حصص مارکیٹ25000پوائنٹس کی تاریخ ساز حد کے قریب پہنچ گئی
بیرونی خریداروں کی29 لاکھ ڈالر انویسٹمنٹ،انڈیکس128پوائنٹس بڑھ کر 24999کی نئی بلندترین سطح پرآگیا
177کمپنیوں کی قیمتیں،مارکیٹ سرمایہ26.5ارب روپے بڑھ گیا،کاروباری حجم کم،15 کروڑحصص کے سودےفوٹو: آن لائن / فائل
اقتصادی افق پر غیریقینی صورتحال کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی تیزی کا تسلسل قائم رہا۔
جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بارانڈیکس24998 پوائنٹس کی نئی حد بھی رقم کرگیا، تیزی کے سبب51 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید26 ارب50 کروڑ41 لاکھ68 ہزار61 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرملکی فنڈز کی جانب سے بڑھتی ہوئی خریداری کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی انسٹی ٹیوشنز نے حصص کی خریداری میں اپنی دلچسپی بڑھائی جس سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشترشعبوں کی جانب سے حصص کی ہولڈنگ بڑھنے کے سبب کاروباری حجم میں کمی ہوئی، سرمایہ کاروں کی دلچسپی سیمنٹ، انرجی اور بینکنگ سیکٹر کے حصص میں زیادہ رہی، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 255.27 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی25000 کی نئی تاریخی حد بھی عبور ہوگئی تھی لیکن مقامی کمپنیوں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر43 لاکھ84 ہزار177 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلاسے تیزی کی مذکورہ حد مستحکم نہ رہ سکی۔
البتہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے29 لاکھ47 ہزار 643 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے10 لاکھ4 ہزار36 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے3 لاکھ9 ہزار361 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ23 ہزار136 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے سبب نمایاں تیزی برقرار رہی،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 128.34 پوائنٹس کے اضافے سے 24998.89 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس95 پوائنٹس کے اضافے سے 18719.99 اور کے ایم آئی30 انڈیکس209.17 پوائنٹس کے اضافے سے 41744.30 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 37.19 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ14 لاکھ65 ہزار580 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار351 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں177 کے بھاؤ میں اضافہ، 146 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور فوڈز کے بھاؤ416 روپے بڑھ کر10815 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ84 روپے بڑھ کر 1764 روپے ہوگئے جبکہ آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ40 روپے کم ہوکر820 روپے اور بھنیروٹیکسٹائل کے بھاؤ 23.30 روپے کم ہوکر442.15 روپے ہوگئے۔
جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بارانڈیکس24998 پوائنٹس کی نئی حد بھی رقم کرگیا، تیزی کے سبب51 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید26 ارب50 کروڑ41 لاکھ68 ہزار61 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرملکی فنڈز کی جانب سے بڑھتی ہوئی خریداری کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی انسٹی ٹیوشنز نے حصص کی خریداری میں اپنی دلچسپی بڑھائی جس سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشترشعبوں کی جانب سے حصص کی ہولڈنگ بڑھنے کے سبب کاروباری حجم میں کمی ہوئی، سرمایہ کاروں کی دلچسپی سیمنٹ، انرجی اور بینکنگ سیکٹر کے حصص میں زیادہ رہی، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 255.27 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی25000 کی نئی تاریخی حد بھی عبور ہوگئی تھی لیکن مقامی کمپنیوں، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر43 لاکھ84 ہزار177 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلاسے تیزی کی مذکورہ حد مستحکم نہ رہ سکی۔
البتہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے29 لاکھ47 ہزار 643 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے10 لاکھ4 ہزار36 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے3 لاکھ9 ہزار361 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ23 ہزار136 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے سبب نمایاں تیزی برقرار رہی،کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 128.34 پوائنٹس کے اضافے سے 24998.89 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس95 پوائنٹس کے اضافے سے 18719.99 اور کے ایم آئی30 انڈیکس209.17 پوائنٹس کے اضافے سے 41744.30 ہوگیا۔
کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 37.19 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ14 لاکھ65 ہزار580 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار351 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں177 کے بھاؤ میں اضافہ، 146 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور فوڈز کے بھاؤ416 روپے بڑھ کر10815 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ84 روپے بڑھ کر 1764 روپے ہوگئے جبکہ آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ40 روپے کم ہوکر820 روپے اور بھنیروٹیکسٹائل کے بھاؤ 23.30 روپے کم ہوکر442.15 روپے ہوگئے۔