چیلنجز سے نمٹنے کی اہلیت
چٹکلوں کا بازار گرم ہے، شوشے چھوڑے جارہے ہیں، پیشگوئیوں کا زور ہے
کورونا تاحال پیر تسمہ پا کی طرح پاکستان کے کروڑوں عوام کے وجود سے چمٹا ہوا ہے فوٹو: فائل
کورونا تاحال پیر تسمہ پا کی طرح پاکستان کے کروڑوں عوام کے وجود سے چمٹا ہوا ہے جو متاثرین یا ہلاک ہوچکے ہیں وہ تو قیدِحیات و بندِ غم سے نجات پا چکے، تاہم جو زندہ ہیں انھیں بھی ایک مستقل خوف لاحق ہے کہ نامعلوم کس وقت فیس ماسک ہٹ جائے، یا سماجی دوری کی پابندی کی کسی نازک شق کی خلاف ورزی ہوجائے تو عزرائیل کہیں نہ آدھمکے، ایک مربوط اور منظم ادارہ جاتی پالیسی نہیں جس کو کوئی سنجیدگی سے مانیٹر کر رہا ہو اور قوم کو بھی یقین ہو کہ حکومت جو کچھ کرچکی ہے وہ درست سمت میں کورونا کے خاتمہ کی صائب کوشش سے جڑا ہوا قابل تعریف میکنزم ہے جس کا انجام قوم کی صحت کی بحالی اور وائرس کے خاتمہ پر منتج ہوگا۔
میڈیاکے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں پانچ لاکھ40 ہزار62 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک کروڑ16 لاکھ91 ہزار68 سے زائد متاثر ہیں، صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 63 لاکھ 49 ہزار542 ہو گئی ہے، برازیل کے صدر جائرلولسنارو کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا، امریکی شہر اٹلانٹا کی میئر کیشا لانس بوٹمز بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں، یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو مزید کساد بازاری کا سامنا ہوگا، یورپی معیشت پر کورونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات پہلے کے اندازوں سے زیادہ سنگین ہوں گے، تھائی لینڈ میں بندروں کی مدد سے جمع کردہ ناریل اور دیگر اجزا پر برطانیہ میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ کی سرحد پر سیکڑوں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں، دوسری جانب امریکا میں 30 لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔ گزشتہ24 گھنٹوں میں امریکا میں مزید351 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور مجموعی تعداد ایک لاکھ32 ہزار سے زائد ہوگئیں۔
برازیل میں 16لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہیں اور گذشتہ24 گھنٹوں میں مزید 656 افراد ہلاک ہوگئے جس سے مجموعی تعداد 65 ہزار سے بڑھ گئی، روس میں 6 لاکھ87 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گذشتہ24 گھنٹوں کے دوران 135 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 10ہزار296 ہوگئی۔ بھارت میں مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 20 ہزار سے بڑھ گئی ہے اور ایک دن میں474 افراد ہلاک ہونے سے مجموعی تعداد 20 ہزار ہوگئی ہے۔
لیکن قومی منظرنامہ اس دردناک روداد سے مختلف ہے، بجلی، کورونا، تعلیم، صحت اور مہنگائی کے سلسلہ میں ایک زوال آمادہ پیرا ڈائم شفٹ آیا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت نان ایشوز کے دلدل میں پھنس گئی ہے، ادھر ایک سروے کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران عوام کی ضروریات پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، عوام کے سودا سلف کا خرچہ 33 فیصد بڑھ گیا ہے جب کہ دواؤں اور گھریلو صفائی کے سامان پر پڑنے والے اخراجات میں بھی 32،33 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، شہریوں کے ٹیلی فون اور سیل فونز کے استعمال پر خرچہ بھی 29 فیصد بڑھ گیا ہے۔
ہم نے سروے میں صرف اس اضافہ کا حوالہ دیا ہے جو چند شعبوں میں عوام کی نیندیں اڑا چکا ہے، وزرا کو پانی، بجلی، روزگار، کورونا اور روزمرہ مسائل کے حل کے لیے عوام سے رابطہ بڑھانا چاہیے، لیکن معیشت سے گریز اور عوام کو بدحالی سے نکالنے کے لیے جس سیاسی ارادہ اورمعاشی میثاق کی ضرورت ہے اس پر ارباب اختیار تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں، چیزیں ایڈہاک ازم کی نذر ہورہی ہیں، مکمل تصویر کسی شے کی دکھائی نہیں جاتی، ٹوٹے چل رہے ہیں۔
چٹکلوں کا بازار گرم ہے، شوشے چھوڑے جارہے ہیں، پیشگوئیوں کا زور ہے، ماہرین کے مطابق اصل حقیقت غربت، مہنگائی اور بیروزگاری ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن وزیر اعظم کی معاشی، سیاسی، کورونا اور تعلیم وصحت کی ٹیم زمینی حقائق سے گریزپائی کا شکار ہے، حکمراں کچھ محسوس نہیںکرتے جب کہ عوام ایک ایک لمحے کا حساب رکھتے ہیں، وہ اپنے ساتھ پی ٹی آئی حکمرانی کی فائل تیار کر رہے ہونگے، ان کی مجبوریاں بڑھ چکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی اہداف سے کنارہ کش ہوئی ہے۔
اس کے اعصاب پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سوار ہے، ملکی سیاست انتقام اور عداوت سے پیچھا نہیں چھڑا سکی، تمام بڑے چیلنجز دور پھینک دیے گئے ہیں اور عوام کو اس وقت تین جے آئی ٹیز کے تماشے میڈیا پر رات دن دکھائے جا رہے ہیں، عوام کو بجلی میسر نہیں، پانی کی قلت ہے۔
روزگار کی کوئی امید نہیں، حکومت نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے لیے وزرا بازی جیتنے کے لیے میڈیا ٹاکس میں ہمیشہ غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے رہے، ایک وزیر اختلاف رائے کا جواب دینے کے لیے ''جوتا'' اٹھا لائے، ان ہی صاحب کا دعویٰ تھا کہ نوکریوں کی بارش ہوگی، مگر افسوس اب وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی کے دفتر اعمال میں ماسوائے ''حسرتِ تعمیر '' کے کوئی چیز دستیاب نہیں، شبلی فراز نے انتباہ کیا ہے کہ عید الاضحیٰ میں کورونا پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
کسی بزر جمہر کا انتباہ ہے کہ دنیا میں دیگر بیماریوں سے 10 لاکھ افراد موت کا شکار ہوسکتے ہیں، کسی نے کہہ دیا کہ ہوا سے بھی کورونا پھیلتا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں، ریلیف کے منتظر لوگ خوابوں کی کثرت تعبیر سے پاگل ہوگئے، افلاس کی کہانی، خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے ہر غریب الوطن کی کہانی ہے، لیکن اہل اقتدار میں کون ایسی کہانی سنے گا۔ ایک خبر کے مطابق تجارتی خسارہ 23 ارب19 کروڑ کے ساتھ 27 فیصد رہا۔ کوئٹہ میں چینی مہگنی ہوگئی، روٹی بھی مہنگی ہوگئی۔
دنیا کے معاملات ایسے مخبوط الحواس، غیر ذمے دار مگر طاقتور سیاست دانوں کے سپرد ہیں جنھیں خبر نہیں کہ بندہ پروری کی روش کیا ہے؟ چنانچہ امریکا میں ہزاروں ایشیائی طالب علموں کو امریکا بدر کیے جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے آن لائن کورس میں داخلہ لینے والوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان کیا ہے، صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس بھی دے دیا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کو عالمی دہشتگرد تنظیموں داعش، القائدہ، نیو نازیز، سفید فام بالادستی اور نفرت پھیلانے والے گروہوں کو نئے مواقع دے رہی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی پر کورونا کے اثرات کا جائزہ لینا قبل از وقت ہے، لیکن یہی لوگ گروہی تفرقات، مقامی تنازعات، حکومتی ناکامیوں اور شکایات کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نفرت پھیلا رہے ہیں، کورونا ان کے ایجنڈہ پر ہے اور نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور تارکین وطن کے خلاف ان کی نفرت انگیز تقاریر سامنے آرہی ہیں، ارباب اختیار دیکھیں کہ ان کا ورلڈ ویو عالمی ادارہ کے انداز نظر سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور کیا ہمارے سیاست دان عالمی تبدیلیوں اور سازشوں سے آگاہ ہیں۔
کسی کو فکر ہے تو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ مشکوک پاکستانی پائلٹس کے خلاف یورپی یونین کی تادیبی کارروائی کا مطالبہ پھر سے شدت پکڑتا جا رہا ہے، سول ایوی ایشنز کے 40 فیصد لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ہماری ائیر لائن کے لیے فضائے بسیط تنگ کی جا رہی ہے، پائلٹس برطرف اور معطل ہوئے، کراچی طیارہ حادثہ کی متنازع رپورٹ پر ایک اور حادثہ یہ ہوا کہ ہمارے وزیر ہوا بازی کی تند و تیز تقریر کے مضمرات سے غافل حکومتی عناصر کو چپ سی لگ گئی ہے۔ اسلام آباد میں دو مذہبی گروپوں میں آویزش اور ممکنہ مسلح تصادم کی اطلاع ایک انگریزی معاصر نے دی ہے، وکلا تینظیموں کے سربراہوں نے وارننگ دی ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے سے گریز کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی تحقیقات پر اس تبدیلی کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
ورنہ کسی اقدام اور رپورٹ و تحقیقات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، سیمنٹ کی صنعت کو داخلی زوال کا سامنا ہے، ماہرین کے مطابق چھ سال میں پہلی بار سیمنٹ کی کھپت میں کمی آئی ہے، لوگ پوچھ رہے ہیں کہ تعمیراتی سیکٹر کے لیے اربوں کے ریلیف پروگرام کا کیا بنا؟ دیہاڑی دار مزدوروں کے کتنے دکھ کم ہوئے، ان کی امداد کے دعوے کہاں گئے۔ البتہ کابینہ نے چینی کے مسئلہ پر طویل المیعاد اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے، یہ تجویز وزیر صنعت حماد اظہر کی طرف سے آئی ہے۔
ضرورت ایک اقتصادی اور سیاسی خود احتسابی کی ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے لیے صائب مشورہ ہے کہ وہ خدارا پنگ پانگ گیم ترک کریں۔ تدبر، دانش مندی اور سنجیدگی سے جمہوریت کے مسلمہ اصولوں پر کاربند رہیں۔ اب تک جو جو سیاسی اقدامات ہوئے ہیں، یا جو ریلیف اور بریک تھرو کیا گیا ہے وہ لفظوں کی گولہ باری تھی، حکومت اپوزیشن کشیدگی، برہمی، محاذآرائی، بلیم گیم اور دشنام طرازی تھی، پارلیمنٹ میں کوئی ایڈمنڈ برک نہیں آیا، اب تو وزیر اعظم کو بازی پلٹ کارکردگی دکھانی ہوگی، کیونکہ 6 ماہ رہ گئے ہیں۔ مورخ نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے، جس پر غالب کا یہ حسرت ناک شعر لکھا ہے:
فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں
میڈیاکے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں پانچ لاکھ40 ہزار62 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک کروڑ16 لاکھ91 ہزار68 سے زائد متاثر ہیں، صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 63 لاکھ 49 ہزار542 ہو گئی ہے، برازیل کے صدر جائرلولسنارو کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا، امریکی شہر اٹلانٹا کی میئر کیشا لانس بوٹمز بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں، یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو مزید کساد بازاری کا سامنا ہوگا، یورپی معیشت پر کورونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات پہلے کے اندازوں سے زیادہ سنگین ہوں گے، تھائی لینڈ میں بندروں کی مدد سے جمع کردہ ناریل اور دیگر اجزا پر برطانیہ میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ کی سرحد پر سیکڑوں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں، دوسری جانب امریکا میں 30 لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔ گزشتہ24 گھنٹوں میں امریکا میں مزید351 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور مجموعی تعداد ایک لاکھ32 ہزار سے زائد ہوگئیں۔
برازیل میں 16لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہیں اور گذشتہ24 گھنٹوں میں مزید 656 افراد ہلاک ہوگئے جس سے مجموعی تعداد 65 ہزار سے بڑھ گئی، روس میں 6 لاکھ87 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ گذشتہ24 گھنٹوں کے دوران 135 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 10ہزار296 ہوگئی۔ بھارت میں مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 20 ہزار سے بڑھ گئی ہے اور ایک دن میں474 افراد ہلاک ہونے سے مجموعی تعداد 20 ہزار ہوگئی ہے۔
لیکن قومی منظرنامہ اس دردناک روداد سے مختلف ہے، بجلی، کورونا، تعلیم، صحت اور مہنگائی کے سلسلہ میں ایک زوال آمادہ پیرا ڈائم شفٹ آیا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت نان ایشوز کے دلدل میں پھنس گئی ہے، ادھر ایک سروے کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران عوام کی ضروریات پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، عوام کے سودا سلف کا خرچہ 33 فیصد بڑھ گیا ہے جب کہ دواؤں اور گھریلو صفائی کے سامان پر پڑنے والے اخراجات میں بھی 32،33 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، شہریوں کے ٹیلی فون اور سیل فونز کے استعمال پر خرچہ بھی 29 فیصد بڑھ گیا ہے۔
ہم نے سروے میں صرف اس اضافہ کا حوالہ دیا ہے جو چند شعبوں میں عوام کی نیندیں اڑا چکا ہے، وزرا کو پانی، بجلی، روزگار، کورونا اور روزمرہ مسائل کے حل کے لیے عوام سے رابطہ بڑھانا چاہیے، لیکن معیشت سے گریز اور عوام کو بدحالی سے نکالنے کے لیے جس سیاسی ارادہ اورمعاشی میثاق کی ضرورت ہے اس پر ارباب اختیار تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں، چیزیں ایڈہاک ازم کی نذر ہورہی ہیں، مکمل تصویر کسی شے کی دکھائی نہیں جاتی، ٹوٹے چل رہے ہیں۔
چٹکلوں کا بازار گرم ہے، شوشے چھوڑے جارہے ہیں، پیشگوئیوں کا زور ہے، ماہرین کے مطابق اصل حقیقت غربت، مہنگائی اور بیروزگاری ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے لیکن وزیر اعظم کی معاشی، سیاسی، کورونا اور تعلیم وصحت کی ٹیم زمینی حقائق سے گریزپائی کا شکار ہے، حکمراں کچھ محسوس نہیںکرتے جب کہ عوام ایک ایک لمحے کا حساب رکھتے ہیں، وہ اپنے ساتھ پی ٹی آئی حکمرانی کی فائل تیار کر رہے ہونگے، ان کی مجبوریاں بڑھ چکی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی اہداف سے کنارہ کش ہوئی ہے۔
اس کے اعصاب پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سوار ہے، ملکی سیاست انتقام اور عداوت سے پیچھا نہیں چھڑا سکی، تمام بڑے چیلنجز دور پھینک دیے گئے ہیں اور عوام کو اس وقت تین جے آئی ٹیز کے تماشے میڈیا پر رات دن دکھائے جا رہے ہیں، عوام کو بجلی میسر نہیں، پانی کی قلت ہے۔
روزگار کی کوئی امید نہیں، حکومت نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے لیے وزرا بازی جیتنے کے لیے میڈیا ٹاکس میں ہمیشہ غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے رہے، ایک وزیر اختلاف رائے کا جواب دینے کے لیے ''جوتا'' اٹھا لائے، ان ہی صاحب کا دعویٰ تھا کہ نوکریوں کی بارش ہوگی، مگر افسوس اب وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی کے دفتر اعمال میں ماسوائے ''حسرتِ تعمیر '' کے کوئی چیز دستیاب نہیں، شبلی فراز نے انتباہ کیا ہے کہ عید الاضحیٰ میں کورونا پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
کسی بزر جمہر کا انتباہ ہے کہ دنیا میں دیگر بیماریوں سے 10 لاکھ افراد موت کا شکار ہوسکتے ہیں، کسی نے کہہ دیا کہ ہوا سے بھی کورونا پھیلتا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں، ریلیف کے منتظر لوگ خوابوں کی کثرت تعبیر سے پاگل ہوگئے، افلاس کی کہانی، خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے ہر غریب الوطن کی کہانی ہے، لیکن اہل اقتدار میں کون ایسی کہانی سنے گا۔ ایک خبر کے مطابق تجارتی خسارہ 23 ارب19 کروڑ کے ساتھ 27 فیصد رہا۔ کوئٹہ میں چینی مہگنی ہوگئی، روٹی بھی مہنگی ہوگئی۔
دنیا کے معاملات ایسے مخبوط الحواس، غیر ذمے دار مگر طاقتور سیاست دانوں کے سپرد ہیں جنھیں خبر نہیں کہ بندہ پروری کی روش کیا ہے؟ چنانچہ امریکا میں ہزاروں ایشیائی طالب علموں کو امریکا بدر کیے جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے آن لائن کورس میں داخلہ لینے والوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان کیا ہے، صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس بھی دے دیا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کو عالمی دہشتگرد تنظیموں داعش، القائدہ، نیو نازیز، سفید فام بالادستی اور نفرت پھیلانے والے گروہوں کو نئے مواقع دے رہی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی پر کورونا کے اثرات کا جائزہ لینا قبل از وقت ہے، لیکن یہی لوگ گروہی تفرقات، مقامی تنازعات، حکومتی ناکامیوں اور شکایات کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ نفرت پھیلا رہے ہیں، کورونا ان کے ایجنڈہ پر ہے اور نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور تارکین وطن کے خلاف ان کی نفرت انگیز تقاریر سامنے آرہی ہیں، ارباب اختیار دیکھیں کہ ان کا ورلڈ ویو عالمی ادارہ کے انداز نظر سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور کیا ہمارے سیاست دان عالمی تبدیلیوں اور سازشوں سے آگاہ ہیں۔
کسی کو فکر ہے تو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ مشکوک پاکستانی پائلٹس کے خلاف یورپی یونین کی تادیبی کارروائی کا مطالبہ پھر سے شدت پکڑتا جا رہا ہے، سول ایوی ایشنز کے 40 فیصد لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ہماری ائیر لائن کے لیے فضائے بسیط تنگ کی جا رہی ہے، پائلٹس برطرف اور معطل ہوئے، کراچی طیارہ حادثہ کی متنازع رپورٹ پر ایک اور حادثہ یہ ہوا کہ ہمارے وزیر ہوا بازی کی تند و تیز تقریر کے مضمرات سے غافل حکومتی عناصر کو چپ سی لگ گئی ہے۔ اسلام آباد میں دو مذہبی گروپوں میں آویزش اور ممکنہ مسلح تصادم کی اطلاع ایک انگریزی معاصر نے دی ہے، وکلا تینظیموں کے سربراہوں نے وارننگ دی ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے سے گریز کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی تحقیقات پر اس تبدیلی کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
ورنہ کسی اقدام اور رپورٹ و تحقیقات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، سیمنٹ کی صنعت کو داخلی زوال کا سامنا ہے، ماہرین کے مطابق چھ سال میں پہلی بار سیمنٹ کی کھپت میں کمی آئی ہے، لوگ پوچھ رہے ہیں کہ تعمیراتی سیکٹر کے لیے اربوں کے ریلیف پروگرام کا کیا بنا؟ دیہاڑی دار مزدوروں کے کتنے دکھ کم ہوئے، ان کی امداد کے دعوے کہاں گئے۔ البتہ کابینہ نے چینی کے مسئلہ پر طویل المیعاد اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے، یہ تجویز وزیر صنعت حماد اظہر کی طرف سے آئی ہے۔
ضرورت ایک اقتصادی اور سیاسی خود احتسابی کی ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے لیے صائب مشورہ ہے کہ وہ خدارا پنگ پانگ گیم ترک کریں۔ تدبر، دانش مندی اور سنجیدگی سے جمہوریت کے مسلمہ اصولوں پر کاربند رہیں۔ اب تک جو جو سیاسی اقدامات ہوئے ہیں، یا جو ریلیف اور بریک تھرو کیا گیا ہے وہ لفظوں کی گولہ باری تھی، حکومت اپوزیشن کشیدگی، برہمی، محاذآرائی، بلیم گیم اور دشنام طرازی تھی، پارلیمنٹ میں کوئی ایڈمنڈ برک نہیں آیا، اب تو وزیر اعظم کو بازی پلٹ کارکردگی دکھانی ہوگی، کیونکہ 6 ماہ رہ گئے ہیں۔ مورخ نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے، جس پر غالب کا یہ حسرت ناک شعر لکھا ہے:
فرصتِ کاروبارِ شوق کسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں