گیس کی قیمتیں بڑھائی جائیں آئی ایم ایف کا اسٹیٹ بینک کو خود مختاری بھی دینے کا مطالبہ
نئی شرائط کی تفصیل جاری، پاکستان کارواں ماہ گیس مہنگی کرنے پر غور۔
پاکستان کوڈپازٹ پروٹیکشن فنڈاورسیکیورٹیزبلزکے مسودے بھی تیار کرنا ہونگے،نئی شرائط کی تفصیل جاری، پاکستان کارواں ماہ گیس مہنگی کرنے پر غور فوٹو: فائل
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی شرط پر رواں ماہ (دسمبر)کے آخر تک گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف نے نومبر میں اقتصادی کارکردگی کے پہلے جائزے میں پاکستان کے ساتھ طے اسٹرکچرل بنچ مارک کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن میں بتایا گیاکہ پاکستان کو رواں ماہ کے آخر تک گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا، گیس کے ٹیرف کو ریشنلائز کرنے سے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر اضافی ریونیو حاصل کرنا ہوگا اور ساتھ ہی رواں ماہ کے آخر تک انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں اضافی ریونیو کے لیے اقدامات کا اعلان کرنا ہوگا، مارچ 2014 کے آخر تک اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا ہوگی اور ستمبر 2014 کے آخر تک ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ ایکٹ کا مسودہ بھی تیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کو دسمبر 2014 کے آخر تک سیکیورٹیز بل کا مسودہ بھی متعارف کرانا ہوگا، اس کے علاوہ رواں ماہ کے آخر تک سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو آپریشنل بنانا ہوگا جس کے لیے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے الگ کرنا ہوگا، ایجنسی کا اسٹاف بھی الگ کرنا پڑے گا جبکہ سی پی پی اے رولز و گائیڈ لائن بھی جاری کرنا ہوگی جس کے بعد سی سی پی اے کو پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم متعارف کروانا ہوگا۔ دستاویز کے مطابق پاکستان کو جون 2014 تک پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کرنا ہوگی، پینل کوڈ 1860اور کوڈ آف کریمنل پروسیجرز 1898 میں بھی ترامیم متعارف کرانا ہونگی۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف نے نومبر میں اقتصادی کارکردگی کے پہلے جائزے میں پاکستان کے ساتھ طے اسٹرکچرل بنچ مارک کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن میں بتایا گیاکہ پاکستان کو رواں ماہ کے آخر تک گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا، گیس کے ٹیرف کو ریشنلائز کرنے سے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر اضافی ریونیو حاصل کرنا ہوگا اور ساتھ ہی رواں ماہ کے آخر تک انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں اضافی ریونیو کے لیے اقدامات کا اعلان کرنا ہوگا، مارچ 2014 کے آخر تک اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنا ہوگی اور ستمبر 2014 کے آخر تک ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ ایکٹ کا مسودہ بھی تیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کو دسمبر 2014 کے آخر تک سیکیورٹیز بل کا مسودہ بھی متعارف کرانا ہوگا، اس کے علاوہ رواں ماہ کے آخر تک سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو آپریشنل بنانا ہوگا جس کے لیے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے الگ کرنا ہوگا، ایجنسی کا اسٹاف بھی الگ کرنا پڑے گا جبکہ سی پی پی اے رولز و گائیڈ لائن بھی جاری کرنا ہوگی جس کے بعد سی سی پی اے کو پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم متعارف کروانا ہوگا۔ دستاویز کے مطابق پاکستان کو جون 2014 تک پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کرنا ہوگی، پینل کوڈ 1860اور کوڈ آف کریمنل پروسیجرز 1898 میں بھی ترامیم متعارف کرانا ہونگی۔