ایشز ٹرافیآسٹریلیا صرف ایک فتح کی دوری پر پہنچ گیا
ایڈیلیڈمیں انگلینڈ کو 218 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل
ایڈیلیڈ ٹیسٹ: دوسری اننگز میں وکٹ کے حصول پر آسٹریلوی پیسر ریان ہیرس کا فاتحانہ انداز،آئوٹ ہونے پر انگلش کھلاڑی گریم سوان مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، ان کی ٹیم کو218رنز سے شکست ہوئی ۔ فوٹو : اے ایف پی
آسٹریلیا ایشز ٹرافی سے صرف ایک فتح کی دوری پر پہنچ گیا، ایڈیلیڈ میں انگلینڈ کو 218 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل کرلی۔
آخری روز باقی چار وکٹیں لینے میں ایک گھنٹہ لگا، مہمان ٹیم 312 رنز پر آئوٹ ہوگئی، میٹ پرائر نے69 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، پیٹرسڈل نے 4 اور ریان ہیرس نے3 وکٹیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق مسلسل تین ایشز سیریز گنوانے والی آسٹریلوی ٹیم کے پاس اس بار تاریخی ٹرافی پر قبضہ جمانے کا سنہری موقع ہے، اس نے برسبین کے بعد ایڈیلیڈ میں بھی انگلینڈ کو شکست سے دوچار کردیا، اس بار بھی مہمان بیٹسمینوں کے پاس میزبان فاسٹ بولرز کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کینگروز کو آخری روز فتح کیلیے 4 وکٹیں درکار تھیں جو اس نے ایک گھنٹے میں حاصل کرلیں، دن کی چوتھی گیند پر اسٹورٹ براڈ نے پیٹرسڈل کو چھکا جڑا،اگلی گیند پر پھر یہ کوشش انھیں مہنگی پڑی، 29 رنز پر وہ ناتھن لیون کا کیچ بن گئے۔
گریم سوان (6) سیکنڈ سلپ میں ہیرس کی گیند پر کلارک کے ہاتھوں کیچ ہوئے، میٹ پرائر نے مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 182 بالز پر 110 رنز بناکر میچ بچایا تھا،اس بار بھی انھوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی مگر 27 ویں نصف سنچری بنانے کے بعد69 رنز پر سڈل کی گیند پر ہیرس کا کیچ بن گئے۔ آخری وکٹ ریان ہیرس کے ہاتھ آئی، ان کی گیند پر مونٹی پنیسر صفر پر ہی روجرز کا کیچ بن گئے، پیٹرسڈل نے 4 اور ہیرس نے 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا، پہلی اننگز میں سات وکٹیں لینے والے مچل جونسن کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا، ابتدائی مقابلے میں بھی وہی بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔تیسرا ٹیسٹ 13 دسمبر سے پرتھ میں کھیلا جائے گا۔
آخری روز باقی چار وکٹیں لینے میں ایک گھنٹہ لگا، مہمان ٹیم 312 رنز پر آئوٹ ہوگئی، میٹ پرائر نے69 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، پیٹرسڈل نے 4 اور ریان ہیرس نے3 وکٹیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق مسلسل تین ایشز سیریز گنوانے والی آسٹریلوی ٹیم کے پاس اس بار تاریخی ٹرافی پر قبضہ جمانے کا سنہری موقع ہے، اس نے برسبین کے بعد ایڈیلیڈ میں بھی انگلینڈ کو شکست سے دوچار کردیا، اس بار بھی مہمان بیٹسمینوں کے پاس میزبان فاسٹ بولرز کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کینگروز کو آخری روز فتح کیلیے 4 وکٹیں درکار تھیں جو اس نے ایک گھنٹے میں حاصل کرلیں، دن کی چوتھی گیند پر اسٹورٹ براڈ نے پیٹرسڈل کو چھکا جڑا،اگلی گیند پر پھر یہ کوشش انھیں مہنگی پڑی، 29 رنز پر وہ ناتھن لیون کا کیچ بن گئے۔
گریم سوان (6) سیکنڈ سلپ میں ہیرس کی گیند پر کلارک کے ہاتھوں کیچ ہوئے، میٹ پرائر نے مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 182 بالز پر 110 رنز بناکر میچ بچایا تھا،اس بار بھی انھوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی مگر 27 ویں نصف سنچری بنانے کے بعد69 رنز پر سڈل کی گیند پر ہیرس کا کیچ بن گئے۔ آخری وکٹ ریان ہیرس کے ہاتھ آئی، ان کی گیند پر مونٹی پنیسر صفر پر ہی روجرز کا کیچ بن گئے، پیٹرسڈل نے 4 اور ہیرس نے 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا، پہلی اننگز میں سات وکٹیں لینے والے مچل جونسن کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا، ابتدائی مقابلے میں بھی وہی بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔تیسرا ٹیسٹ 13 دسمبر سے پرتھ میں کھیلا جائے گا۔