کیا ہم ایک ناکام قوم ہیں

آج کے کرپٹ حکمرانوں اورانکے گروہ کونیکی سے کس نے منع کیا ہے،کون ان کی راہ میں رکاوٹ ہےسوائے انکی بدنیتی اورخودغرضی کے

Abdulqhasan@hotmail.com

یہ وہ مہینہ ہے جب ہماری قیادت کی خود غرضی عروج پر تھی اور ہم نے اپنے وطن عزیز کے صرف نصف حصے کے اقتدار کے لیے اس ملک کو دو ٹکڑے کرایا تھا۔ پھر ان مسلمان ملکوں کو جو اپنے اس سب سے بڑے اسلامی ملک کی بڑائی ختم کرنے پر رنجیدہ تھے' اس صدمے پر راضی کرنے کے لیے اسلامی سمٹ کے نام پر ایک ڈرامہ رچایا، ایک کانفرنس بلائی اصل مقصد یہ تھا کہ ٹوٹے ہوئے پاکستان کے دوسرے حصے کو جو اب بنگلہ دیش تھا مسلمان ممالک تسلیم کر لیں اور اس طرح باقی ماندہ پاکستان کو پورا پاکستان تسلیم کرنے کا اعلان کر دیں جب آپ خود اپنے گھر کو مسمار کر رہے ہیں تو کسی دوسرے کو اس کی کیا فکر۔ میں نے اس سمٹ کی رپورٹنگ کی تھی اور لاہور کی بادشاہی مسجد میں نماز کے وقت شہید شاہ فیصل کی آنکھوں سے رواں آنسوئوں کو بھی رپورٹ کیا تھا۔ یہ دسمبر کا مہینہ تھا اور جو پاکستانی اس ملک کو اپنے جسم و جاں کی طرح سمجھتے تھے وہ اپنے کٹے ہوئے جسم کے درد کی ٹیسوں کو اب بھی محسوس کرتے ہیں جو اپنے پاکستان کو یاد کر کے بیدار ہو جاتی ہیں۔

یحییٰ خان' بھٹو آج کے پاکستان کے باشندے تھے اور شیخ مجیب الرحمان آج کے بنگلہ دیش کے۔ ان تینوں نے ملک توڑا اور ایسے حالات پیدا کر دیے کہ بھارتی اندرا گاندھی نے اس وقت کے لیے اپنی منتظر فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر دیں اور اعلان کیا کہ ہم نے مسلمانوں سے ہزار سال کی غلامی کا بدلہ لے لیا اور یہ بالکل صحیح بات تھی۔ خوش نصیب بھارت آج تک باقی ماندہ پاکستان کے حکمرانوں کے ذریعے اپنا یہ بدلہ جاری رکھے ہوئے ہے چنانچہ اب ہمارے حکمران سخت الجھن میں ہیں کہ وہ اپنے پیارے بھارت کے قدموں میں کب بچھ جائیں گے۔ اس سپردگی کو آسان بنانے کے لیے وہ کبھی ویزے ختم کرتے ہیں اور کبھی دن رات سرحد کھلی رکھ کر مسلسل تجارت کی راہیں پیدا کر رہے ہیں، اس قسم کے حکمرانوں سے یہی امید کی جا سکتی ہے جن کے لیے تجارت ہی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ کسی ملک کی آزادی اور وقار سب ثانوی چیزیں ہیں۔

دسمبر کے ان دنوں میں اس مزاج اور پسند و نا پسند کے لوگ ہمارے حکمران تھے جنہوں نے اپنا آدھا ملک گم ہوتے دیکھا مگر اس حالت کو اپنے ائر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر جھانک کر نہ دیکھا گویا خس کم جہاں پا ک۔ مجھے ایک مسلمان حکمران کا واقعہ یاد آیا جو سرزمین عرب کی سخت ترین گرمی میں کسی حکمران کے کسی کی تلاش میں بھٹکنے کے بارے میں تھا کیونکہ یہ چیز اس کے قومی خزانے کی تھی جس کی حفاظت کا وہ ذمے دار تھا لیکن ایک ہم ہیں کہ اپنا نصف ملک گم ہو گیا مگر ہم نے پلٹ کر نہ دیکھا کہ کیا ہو گیا ہے بلکہ یہ سوچنے لگ گئے کہ اپنی اس خود غرضی اور خود پرستی پر پردہ کیسے ڈالا جائے بلکہ اسے تو خوشی کا ایک موقع ہی کیوں نہ سمجھا جائے کہ پاکستان کا یہ اتحاد تھا ہی ناقابل عمل اور مصنوعی جسے ایک نہ ایک دن ختم ہی ہونا تھا۔ اب میں محض عبرت کے لیے وہ واقعہ درج کر رہا ہوں جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ حکمران اپنے ملک کے اثاثوں کی کس طرح حفاظت کرتے ہیں۔

ایک دن سخت گرمی کی دوپہر میں حضرت عمرؓ تنہا جنگل جا رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے دور سے دیکھا تو پہچان لیا کہ امیر المومنین ہیں۔ قریب جا کر کہا۔

''امیر المومنین! اس سخت گرمی اور لو میں کہاں جا رہے ہیں؟''

فرمایا ''بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا ہے۔ اس کی تلاش میں جا رہا ہوں''۔


انھوں نے عرض کیا ''کسی خادم کو کیوں نہ بھیج دیا؟''

فرمایا ''قیامت میں تو سوال مجھ سے ہو گا' خادم سے نہیں''۔

عرض کیا ''پھر تھوڑی دیر توقف کر کے تشریف لے جائیے' ذرا گرمی کم ہو جائے گی''۔

فرمایا ''جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے''۔ یہ کہہ کر اسی دھوپ اور لو میں آگے تشریف لے گئے۔

آج جب ہم کوئی ایسا واقعہ پڑھتے سنتے ہیں تو محض ازراہ عقیدت تحسین کر کے ہی رہ جاتے ہیں کہ اب ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ حضرت عمرؓ بھی ایک انسان ہی تھے اور ان کی جسمانی طاقت کے کتنے ہی پاکستانی موجود ہیں اور حکمران بھی ہیں جو باقاعدہ ورزش کرتے ہیں تا کہ جان بنا کر رکھیں لیکن ان کے سینے اپنے اندر کسی مقصد کے لیے کوئی درد نہیں رکھتے اور اپنی بدعملی کو پرانے زمانے کی باتیں کہہ کر رد کر دیتے ہیں جیسے اسلام صرف پرانے زمانے کے لوگوں کے لیے تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے انسانی ہدایت والا دین نہیں تھا۔ آج کے کرپٹ حکمرانوں اور ان کے گروہ کو نیکی سے کس نے منع کیا ہے اور کون ہے جو ان کی راہ میں رکاوٹ ہے سوائے ان کی بدنیتی بے عملی اور خود غرضی کے۔

ہمارے اس اشرافیہ کے بارے میں ترکی کے ایک دانشور نے ایک پاکستانی سے کہا ہے کہ ہمارے ہاں اب فوج کے آنے کا سوال ہی ختم کر دیا گیا ہے لیکن پاکستان میں اس کا اشرافیہ پرلے درجے کا کرپٹ اور نااہل ہے۔ ہمارا یہ دوست ترک یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ تم پاکستانی بس اسی طرح ہی اپنے لوگوں کی غلامی کرتے رہو گے۔ گزشتہ الیکشن میں ہم پاکستانیوں نے جن لوگوں کو ووٹ دے کر حکمرانی عطا کی ہے ان کا تعارف کس پاکستانی کے علم میں نہیں ہے، آج لوگ گرانی اور بدامنی کو رو رہے ہیں اور یہ روتے ہی رہیں گے۔ اور ہم گرانی اور بدامنی والوں کو ووٹ دیتے رہیں گے لیکن ہم میں سے کوئی بھی کسی قومی اثاثے کی تلاش میں چند قدم خراب موسم میں نہیں چلے گا۔ کیا ہم ایک ٹوٹے ہوئے ملک کی ناکام قوم ہیں۔
Load Next Story