امریکی وزیر دفاع کا دورہ اسلام آباد

پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ امریکا ڈرون حملوں کو بند کرنے کے لیے تیار نہیں ہے

پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ امریکا ڈرون حملوں کو بند کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔فوٹو:فائل

امریکا کے وزیر دفاع چک ہیگل افغانستان کے دورے کے بعد پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ جمعے کو انھوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف' وزیر دفاع خواجہ محمد آصف' وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار' چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقاتیں کی ہیں۔ خطے کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں چک ہیگل کا دورہ افغانستان اور پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ یوں بھی ہوتا ہے کہ گزشتہ چار سال میں چک ہیگل پہلے امریکی وزیر دفاع ہیں جو پاکستان آئے ہیں۔ امریکا کی سب سے پہلی ترجیح 2014میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی انتظامیہ کی خواہش اور کوشش ہے کہ پاکستان میں طورخم اور چمن سے کراچی تک سپلائی روٹ یا راہداری کھلی رہے اور دہشت گردوں کی کارروائیوں سے محفوظ بھی رہے۔ ادھر پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ امریکا ڈرون حملوں کو بند کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان ڈرون حملوں کے خلاف امریکا سے احتجاج کرتی رہتی ہے اور دوسری جانب خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف بطور احتجاج سڑکوں پر دھرنا دے رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کراچی سے طورخم کے راستے افغانستان جانے والی نیٹو سپلائی معطل ہے۔

امریکا اس صورت حال سے خاصی مشکل میں نظر آتا ہے۔ نیٹو بھی طورخم کا راستہ بند ہونے سے خوش نہیں۔ امریکا اور نیٹو اس حوالے سے یقینی طور پر حکومت پاکستان پر دبائو ڈال رہے ہوں گے۔ اخبارات میں شایع ہونے والی خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے یہ دورہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی بے انتہا قربانیوں کے اعتراف کے لیے کیا ہے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چک ہیگل سے ملاقات کے دوران بھی امریکی ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم دونوں رہنمائوں نے پاک امریکا تعلقات مضبوط بنانے اور ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان اور خطے کے مشترکہ مقصد کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاک امریکا اسٹرٹیجک شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔


جنوبی ایشیاء اور وسط ایشیاء کی اسٹرٹیجک صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ افغان پالیسی کے حوالے سے کئی امور پر دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے پاکستان میں امریکا کے خلاف ردعمل پیدا ہو رہا ہے جس سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ادھر امریکی پالیسی ساز اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ ڈرون حملوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکل کا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ اس وقت طورخم سے نیٹو سپلائی بند ہے۔ امریکی اور نیٹو حکام کو بھی اس کا بخوبی علم ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے بعض اوقات ایسے اقدامات کرتی ہیں جس سے عالمی سطح پر ملک کے مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ اب بھی ایسی اطلاعات سامنے آئیں ہیں جن کے مطابق امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان کے علاقائی (خیبر پختونخوا) حکام نے نیٹو سپلائی روکنے کی اپنی روش برقرار رکھی تو اس سے پاکستان کے لیے امریکا کی اعلان کردہ اربوں ڈالر کی عسکری امداد خطرے میں پڑسکتی ہے۔

جس قسم کے حالات ہیں ان میں یقینی طور پر ایسا ممکن ہو سکتا ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ طورخم کا جو روٹ فی الحال بند ہے وہ احتجاجی دھرنوں کی وجہ سے ہے۔ اس میں خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو یہ سارا کھیل سیاسی ہے۔ اس کی آڑ میں امریکی حکام اگر پاکستان کی عسکری امداد بند کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں تو اسے درست پالیسی قرار دینا مشکل ہے۔ بہر حال امریکی پالیسی سازوں کی اپنی ترجیحات ہیں' وہ جس طرح ڈرون حملوں کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کے موقف کو ابھی تک تسلیم نہیں کر رہے' اسی طرح وہ کوئی دوسرا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ادھر یہ اطلاع بھی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے امریکی وزیر دفاع کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت نیٹو سپلائی کے حوالے سے پیدا ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اقدام کرے گی، موجودہ صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی اور پاکستان افغانستان سے اتحادی افواج کے پر امن انخلا کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا تاہم وزیر اعظم ہائوس سے جاری اعلامیے میں یہ نہیں کہا گیا کہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف اور امریکی وزیر دفاع کی ملاقات میں یہ اہم معاملہ زیر بحث آیا۔

تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ چک ہیگل نے نیٹو سپلائی میں رکاوٹوں پر امریکی حکومت کے تحفظات وزیر اعظم تک پہنچا دیے ہیں۔ بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہوں' امریکی وزیر دفاع کا کابل سے اسلام آباد پہنچنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے نیٹو سپلائی کی بحالی اور افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا معاملہ بھی ضرور اٹھایا ہو گا۔ اسی طرح ڈرون حملوں پر بھی لازمی طور پر بات ہوئی ہو گی۔ پاکستان کو اس وقت امریکی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے جہاں پاکستان کو دہشت گردی ختم کرنا ہے وہیں اسے بیرونی مالی امداد کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان کو اپنی عالمی ذمے داریوں کے حوالے سے ایک واضح اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نیٹو سپلائی اگر بند کرنی ہے تو اس کا فیصلہ بھی وفاقی سطح پر ہونا چاہیے۔ کسی صوبائی حکومت کے زیر سایہ مظاہرین اگر سڑکوں پر آ کر دھرنا دیں اور ایسا کام کریں جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر مشکلات میں اضافہ ہو تو یہ طرز عمل درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کی وفاقی حکومت اور ملک کی سیاسی قیادت کو باہم مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے تا کہ وطن عزیز افغانستان اور امریکا کے حوالے سے ایک متوازن پالیسی اختیار کر سکے۔
Load Next Story