عدلیہ کا نیا دور
جسٹس افتخار چوہدری عوام کی جدوجہد سے اپنے عہدے پر بحال ہوئے تھے، یہ اعزاز کسی اور چیف جسٹس کو حاصل نہیں
tauceeph@gmail.com
سینیٹرایس ایم ظفرکی کہانی ان کی اپنی زبانی میں وہ لکھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے8 اکتوبر 2002 کو قومی اسمبلی کے انتخابات سے ایک دن قبل آئینی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی ریٹائر منٹ میں 3 سال کی توسیع کردی تھی۔ یوں چیف جسٹس ناظم صدیقی کی مدت ملازمت میں توسیع ہوگئی تھی ، وکلاء نے اس قدم کے خلاف احتجاج شروع کردیا تھا ۔ سپریم کورٹ میں اس ترمیم کو چیلنج کردیا گیا ۔ جنرل پرویز مشرف اپنے اقتدار کو آئینی تحفظ دینے کے لیے متحدہ مجلس عمل کے اراکین سے مذاکرات کررہے تھے' ان کا دبائو تھا کہ اس آئینی ترمیم کو ختم کیا جائے ۔
ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آئی ایس آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل احسان نے انھیں بتایا کہ جب جسٹس ناظم صدیقی کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ زیر غور تھا' سپریم کورٹ کے جونئیر جج صاحبان ان سے رابطے میں تھے اور ہر ایک کی کوشش یہ تھی کہ انھیں چیف جسٹس بنایا جائے ۔ ایس ایم ظفر کے استفسار پر جنرل صاحب نے بتایا کہ فیصلہ یہ ہوا کہ اب بلوچستان کو موقع دیا جائے یوں 30 جون 2005 کو افتخارچوہدری کو ملک کا نیا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔
جسٹس افتخار چوہدری نے 2007 تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ انھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا، مگراسٹیل ملز کی نج کاری کو غیر قانونی قرار دینے سے ان کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جنرل پرویز مشرف مارچ 2007 میں جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ۔ جسٹس افتخار چوہدری کے استعفیٰ دینے کے انکارکرنے سے ملک کی تاریخ کاایک نیا باب شروع ہوا۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان اور وکلاء برادری جسٹس افتخار چوہدری کی حمایت میں یکجا ہوگئی۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے سوائے مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کے اس تحریک کی حمایت کی ۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری نے پی پی پی اور ملک کی قیادت سنبھالی اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے بحال کرنے سے انکار کیا۔ یوں ا ن کے قریبی ساتھی بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت میں ججز بحالی تحریک چلی ، میاں محمد نواز شریف نے بعد میں اس تحریک کی قیادت سنبھال لی اور ان کی قیادت میں لاہور سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جب گوجرانوالہ پہنچا تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا اعلان کر دیا۔یوں جسٹس افتخار چوہدری نے دوبارہ اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اپنی عدالتی پالیسی کا اعلان کیا۔یوں پاکستان میں عدالتی فعالیت کے نئے دور کا آغاز ہوا۔
بعض ناقدین نے اس صورتحال کو پارلیمنٹ کی بالادستی پر ضرب بھی قرار دیا اور جمہوری نظام کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا۔ ادھر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سپریم کورٹ صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے احتساب میں مصروف ہوگئی۔جسٹس عدالت عظمیٰ نے حکومت کو سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو یہ خط لکھنے پر مجبور کیا کہ صدر آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات دوبارہ شروع کیے جائیں ، اس عرصے میں عدالت عظمیٰ نے منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا دے کر نااہل قرار دے دیا ۔ جب دوسرے وزیر اعظم پرویز اشرف کی حکومت سوئٹزرلینڈکی حکومت کوخط لکھنے پر تیار ہوئی تو سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے جواب نے یوسف رضا گیلانی کے اس موقف کی تصدیق کردی کہ بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت منتخب صدر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔
اسی دور میں ایک امریکی شہری کی شکایت پر واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے خلاف فوج کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے امریکا سے مدد مانگنے کے خط پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایاگیاجو میمو گیٹ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کیس میں وڈیو کانفرنس کے ذریعے گواہی کو تسلیم کیا گیا اور اس معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں ارسلان افتخار کیس بھی سامنے آیا۔ جسٹس افتخار چوہدری کا دور عدالتی فعالیت کے حوالے سے ہمیشہ یادرہے گا۔ انھوں نے اہم معاملات پر فوری ازخود نوٹس لیا۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے مجوزہ طریقہ کو بھی نظر انداز کیا۔ اس کی آخری مثال صدارتی انتخاب کے موقعے پر سامنے آئی۔ جب 27 رمضان کو اراکین پارلیمنٹ کے عمرہ پر جانے اور اعتکاف میں بیٹھنے کی بناء پر خواجہ آصف نے وقت سے پہلے انتخاب کرانے کی استدعا کی ۔ معزز چیف جسٹس نے دوسرے صدارتی امیدواروں کو نوٹس جاری کیے بغیر صدارتی انتخاب وقت سے پہلے کرانے کے حق میں فیصلہ دیا ، یوں برصغیر کی عدالتی تاریخ میں یک نئی مثال قائم ہوئی ۔
جسٹس افتخار چوہدری کے سامنے 18ویں ترمیم کی خامیوں کے بارے میں پٹیشن کی سماعت ہوئی ۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے دور میں خاصا حصہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے مقدمات کی سماعت کے لیے صرف کیا ۔ انھوں نے چار سالوں کے دوران اسلام آباد ، کوئٹہ اور کراچی میں ان مقدمات کی مسلسل سماعت کی ، انھوں نے بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے میں کئی دفعہ فرنٹیئر کانسٹبلیری کو ذمے دار قرار دیا۔ انھوں نے اس ضمن میں فرنٹیئر کانسٹبلیری کے ڈائریکٹر جنرل کومتعدد بار عدالتی دبائو پرطلب کیا ۔ معزز عدالت کے سمن پر بلوچستان بد امنی مقدمے میں ڈی جی ایف سی ایک دفعہ عدالت میں پیش ہوئے مگر عدالت اس وقت امن و امان کی صورتحال کی گھتی سلجھانے میں مصروف رہی ، جج صاحب نے دوبارہ ایف سی کے ڈی جی کو طلب کیا مگر وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہوکر اسپتال میں داخل ہوگئے۔
جسٹس صاحب نے کراچی میں رینجرز کے اہلکار کے ہاتھوں ایک نوجوان کے قتل کا نوٹس لیا ۔ ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا مگر ڈی جی رینجرزبعد میں سندھ کے کورکمانڈر مقرر ہوئے ، بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ از خود نوٹس کے رجحان کے باعث سپریم کورٹ میں باقی مقدمات التواء کا شکار ہوئے، پھر یہ باتیں بھی سامنے آتی رہیں کہ وکلاء تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے چند معروف وکیلوں کے مقدمات پر مثبت فیصلے ہوئے جس پر انسانی حقوق کی کارکن اور سپریم کورٹ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے آواز اٹھائی۔ انھوں نے جسٹس افتخار چوہدری کے حامی سمجھے جانے والے وکلاء کے مضبوط گروپ کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑا، عاصمہ جہانگیر اس انتخاب میں کامیاب ہوئی پھر ان کے حامی تمام بار ایسوسی ایشنوں میں کامیاب ہونے لگے ۔ پاکستان بارکونسل کے اراکین نے ججوں کے تقرر کے عدالتی کمیشن کا بائیکاٹ کیا۔یوں وہ وکلاء کی انجمن جس نے ججز کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی 'انھوں نے دوسری لائن اختیار کر لی۔
جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں عدالتوں کے نئے کردار نے کئی سوالات اٹھائے۔ سپریم کورٹ فل بنچ نے جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس کو غیر آئینی قرار دیا ۔یوں سپریم جوڈیشل کونسل کا احتساب کا اختیار ختم ہوا ۔ بہر حال افتخار چوہدری عوام کی جدوجہد سے اپنے عہدے پر بحال ہوئے تھے۔ یہ اعزاز کسی اور چیف جسٹس کو حاصل نہیں ہوا ۔
ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آئی ایس آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل احسان نے انھیں بتایا کہ جب جسٹس ناظم صدیقی کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ زیر غور تھا' سپریم کورٹ کے جونئیر جج صاحبان ان سے رابطے میں تھے اور ہر ایک کی کوشش یہ تھی کہ انھیں چیف جسٹس بنایا جائے ۔ ایس ایم ظفر کے استفسار پر جنرل صاحب نے بتایا کہ فیصلہ یہ ہوا کہ اب بلوچستان کو موقع دیا جائے یوں 30 جون 2005 کو افتخارچوہدری کو ملک کا نیا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔
جسٹس افتخار چوہدری نے 2007 تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ انھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا، مگراسٹیل ملز کی نج کاری کو غیر قانونی قرار دینے سے ان کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جنرل پرویز مشرف مارچ 2007 میں جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ۔ جسٹس افتخار چوہدری کے استعفیٰ دینے کے انکارکرنے سے ملک کی تاریخ کاایک نیا باب شروع ہوا۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان اور وکلاء برادری جسٹس افتخار چوہدری کی حمایت میں یکجا ہوگئی۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے سوائے مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کے اس تحریک کی حمایت کی ۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری نے پی پی پی اور ملک کی قیادت سنبھالی اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے بحال کرنے سے انکار کیا۔ یوں ا ن کے قریبی ساتھی بیرسٹر اعتزاز احسن کی قیادت میں ججز بحالی تحریک چلی ، میاں محمد نواز شریف نے بعد میں اس تحریک کی قیادت سنبھال لی اور ان کی قیادت میں لاہور سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جب گوجرانوالہ پہنچا تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کا اعلان کر دیا۔یوں جسٹس افتخار چوہدری نے دوبارہ اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اپنی عدالتی پالیسی کا اعلان کیا۔یوں پاکستان میں عدالتی فعالیت کے نئے دور کا آغاز ہوا۔
بعض ناقدین نے اس صورتحال کو پارلیمنٹ کی بالادستی پر ضرب بھی قرار دیا اور جمہوری نظام کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا۔ ادھر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سپریم کورٹ صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے احتساب میں مصروف ہوگئی۔جسٹس عدالت عظمیٰ نے حکومت کو سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو یہ خط لکھنے پر مجبور کیا کہ صدر آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات دوبارہ شروع کیے جائیں ، اس عرصے میں عدالت عظمیٰ نے منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا دے کر نااہل قرار دے دیا ۔ جب دوسرے وزیر اعظم پرویز اشرف کی حکومت سوئٹزرلینڈکی حکومت کوخط لکھنے پر تیار ہوئی تو سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے جواب نے یوسف رضا گیلانی کے اس موقف کی تصدیق کردی کہ بین الاقوامی پروٹوکول کے تحت منتخب صدر کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔
اسی دور میں ایک امریکی شہری کی شکایت پر واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے خلاف فوج کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے امریکا سے مدد مانگنے کے خط پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایاگیاجو میمو گیٹ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کیس میں وڈیو کانفرنس کے ذریعے گواہی کو تسلیم کیا گیا اور اس معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا ۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں ارسلان افتخار کیس بھی سامنے آیا۔ جسٹس افتخار چوہدری کا دور عدالتی فعالیت کے حوالے سے ہمیشہ یادرہے گا۔ انھوں نے اہم معاملات پر فوری ازخود نوٹس لیا۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے مجوزہ طریقہ کو بھی نظر انداز کیا۔ اس کی آخری مثال صدارتی انتخاب کے موقعے پر سامنے آئی۔ جب 27 رمضان کو اراکین پارلیمنٹ کے عمرہ پر جانے اور اعتکاف میں بیٹھنے کی بناء پر خواجہ آصف نے وقت سے پہلے انتخاب کرانے کی استدعا کی ۔ معزز چیف جسٹس نے دوسرے صدارتی امیدواروں کو نوٹس جاری کیے بغیر صدارتی انتخاب وقت سے پہلے کرانے کے حق میں فیصلہ دیا ، یوں برصغیر کی عدالتی تاریخ میں یک نئی مثال قائم ہوئی ۔
جسٹس افتخار چوہدری کے سامنے 18ویں ترمیم کی خامیوں کے بارے میں پٹیشن کی سماعت ہوئی ۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے دور میں خاصا حصہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے مقدمات کی سماعت کے لیے صرف کیا ۔ انھوں نے چار سالوں کے دوران اسلام آباد ، کوئٹہ اور کراچی میں ان مقدمات کی مسلسل سماعت کی ، انھوں نے بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملے میں کئی دفعہ فرنٹیئر کانسٹبلیری کو ذمے دار قرار دیا۔ انھوں نے اس ضمن میں فرنٹیئر کانسٹبلیری کے ڈائریکٹر جنرل کومتعدد بار عدالتی دبائو پرطلب کیا ۔ معزز عدالت کے سمن پر بلوچستان بد امنی مقدمے میں ڈی جی ایف سی ایک دفعہ عدالت میں پیش ہوئے مگر عدالت اس وقت امن و امان کی صورتحال کی گھتی سلجھانے میں مصروف رہی ، جج صاحب نے دوبارہ ایف سی کے ڈی جی کو طلب کیا مگر وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہوکر اسپتال میں داخل ہوگئے۔
جسٹس صاحب نے کراچی میں رینجرز کے اہلکار کے ہاتھوں ایک نوجوان کے قتل کا نوٹس لیا ۔ ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا مگر ڈی جی رینجرزبعد میں سندھ کے کورکمانڈر مقرر ہوئے ، بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ از خود نوٹس کے رجحان کے باعث سپریم کورٹ میں باقی مقدمات التواء کا شکار ہوئے، پھر یہ باتیں بھی سامنے آتی رہیں کہ وکلاء تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے چند معروف وکیلوں کے مقدمات پر مثبت فیصلے ہوئے جس پر انسانی حقوق کی کارکن اور سپریم کورٹ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے آواز اٹھائی۔ انھوں نے جسٹس افتخار چوہدری کے حامی سمجھے جانے والے وکلاء کے مضبوط گروپ کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑا، عاصمہ جہانگیر اس انتخاب میں کامیاب ہوئی پھر ان کے حامی تمام بار ایسوسی ایشنوں میں کامیاب ہونے لگے ۔ پاکستان بارکونسل کے اراکین نے ججوں کے تقرر کے عدالتی کمیشن کا بائیکاٹ کیا۔یوں وہ وکلاء کی انجمن جس نے ججز کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی تھی 'انھوں نے دوسری لائن اختیار کر لی۔
جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں عدالتوں کے نئے کردار نے کئی سوالات اٹھائے۔ سپریم کورٹ فل بنچ نے جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس کو غیر آئینی قرار دیا ۔یوں سپریم جوڈیشل کونسل کا احتساب کا اختیار ختم ہوا ۔ بہر حال افتخار چوہدری عوام کی جدوجہد سے اپنے عہدے پر بحال ہوئے تھے۔ یہ اعزاز کسی اور چیف جسٹس کو حاصل نہیں ہوا ۔