مسلسل گھروں سے دوریپاکستانی کرکٹرز نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے لگے
آئی سی سی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے کردار ادا کرے، یونس کو ون ڈے میں موقع دینا سلیکٹرز کاکام ہے،مصباح
عرفان کے استعمال میں بے احتیاطی ہوئی،تنقید کے باوجود مزاج تبدیل نہیں کرسکتا، کپتان کیلیے گرائونڈمیں اچھل کودضروری نہیں ۔فوٹو:فائل
پاکستانی کھلاڑی مسلسل گھروں سے دور رہنے کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے لگے۔
آئی سی سی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے کردار ادا کرے، یونس خان کو موقع دینا سلیکٹرز کاکام ہے، جو لوگ وکٹ پر ٹھہرنے اور رنز بنانے کے باوجود مجھ پر تنقید سے باز نہیں آتے وہ انھیں کیسے برداشت کریں گے، بیٹنگ میں خامیاں دور کرنے کیلیے اکیلا کوچ کچھ نہیں کر سکتا،کھلاڑیوں کو خود بھی محنت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار قومی ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے''ایکسپریس نیوز'' کے پروگرام ''کھیل کا میدان'' میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑی مسلسل گھروں سے دور رہنے پر مجبور ہیں، وہ اس وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو رہے ہیں، انگلش بیٹسمین جوناتھن ٹروٹ کی مثال بھی سامنے رکھی جاسکتی ہے جوایشز سیریز ہی چھوڑ کر وطن واپس آگئے، انھوں نے کہا کہ آئی سی سی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے کردار ادا کرے، مسائل کے باوجود ہماری کارکردگی بُری نہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ محمد عرفان کو استعمال کرنے میں بے احتیاطی ہوئی، مستقبل میں اہم کھلاڑیوں کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ مصباح نے کہا کہ تنقید کے باوجود اپنا مزاج تبدیل نہیں کرسکتا، کپتان کیلیے گراؤنڈ میں اچھل کود کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ میچ کی صورتحال کے مطابق کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا بہتر سے بہتر انداز میں کیسے فائدہ اٹھایا جائے، انھوں نے کہا کہ ناقدین کی باتوں کا جواب دینے لگوں تو ان میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جائے گا، کوشش ہوتی ہے کہ پرفارمنس سے جواب دوں، اس مقصد کیلیے ہمیشہ فٹنس پر خاص توجہ دیتا ہوں،میچز نہ بھی ہورہے ہوں تو ٹریننگ کا سلسلہ کبھی نہیں رکنے دیتا۔
انھوں نے کہا کہ جدید دور کی کرکٹ آسان نہیں رہی، نوجوان کھلاڑی کو بھی سمجھنا چاہیے کہ فٹنس کے بغیر پرفارمنس میں بہتری کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا،اس ضمن میں عمر کوئی مسئلہ نہیں ، کوئی کارکردگی دکھا سکتا ہے تو اسے کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔ڈگماتی بیٹنگ کو استحکام دینے کیلیے یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں شامل کے جانے کے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا سلیکٹرز کا کام ہے، لوگ مسلسل عمدہ پرفارمنس کے باوجود مجھ پر تنقید سے باز نہیں آتے، وکٹ پر قیام کیلیے تھوڑا وقت لینے والا ایک اور پلیئر آگیا تو کیسے برداشت کرینگے، کپتان نے کہا کہ بیٹنگ کے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلیے سب کو ذمہ داری لینا ہوگی،کئی بیٹسمین سیٹ ہو کر وکٹ گنوا بیٹھتے ہیں، اس ضمن میں اکیلا کوچ کچھ نہیںکرسکتا، خامیاں دور کرنے کیلیے انھیں خود بھی محنت کرنا ہوگی۔ مصباح الحق نے کہا کہ شاہد آفریدی کی ہر لحاظ سے اسکواڈ میں جگہ بنتی ہے، بطور بولر اہم وکٹیں حاصل کرکے اپنے کردار سے انصاف کرتے ہیں، بیٹنگ فارم بھی واپس آگئی تو ٹیم کو اضافی فائدہ ہوگا۔
آئی سی سی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے کردار ادا کرے، یونس خان کو موقع دینا سلیکٹرز کاکام ہے، جو لوگ وکٹ پر ٹھہرنے اور رنز بنانے کے باوجود مجھ پر تنقید سے باز نہیں آتے وہ انھیں کیسے برداشت کریں گے، بیٹنگ میں خامیاں دور کرنے کیلیے اکیلا کوچ کچھ نہیں کر سکتا،کھلاڑیوں کو خود بھی محنت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار قومی ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے''ایکسپریس نیوز'' کے پروگرام ''کھیل کا میدان'' میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑی مسلسل گھروں سے دور رہنے پر مجبور ہیں، وہ اس وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو رہے ہیں، انگلش بیٹسمین جوناتھن ٹروٹ کی مثال بھی سامنے رکھی جاسکتی ہے جوایشز سیریز ہی چھوڑ کر وطن واپس آگئے، انھوں نے کہا کہ آئی سی سی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے کردار ادا کرے، مسائل کے باوجود ہماری کارکردگی بُری نہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ محمد عرفان کو استعمال کرنے میں بے احتیاطی ہوئی، مستقبل میں اہم کھلاڑیوں کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ مصباح نے کہا کہ تنقید کے باوجود اپنا مزاج تبدیل نہیں کرسکتا، کپتان کیلیے گراؤنڈ میں اچھل کود کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ میچ کی صورتحال کے مطابق کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا بہتر سے بہتر انداز میں کیسے فائدہ اٹھایا جائے، انھوں نے کہا کہ ناقدین کی باتوں کا جواب دینے لگوں تو ان میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جائے گا، کوشش ہوتی ہے کہ پرفارمنس سے جواب دوں، اس مقصد کیلیے ہمیشہ فٹنس پر خاص توجہ دیتا ہوں،میچز نہ بھی ہورہے ہوں تو ٹریننگ کا سلسلہ کبھی نہیں رکنے دیتا۔
انھوں نے کہا کہ جدید دور کی کرکٹ آسان نہیں رہی، نوجوان کھلاڑی کو بھی سمجھنا چاہیے کہ فٹنس کے بغیر پرفارمنس میں بہتری کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا،اس ضمن میں عمر کوئی مسئلہ نہیں ، کوئی کارکردگی دکھا سکتا ہے تو اسے کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔ڈگماتی بیٹنگ کو استحکام دینے کیلیے یونس خان کو ون ڈے ٹیم میں شامل کے جانے کے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا سلیکٹرز کا کام ہے، لوگ مسلسل عمدہ پرفارمنس کے باوجود مجھ پر تنقید سے باز نہیں آتے، وکٹ پر قیام کیلیے تھوڑا وقت لینے والا ایک اور پلیئر آگیا تو کیسے برداشت کرینگے، کپتان نے کہا کہ بیٹنگ کے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلیے سب کو ذمہ داری لینا ہوگی،کئی بیٹسمین سیٹ ہو کر وکٹ گنوا بیٹھتے ہیں، اس ضمن میں اکیلا کوچ کچھ نہیںکرسکتا، خامیاں دور کرنے کیلیے انھیں خود بھی محنت کرنا ہوگی۔ مصباح الحق نے کہا کہ شاہد آفریدی کی ہر لحاظ سے اسکواڈ میں جگہ بنتی ہے، بطور بولر اہم وکٹیں حاصل کرکے اپنے کردار سے انصاف کرتے ہیں، بیٹنگ فارم بھی واپس آگئی تو ٹیم کو اضافی فائدہ ہوگا۔