بھاشا ڈیم کی تعمیر
دریں اثناء وفاقی حکومت نے ضلع دیامر میں دسمبر2020تک پاک فوج کی 120کمپنیز تعینات کرنیکی منظوری دیدی
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے صنعتی ترقی متاثر ہوئی، معیشت کو نقصان پہنچا، جو قومیں مشکل فیصلے کرنے سے کتراتی ہیں، وہ ترقی نہیں کرسکتیں۔ دیامر بھاشاڈیم ملک کا تیسرا بڑا ڈیم ہوگا جو چلاس اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی تقدیر بدل دے گا، یہاں ترقی کے نئے دورکا آغاز ہوگا، جیسے جیسے ڈیم مکمل ہوگا تجارت کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دیامر بھاشا ڈیم کی سائٹ کے دورے اور تعمیراتی کام کے جائزے کے بعد گلگت بلتستان کے شہر چلاس میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم کو ڈیم پرکام کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وفاقی وزراء فیصل واوڈا، علی امین گنڈا پور بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پن بجلی کی پیداوار سے نہ صرف ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے بلکہ سستی بجلی پیدا ہوگی، اس منصوبے کی تکمیل سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دریں اثناء وفاقی حکومت نے ضلع دیامر میں دسمبر2020تک پاک فوج کی 120کمپنیز تعینات کرنیکی منظوری دیدی۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری حاصل کی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فوج تعیناتی کی منظوری442 ارب روپے کی لاگت سے دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر شروع ہونے پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے توانائی کے قومی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے معاشی بریک تھرو کی جانب پیش رفت کی ایک مثبت کوشش کی ہے، توانائی بحران اور پانی کی قلت سمیت اقتصادی مومنٹم کو برق رفتاری سے نتیجہ خیز بنانے کی جتنی ضرورت اس وقت ہے پہلے کبھی نہ تھی، جدید دور میں کوئی جمہوری اور ترقی پذیر ملک لوڈ شیڈنگ اورسماجی واقتصادی پسماندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا جب کہ پاکستان تحریک انصاف کا تو منشور ایک نئے پاکستان کی تعمیر سے مشروط اور منسلک ہے۔ یہ بڑا چیلنج ہے، اور موجودہ حکومت ہی کو اس کا کریڈٹ ملنا چاہیے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی معیشت پرکورونا وائرس کے ہمہ جہتی اثرات مہیب اور مضرت رسانی میں بہت ہی اعصاب شکن ثابت ہوئے ہیں، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا سے عالمی معیشت ابھی تک نہیں سنبھلی ہے اور اسے کورونا وبا کے خاتمہ کے بعد بھی شدید دھچکے لگتے رہیں گے، بلاشبہ وزیر اعظم کا بھاشا ڈیم منصوبہ پر بلا تاخیر کام شروع کرنے کا فیصلہ قومی امنگوں کی عکاسی اور بھرپور ترجمانی کرتا ہے، ملکی معیشت کو توانائی بحران نے نیم مردہ اور جمود کا شکارکردیا ہے۔
بیروزگاری اور غربت پہلے سے ہی ملکی معیشت کو اضمحلال میں مبتلا کیے ہوئے ہے، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، لوڈ شیڈنگ کے تسلسل اور پاورسیکٹر میں جنریشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے ازکار رفتہ ہونے کے باعث قوم حقیقی جمہوری ثمرات سے بھی محروم ہے لہٰذا پی ٹی آئی حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ترقی کی نوید دے، یہی سبب ہے کہ وزیراعظم نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے توانائی مسئلہ کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کی، دلیرانہ فیصلہ کیا، اور تاریخی حوالوں سے قومی جوش وجذبہ کو مہمیزکیا۔
اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ زندہ قومیں ہمیشہ بولڈ فیصلے کرتی ہیں، کیونکہ جرأت مندانہ فیصلے نہ کرنے والی قومیں ترقی اورخوشحالی کے خواب کی تکمیل نہیں کرسکتیں، یہ المیہ ہے کہ قومی اور ملکی ضروریات میں توانائی کے وسائل کے حصول اور سرسبز پاکستان کے اہداف تک رسائی ایسے ٹارگٹ تھے جنھیں پورا کرنا ہر حکومت کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے تھا، آج کون سا ملک ہے جو بجلی پیدا کرنے اور اپنے آبی وسائل کے ذخیرہ کرنے کے معاملات سے غفلت برت سکتا ہے۔
بجلی ، گیس، ٹرانسپورٹ، زراعت ،تجارت کی فعالیت اور بڑھوتری ہی معیشت کو توانا رکھتی ہے، حکومت ڈیم کی تعمیر پر نگاہ رکھے، بھاشا ڈیم سے متعلق ناقدین کے تبصروں پر ذہن کو صاف رکھے، کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، تاہم توانائی بحران کی بنیادی وجوہ اور بعض بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے البتہ قوم اور سیاستدانوں سمیت ماضی کی حکومتوں کو بھی خود احتسابی سے کام لینا چاہیے کیونکہ تساہل اور دوراندیشی کے فقدان نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
وزیر اعظم نے درست کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو آگے بڑھنے کا سوچتی ہیں اور مشکل فیصلے کرتی ہیں، عوامی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں، انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انصاف کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اورصحت وتعلیم کی سہولیات پر توجہ دینے والی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور وہ ظلم سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ دور اندیشی سے عمل کرنیوالی قومیں ترقی کرتی ہیں، جس طرح چین نے ترقی کی۔ چین میں 30 سالہ منصوبے بنائے گئے۔
ہمارے ملک میں کم مدتی منصوبے بنائے گئے۔ انتخابات کے تناظر میں منصوبے بنائے گئے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کودریاؤں سمیت بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ ہمارے دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیرکے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ماضی میں جب تربیلہ اور منگلا ڈیم بنائے گئے تو اس سے سستی بجلی پیداہوئی اور صنعتوں کو فروغ ملا تاہم بجلی کے منصوبوں کو ایندھن پر منتقل کرنے سے مہنگی بجلی پیدا ہوئی،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں اضافہ ہوا۔ روپے پر دباؤ بڑھنے سے روپے کی قدرکم ہوئی۔ معیشت کو نقصان پہنچا، زیادہ ڈالر باہر جانے سے بھی روپے پر دباؤبڑھا جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
انھوں نے کہا جب ہم اقتدار میں آئے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ20 ارب تھا، درآمدی ایندھن سے بجلی پیداوار متاثر ہوئی، صنعتیں تباہ ہوئیں۔ ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کرکے بڑی غلطی کی۔ چین میں5 ہزار بڑے ڈیم اور مجموعی طور پر 80ہزار ڈیم ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم تعمیرکرنیکا منصوبہ50 سال قبل بنایا گیا لیکن اب اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ یہ قدرتی طور پر ڈیم کے لیے بہترین جگہ ہے۔ ہم نے مستقبل میں ڈیموں کی تعمیرکے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے، پاکستان ان10ملکوں میں شامل ہے جوگلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں ۔ ہم نے گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لیے10ارب درخت لگانے ہیں، دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی درآمد میں کمی آئیگی، سستی بجلی پیدا ہو گی۔ اس منصوبے سے ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔
کورونا وبا کے باعث مشکل صورتحال کا سامنا ہے، بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔گلگت بلتستان کی حکومت ایس او پیزکے ساتھ سیاحت کے شعبے کوکھولے۔ دیگر ممالک سیاحت کے شعبے کو بتدریج کھول رہے ہیں، چلاس کے لوگو ںکو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ رواں سال گلگت بلتستان کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان سمیت پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو بھی فنڈز فراہم کررہے ہیں۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ چیئرمین واپڈا کی جانب سے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکا کام شروع ہوگیا ہے، منصوبے سے16ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے۔ 6.4ملین ایکڑ فٹ پانی کے ذخیرے سے12لاکھ ایکڑ زرعی علاقہ سیراب ہوگا، منصوبے سے4500 میگا واٹ سستی، ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی، سیمنٹ اور اسٹیل کی صنعت کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان سے فون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میگا پروجیکٹس اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی ہی پاکستان کا مستقبل ہے، معیشت کی بہتری پر حکومت کی پوری توجہ ہے، عوام جلد تبدیلی دیکھیں گے۔ بابر اعوان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ بھاشا ڈیم کا منصوبہ ملک کی تقدیر بدل دے گا، ویسے تو 40سال پہلے اس نوعیت کے بڑے منصوبے بننا شروع ہوجاتے تو آج پاکستان ترقی یافتہ ملک کہلاتا۔
اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ اہل سیاست نے آبی وسائل، جنگلات کے کٹاؤ، ماحولیات کے پیچیدہ مسائل ، ڈیموں کی بروقت اور مناسب تعداد میں تعمیر اور زراعت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے عہد آفریں اور تاریخ ساز فیصلے کرنے میں ہمیشہ مالیاتی بخیلی سے کام لیا، رزاقی نہیں دکھائی، زندہ قوموں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد سے آگے دیکھتی ہیں، اپنی نسلوں کے مستقبل اور تہذیب، معیشت،سیاست اور تجارت کو عوام کی آسودگی اور خوشحالی سے مربوط رکھتی ہیں، ملکی تاریخ میں دو ڈیم بنے تھے اور وہ آمریت کے دور میں بنے ، تربیلہ اور منگلا ڈیم۔ دونوں اپنی طبعی عمرگزار چکے۔
قوم و ملک ان سے سیراب ہوتے رہے لیکن جمہوری حکمرانوں کی ترجیح کبھی تیسرے یا چوتھے ڈیمزکی تعمیر پر مرکوز نہیں رہی، 72برس گزر گئے، بادوباراں، سیلاب کی تباہ کاریاں ہمارے مژگاں نہ کھول سکیں، رین ایمرجنسی کے سیکڑوں ہنگامی اقدامات اور زلزلوں کی گڑگڑاہٹ ارباب اختیار اور قوم کو بیدار نہیں کرسکی۔ مگر اب دیامربھاشا ڈیم ایک استعارہ ہے ، قومی امنگوں اور سیاسی ارادہ کا۔ قوم آبی قلت اور توانائی بحران کا حتمی حل چاہتی ہے، وزیراعظم ثابت قدمی کے ساتھ اس ڈیم کی تعمیرو تکمیل کو نقطہ کمال تک پہنچائیں۔
وزیراعظم کو ڈیم پرکام کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وفاقی وزراء فیصل واوڈا، علی امین گنڈا پور بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پن بجلی کی پیداوار سے نہ صرف ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے بلکہ سستی بجلی پیدا ہوگی، اس منصوبے کی تکمیل سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دریں اثناء وفاقی حکومت نے ضلع دیامر میں دسمبر2020تک پاک فوج کی 120کمپنیز تعینات کرنیکی منظوری دیدی۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری حاصل کی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فوج تعیناتی کی منظوری442 ارب روپے کی لاگت سے دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر شروع ہونے پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے توانائی کے قومی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے معاشی بریک تھرو کی جانب پیش رفت کی ایک مثبت کوشش کی ہے، توانائی بحران اور پانی کی قلت سمیت اقتصادی مومنٹم کو برق رفتاری سے نتیجہ خیز بنانے کی جتنی ضرورت اس وقت ہے پہلے کبھی نہ تھی، جدید دور میں کوئی جمہوری اور ترقی پذیر ملک لوڈ شیڈنگ اورسماجی واقتصادی پسماندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا جب کہ پاکستان تحریک انصاف کا تو منشور ایک نئے پاکستان کی تعمیر سے مشروط اور منسلک ہے۔ یہ بڑا چیلنج ہے، اور موجودہ حکومت ہی کو اس کا کریڈٹ ملنا چاہیے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی معیشت پرکورونا وائرس کے ہمہ جہتی اثرات مہیب اور مضرت رسانی میں بہت ہی اعصاب شکن ثابت ہوئے ہیں، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا سے عالمی معیشت ابھی تک نہیں سنبھلی ہے اور اسے کورونا وبا کے خاتمہ کے بعد بھی شدید دھچکے لگتے رہیں گے، بلاشبہ وزیر اعظم کا بھاشا ڈیم منصوبہ پر بلا تاخیر کام شروع کرنے کا فیصلہ قومی امنگوں کی عکاسی اور بھرپور ترجمانی کرتا ہے، ملکی معیشت کو توانائی بحران نے نیم مردہ اور جمود کا شکارکردیا ہے۔
بیروزگاری اور غربت پہلے سے ہی ملکی معیشت کو اضمحلال میں مبتلا کیے ہوئے ہے، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، لوڈ شیڈنگ کے تسلسل اور پاورسیکٹر میں جنریشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کے ازکار رفتہ ہونے کے باعث قوم حقیقی جمہوری ثمرات سے بھی محروم ہے لہٰذا پی ٹی آئی حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ترقی کی نوید دے، یہی سبب ہے کہ وزیراعظم نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے توانائی مسئلہ کو حل کرنے کی جانب پیش قدمی کی، دلیرانہ فیصلہ کیا، اور تاریخی حوالوں سے قومی جوش وجذبہ کو مہمیزکیا۔
اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ زندہ قومیں ہمیشہ بولڈ فیصلے کرتی ہیں، کیونکہ جرأت مندانہ فیصلے نہ کرنے والی قومیں ترقی اورخوشحالی کے خواب کی تکمیل نہیں کرسکتیں، یہ المیہ ہے کہ قومی اور ملکی ضروریات میں توانائی کے وسائل کے حصول اور سرسبز پاکستان کے اہداف تک رسائی ایسے ٹارگٹ تھے جنھیں پورا کرنا ہر حکومت کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے تھا، آج کون سا ملک ہے جو بجلی پیدا کرنے اور اپنے آبی وسائل کے ذخیرہ کرنے کے معاملات سے غفلت برت سکتا ہے۔
بجلی ، گیس، ٹرانسپورٹ، زراعت ،تجارت کی فعالیت اور بڑھوتری ہی معیشت کو توانا رکھتی ہے، حکومت ڈیم کی تعمیر پر نگاہ رکھے، بھاشا ڈیم سے متعلق ناقدین کے تبصروں پر ذہن کو صاف رکھے، کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، تاہم توانائی بحران کی بنیادی وجوہ اور بعض بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے البتہ قوم اور سیاستدانوں سمیت ماضی کی حکومتوں کو بھی خود احتسابی سے کام لینا چاہیے کیونکہ تساہل اور دوراندیشی کے فقدان نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
وزیر اعظم نے درست کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو آگے بڑھنے کا سوچتی ہیں اور مشکل فیصلے کرتی ہیں، عوامی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں، انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انصاف کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اورصحت وتعلیم کی سہولیات پر توجہ دینے والی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور وہ ظلم سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ دور اندیشی سے عمل کرنیوالی قومیں ترقی کرتی ہیں، جس طرح چین نے ترقی کی۔ چین میں 30 سالہ منصوبے بنائے گئے۔
ہمارے ملک میں کم مدتی منصوبے بنائے گئے۔ انتخابات کے تناظر میں منصوبے بنائے گئے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کودریاؤں سمیت بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ ہمارے دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیرکے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ماضی میں جب تربیلہ اور منگلا ڈیم بنائے گئے تو اس سے سستی بجلی پیداہوئی اور صنعتوں کو فروغ ملا تاہم بجلی کے منصوبوں کو ایندھن پر منتقل کرنے سے مہنگی بجلی پیدا ہوئی،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں اضافہ ہوا۔ روپے پر دباؤ بڑھنے سے روپے کی قدرکم ہوئی۔ معیشت کو نقصان پہنچا، زیادہ ڈالر باہر جانے سے بھی روپے پر دباؤبڑھا جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
انھوں نے کہا جب ہم اقتدار میں آئے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ20 ارب تھا، درآمدی ایندھن سے بجلی پیداوار متاثر ہوئی، صنعتیں تباہ ہوئیں۔ ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کرکے بڑی غلطی کی۔ چین میں5 ہزار بڑے ڈیم اور مجموعی طور پر 80ہزار ڈیم ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم تعمیرکرنیکا منصوبہ50 سال قبل بنایا گیا لیکن اب اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ یہ قدرتی طور پر ڈیم کے لیے بہترین جگہ ہے۔ ہم نے مستقبل میں ڈیموں کی تعمیرکے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے، پاکستان ان10ملکوں میں شامل ہے جوگلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں ۔ ہم نے گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لیے10ارب درخت لگانے ہیں، دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی درآمد میں کمی آئیگی، سستی بجلی پیدا ہو گی۔ اس منصوبے سے ماحول پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔
کورونا وبا کے باعث مشکل صورتحال کا سامنا ہے، بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔گلگت بلتستان کی حکومت ایس او پیزکے ساتھ سیاحت کے شعبے کوکھولے۔ دیگر ممالک سیاحت کے شعبے کو بتدریج کھول رہے ہیں، چلاس کے لوگو ںکو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ رواں سال گلگت بلتستان کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان سمیت پسماندہ علاقوں اور لوگوں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو بھی فنڈز فراہم کررہے ہیں۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ چیئرمین واپڈا کی جانب سے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکا کام شروع ہوگیا ہے، منصوبے سے16ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے۔ 6.4ملین ایکڑ فٹ پانی کے ذخیرے سے12لاکھ ایکڑ زرعی علاقہ سیراب ہوگا، منصوبے سے4500 میگا واٹ سستی، ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی، سیمنٹ اور اسٹیل کی صنعت کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان سے فون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میگا پروجیکٹس اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی ہی پاکستان کا مستقبل ہے، معیشت کی بہتری پر حکومت کی پوری توجہ ہے، عوام جلد تبدیلی دیکھیں گے۔ بابر اعوان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ بھاشا ڈیم کا منصوبہ ملک کی تقدیر بدل دے گا، ویسے تو 40سال پہلے اس نوعیت کے بڑے منصوبے بننا شروع ہوجاتے تو آج پاکستان ترقی یافتہ ملک کہلاتا۔
اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ اہل سیاست نے آبی وسائل، جنگلات کے کٹاؤ، ماحولیات کے پیچیدہ مسائل ، ڈیموں کی بروقت اور مناسب تعداد میں تعمیر اور زراعت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے عہد آفریں اور تاریخ ساز فیصلے کرنے میں ہمیشہ مالیاتی بخیلی سے کام لیا، رزاقی نہیں دکھائی، زندہ قوموں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد سے آگے دیکھتی ہیں، اپنی نسلوں کے مستقبل اور تہذیب، معیشت،سیاست اور تجارت کو عوام کی آسودگی اور خوشحالی سے مربوط رکھتی ہیں، ملکی تاریخ میں دو ڈیم بنے تھے اور وہ آمریت کے دور میں بنے ، تربیلہ اور منگلا ڈیم۔ دونوں اپنی طبعی عمرگزار چکے۔
قوم و ملک ان سے سیراب ہوتے رہے لیکن جمہوری حکمرانوں کی ترجیح کبھی تیسرے یا چوتھے ڈیمزکی تعمیر پر مرکوز نہیں رہی، 72برس گزر گئے، بادوباراں، سیلاب کی تباہ کاریاں ہمارے مژگاں نہ کھول سکیں، رین ایمرجنسی کے سیکڑوں ہنگامی اقدامات اور زلزلوں کی گڑگڑاہٹ ارباب اختیار اور قوم کو بیدار نہیں کرسکی۔ مگر اب دیامربھاشا ڈیم ایک استعارہ ہے ، قومی امنگوں اور سیاسی ارادہ کا۔ قوم آبی قلت اور توانائی بحران کا حتمی حل چاہتی ہے، وزیراعظم ثابت قدمی کے ساتھ اس ڈیم کی تعمیرو تکمیل کو نقطہ کمال تک پہنچائیں۔