بنگلہ دیش میں کرکٹ ایونٹس پر سیاہ بادل چھا گئے
ویسٹ انڈیزکی انڈر 19 کرکٹ ٹیم چٹاگانگ دھماکے پر دورہ ادھورا چھوڑ کر چلی گئی
ایشیاکپ اور ورلڈ ٹی20کی میزبانی کے لالے پڑگئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی تشویش میں بھی اضافہ،میگاایونٹ کوکوئی خطرہ نہیں،میزبان آفیشلز کا دعویٰ۔
بنگلہ دیش میں کرکٹ ایونٹس پر سیاہ بادل چھا گئے، بورڈ کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی20 کی میزبانی کے لالے پڑگئے۔
پاکستان کا مذاق اڑانے والا ملک خود سیکیورٹی مسائل میں الجھ گیا، ویسٹ انڈیزکی انڈر 19 ٹیم چٹاگانگ دھماکے پر دورہ ادھورا چھوڑ کر چلی گئی، امریکا نے اپنے شہریوں کو بنگلہ دیشی سفر سے باز رہنے کی ہدایت کردی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی تشویش میں بھی اضافہ ہوگیا، دوسری جانب میزبان آفیشلز نے دعویٰ کیاکہ میگا ایونٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے، چیف ایگزیکٹیوبی سی بی نظام الدین چوہدری نے کہاکہ مارچ اپریل تک صورتحال کافی بدل چکی ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش نے کچھ عرصہ قبل سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کو کئی بار آنکھیں دکھائی، ٹیم بھیجنے کا وعدہ کیا اور پھر وہاں کی صورتحال کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنی ٹیم کو آخری لمحات میں ٹورز سے روکا، مگر اب یہی صورتحال خود اسے پیش آرہی ہے، ملک بھر میں جاری سیاسی کشیدگی سے حالات ابتر ہونا شروع ہوگئے،اپوزیشن نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی ہوئی ہے، اس کا مطالبہ انتخابات غیرجانبدار حکومت کی نگرانی میں کرانے کا ہے، اس نے واضح اعلان کیاکہ اس مطالبے کو تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر بنگلہ دیش میں امن کی امید کم ہی ہے۔
اس سے یہاں آئندہ برس فروری میں شیڈول ایشیا کپ اور پھر مارچ اپریل میں آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی20 کا انعقاد بھی خطرے میں پڑگیا ۔ گذشتہ روز چٹاگانگ میں اس ہوٹل کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم رہائش پزیر تھی، اس کے بعد کیریبیئن بورڈ نے اپنی ٹیم کو ہی واپس بلا لیا، حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے سیکیورٹی منیجر پال سلووے نے بنگلہ دیش کی صورتحال کو انتہائی مخدوش قرار دیا جہاں گلیوں بازاروں میں سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم ہورہا ہے ۔
انھوں نے واضح کیاکہ حالات میں بہتری کی امید کم ہے اس لیے ہم نے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔ کیریبیئن بورڈ کے اس فیصلے کے پیچھے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والی وارننگ بھی ہے جس میں اپنے شہریوں کو شورش زدہ ملک کے سفر سے گریز کرنے اور وہاں پر موجود اپنے باشندوں کو محتاط رہنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
بنگلہ دیشی بورڈ نے اپنے ان مہمانوں کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر انھوں نے کسی یقین دہانی پر اعتبار نہیں کیا۔ بی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو نظام الدین چوہدری نے کہاکہ ہم نے ویسٹ انڈین بورڈ کو یہ سمجھانے کی کافی کوشش کی کہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے ہوئے ہیں، یہ دھماکا ایک واحد واقعہ ہے، یہاں پر کھلاڑیوں کو کوئی خطرہ نہیں مگر ویسٹ انڈیز نے ہمارے انتظامات کو سراہنے کے باوجود ٹیم کو واپس بلالیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ مارچ اپریل میں ہوگا اس وقت تک یہاں کے حالات کافی بدل چکے ہوںگے۔یاد رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایونٹ منیجر کرس ٹیٹلی نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ آئی سی سی بنگلہ دیش کی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، انھوں نے یہاں پر سے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی منتقلی کے امکان رد نہیں کیا، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ایونٹ میں کچھ وقت ہے مگر ہم سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ قبل ازیں نیوزی لینڈکی ٹیم نے ہوٹل کے باہر دھماکوں کے باوجود ٹور جاری رکھا تھا۔
پاکستان کا مذاق اڑانے والا ملک خود سیکیورٹی مسائل میں الجھ گیا، ویسٹ انڈیزکی انڈر 19 ٹیم چٹاگانگ دھماکے پر دورہ ادھورا چھوڑ کر چلی گئی، امریکا نے اپنے شہریوں کو بنگلہ دیشی سفر سے باز رہنے کی ہدایت کردی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی تشویش میں بھی اضافہ ہوگیا، دوسری جانب میزبان آفیشلز نے دعویٰ کیاکہ میگا ایونٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے، چیف ایگزیکٹیوبی سی بی نظام الدین چوہدری نے کہاکہ مارچ اپریل تک صورتحال کافی بدل چکی ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش نے کچھ عرصہ قبل سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کو کئی بار آنکھیں دکھائی، ٹیم بھیجنے کا وعدہ کیا اور پھر وہاں کی صورتحال کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنی ٹیم کو آخری لمحات میں ٹورز سے روکا، مگر اب یہی صورتحال خود اسے پیش آرہی ہے، ملک بھر میں جاری سیاسی کشیدگی سے حالات ابتر ہونا شروع ہوگئے،اپوزیشن نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی ہوئی ہے، اس کا مطالبہ انتخابات غیرجانبدار حکومت کی نگرانی میں کرانے کا ہے، اس نے واضح اعلان کیاکہ اس مطالبے کو تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر بنگلہ دیش میں امن کی امید کم ہی ہے۔
اس سے یہاں آئندہ برس فروری میں شیڈول ایشیا کپ اور پھر مارچ اپریل میں آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی20 کا انعقاد بھی خطرے میں پڑگیا ۔ گذشتہ روز چٹاگانگ میں اس ہوٹل کے قریب ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم رہائش پزیر تھی، اس کے بعد کیریبیئن بورڈ نے اپنی ٹیم کو ہی واپس بلا لیا، حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے سیکیورٹی منیجر پال سلووے نے بنگلہ دیش کی صورتحال کو انتہائی مخدوش قرار دیا جہاں گلیوں بازاروں میں سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم ہورہا ہے ۔
انھوں نے واضح کیاکہ حالات میں بہتری کی امید کم ہے اس لیے ہم نے اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا۔ کیریبیئن بورڈ کے اس فیصلے کے پیچھے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والی وارننگ بھی ہے جس میں اپنے شہریوں کو شورش زدہ ملک کے سفر سے گریز کرنے اور وہاں پر موجود اپنے باشندوں کو محتاط رہنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
بنگلہ دیشی بورڈ نے اپنے ان مہمانوں کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر انھوں نے کسی یقین دہانی پر اعتبار نہیں کیا۔ بی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو نظام الدین چوہدری نے کہاکہ ہم نے ویسٹ انڈین بورڈ کو یہ سمجھانے کی کافی کوشش کی کہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے ہوئے ہیں، یہ دھماکا ایک واحد واقعہ ہے، یہاں پر کھلاڑیوں کو کوئی خطرہ نہیں مگر ویسٹ انڈیز نے ہمارے انتظامات کو سراہنے کے باوجود ٹیم کو واپس بلالیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ مارچ اپریل میں ہوگا اس وقت تک یہاں کے حالات کافی بدل چکے ہوںگے۔یاد رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایونٹ منیجر کرس ٹیٹلی نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ آئی سی سی بنگلہ دیش کی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، انھوں نے یہاں پر سے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کی منتقلی کے امکان رد نہیں کیا، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ایونٹ میں کچھ وقت ہے مگر ہم سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ قبل ازیں نیوزی لینڈکی ٹیم نے ہوٹل کے باہر دھماکوں کے باوجود ٹور جاری رکھا تھا۔