکا جا سکے، تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس فیصلے کے خلاف تاویلیں پیش کیں، حتیٰ کہ جب سندھ حکومت نے 23 مارچ کولاک ڈاؤن نافذ کر دیا اس کے بعد بھی وزیرِ اعظم اور پارٹی کے دیگر رہنما اس کی مخالفت کرتے رہے۔ صورتحال میں تب ڈرامائی تبدیلی آئی جب وفاق کی جانب سے انکارکے باوجود پنجاب حکومت نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔
کورونا وائرس کے سدباب کی کوششوں میں حکومت سندھ خاصی متحرک رہی جس کے برعکس سندھ بالخصوص کراچی میں پی ٹی آئی کے عوامی نمایندے اور اعلیٰ قیادت کہیں دکھائی نہ دی۔ چھبیس مارچ کو چین سے امدادی طبی سامان کراچی پہنچا جس میں 5 لاکھ حفاظتی ماسک بھی شامل تھے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ نے یہ سامان ایئرپورٹ پر وصول کیا اور بعد میں اعلان کیا کہ سندھ خیر سگالی کے جذبے کے تحت صرف 2 لاکھ ماسک اپنے لیے رکھے گا اور باقی دیگر صوبوں کے لیے وفاق کے حوالے کردے گا۔
سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کے اعلان کے ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ تمام ضرورت مندوں کو گھر گھر راشن پہنچائے گی، تاہم یہ اعلان صرف بیان تک ہی محدود رہا اور پیپلز پارٹی کو اس حوالے سے خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم کا بھی یہ بیانیہ رہا کہ لاک ڈاؤن میں ہچکچاہٹ کی وجہ دیہاڑی دار مزدوروں کے مسائل ہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کے احساس کفالت پروگرام سے پورے ملک میں لوگ استفادہ کر رہے ہیں، تاہم سندھ حکومت مستحقین تک راشن کی فراہمی میں ناکامی کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سیاسی چپقلش کے دوران حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بیان دیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کو دی جانے والی ٹیسٹنگ کٹس غیر معیاری ہیں، تاہم پی ٹی آئی حکومت نے اس دعوے کو رد کردیا۔
اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور این ڈی ایم اے کے سربراہ نے انھیں آگاہ کیا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ ان ہی کٹس کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کورونا وائرس کے حوالے سے قومی سطح پراتفاق رائے پیدا نہیں کر سکی۔
اب اگر ہم قومی معیشت کی بات کریں تو آیندہ سال پاکستان کی جی ڈی پی میں منفی 0.4 فیصد تک کمی کا اندازہ ہے۔ قومی اقتصادی جائزہ کے مطابق اس وبا سے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوارکو 3ہزار ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وائرس سے قبل پاکستان کی طرف سے اقتصادی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی جی ڈی پی میں 3 فیصد تک اضافے کا امکان تھا، تاہم وبا کی وجہ سے یہ اب منفی 0.4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
دنیا بھر میں پہلی دفعہ فی کس آمدنی میں کمی آئے گی جب کہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں 7 فیصد تک سکڑنے کا خدشہ ہے۔ ملک میں اس وقت لاک ڈاؤن کے مختلف درجات ہیں، جن کا نفاذ متعلقہ حکومت کی ایماء پہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سندھ میں بڑے کاروباری مراکز تاحال بند ہیں اور صنعتیں بھی محدود پیمانے پرکام کر رہی ہیں،جب کہ اس کے برعکس وفاقی حکومت نے صنعتوں کے حوالے سے لاک ڈاؤن میں خاصی نرمی کر دی ہے۔ تاجر سندھ میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم صوبائی حکومت اس حوالے سے وفاقی حکومت کی تائید نہیں کر رہی ہے۔
ملک بحرانوں کی زد میں ہے، چینی بحران پر جوکہ عوامی نوعیت کا معاملہ ہے اس پر سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کردی ہے۔شوگر ملز مالکان کا موقف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رد ہوا ہے، سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے چینی بحران میں ملوث کرداروں کے خلاف خود کارروائی کیوں نہیں کی ؟ اور چینی کی قیمتیں کیونکر کم نہ ہوسکی ہے۔ عدالتی کارروائیوں میں وقت ضایع کرکے کس کو ریلیف دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزراء نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ قومی ایئرلائن کو بہت جلد بہترین اداروں میں شامل کریں گے، بات صائب ہے اور ہم حکومتی نیت پر شک بھی نہیں کررہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتا رہے ہیں۔ طیارہ حادثے کی رپورٹ جس بے احتیاطی سے منظر عام پر لائی گئی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں قومی ایئرلائن کی پروازوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
حکومت کے لیے یہ بڑی خوشخبری ہے کہ وہ بجٹ پاس کروانے میں کامیاب ہوگئی ، لیکن عجب ماجرا ہے کہ عوام کو اس بجٹ میں کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملا ہے۔ مہنگائی کا دور دورہ ہے، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کرائے طے نہیں کیے گئے ، جس کے باعث عوام پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔
بجٹ میں لگایا جانے والا جی ایس ٹی بھی عوام سے ہی وصول کیا جارہا ہے۔ معاشی مینجرز نے جو پالیساں بنائی ہیں، ان میں ذرہ برابر عوام کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ وبا کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ معاشی دباؤکے تحت پریشانیوں اور مسائل میں اضافے کے باوجود اب بھی عوام اہل اقتدار سے بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔