’آپ کا ٹیسٹ ’مثبت‘ آیا ہے۔۔۔‘

مجھے نہیں معلوم تھا کہ پہلی بار اکیلے دوسرے شہر کا سفر ایک آزمائش بن جائے گا

فوٹو : فائل

'کورونا' کے دوران بخار ہونا جسم میں درد اور کھانسی ہونا وغیرہ وہ علامات ہیں، جو کسی وائرل بخار کا مریض بھی محسوس کرتا ہے، لیکن اس بیماری کے دوران ایک وہ وقت بھی اتا ہے، جب پسلیاں بہت زیادہ دُکھنے لگتی ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کے اندر کوئی زخم ہے، جو بری طرح دُکھ رہا ہے، جس میں سانس لینا بھی دشوار ہوتا ہے اور ایسے میں مریض کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

پہلے گلا خراب ہوتا ہے، کھانسی کی شدت بڑھتی جاتی ہے، جسم تیز بخار سے ٹوٹنے لگتا ہے، ایک کمزور انسان کے لیے اتنا ہی برداشت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔! ساتھ ہی پیٹ خراب ہونے سے جسم کا سارا پانی نکل جائے، تو نقاہت میں مریض کا اٹھنا بیٹھنا تو دور، اس کا ہلنا جلنا بھی دوبھر ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں کچھ بھی کھانے پینے کا دل نہیں چاہتا، تو کمزوری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایسا مرض جس کا کوئی علاج ہی نہیں، اس لیے کہا جاتا ہے کہ بخار ہو جائے، تو پیناڈول کھالیں کھانسی بڑھ جائے، تو کھانسی کا شربت گرم پانی میں ملا کے پی لیں، تاکہ نیند اجائے اور کچھ وقت آرام سے گزر سکے، اور بھرپور نیند کے ذریعے آپ کا مدافعتی نظام جلد اس قابل ہو جائے کہ وہ اس مرض کو پَس پا کر سکے۔

اس مرض میں یہ مرحلہ کافی کٹھن ہوتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ وہ بالکل اکیلا ہے، کوئی قریب موجود نہیں، گھر والے بھی پاس آنا چاہیں، تو انہیں آنے کی اجازت نہیں، اپنی تکلیف کسے بتائے، اس لیے وہ وقت خاموشی سے ہمت سے کاٹنا ہی واحد حل ہے، ایسے میں اللہ کی یاد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اپ اپنے رب سے قریب اپنے شفا کی دعا اپنے گناہوں کی بخشش گڑگڑا کر مانگتے ہیں۔

کوئی آپ سے کتنی ہی محبت کرتا ہو، جب وہ منہ لپیٹ کر، 'جراثیم کُش' اسپرے کرنے کے بعد دروازہ کھولے، اس دروازے کے پاس اپ کا کھانا رکھ کر فوراً وہاں سے دور ہٹ جائے، تو احتیاطی تدابیر کے طور پر بے شک یہ بالکل درست ہے، لیکن مریض کا دل ایک لمحے کے لیے دُکھتا ضرور ہے کے میں یہ کیسی بیماری کا شکار ہوگیا ہوں۔۔۔!

اگرچہ گھر والے اور قریبی دوست اپ کی ہمت بنیں گے، اپ کو مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے، دور بیٹھ کر اپ سے رابطے میں رہیں گے، باتیں وغیرہ بھی کریں گے، ویڈیو کال 'وٹس ایپ' جیسی سہولتوں کے زریعے اپ سے دن رات جڑے رہیں گے، اپ کے لیے رب سے دعا کریں گے، شاید اکیلے میں آنسو بھی بہائیں۔۔۔ لیکن دوسری طرف ان رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کوئی اور اپ کے بعد بیمار ہو جائے، تو اپ کا قصور نہ ہوتے ہوئے بھی سارا ملبہ آپ پر ڈال دیا جاتا ہے کہ یہ بیماری اپ نے جان بوجھ کر لوگوں میں منتقل کی ہے۔

کئی اداروں نے اپنے ملازمین کو کورونا ہونے پر نوکریوں تک سے فارغ کر دیا، اور صحت یاب ہونے کے باوجود انہیں دفتر کے اس پاس پھٹکنے نہیں دیا، ہر چند کہ انہوں نے اپنی تازہ رپورٹیں دکھائیں کہ وہ اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ تاہم بہت سے اداروں کے 'کارکن' روبہ صحت ہونے کے بعد اپنے کام پر واپس بھی گئے، انہیں خوش آمدید کہا گیا اور اب وہ لوگ دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنا 'پلازمہ' عطیہ کر رہے ہیں۔ یعنی کس کا کتنا ظرف ہے اور کون کتنا بے ظرف یہ سب سامنے آنے میں صرف 15 دن لگتے ہیں۔

اکیلا رہنا، اپنی تکلیفوں سے خود لڑنا اور ان کا سامنا کرنا، لوگوں کا پیار، کچھ لوگوں کے نفرت خدا کی قربت، جسمانی طور پر بے حد کمزور ہونے کے بعد جب کورونا کا مریض صحت یاب ہوتا ہے، تو وہ ایک مضبوط انسان بن کر دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اسے اپنے اور پرائے کی پہچان بہت اچھی طرح ہو جاتی ہے، کسی کی مدد کے بغیر زندگی جینے کا ہنر بھی آجاتا ہے۔ لوگ اگرچہ احتیاطی تدابیر کے طور پر منہ ڈھانپے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کے رویوں سے دراصل ان کے چہروں سے 'نقاب' اتر جاتے ہیں۔

ہم سب کو یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ کسی کے ساتھ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے، اگر ہم اس وبا کے وقت بھی ایک نہیں ہو سکتے، کسی کی تکلیف کا ٹھیک طرح احساس نہیں کر سکتے، تو خاموش رہ کر اتنا تو کر لیں کہ اپنی 'نفرتوں' کا زہر اس مریض تک نہ پہنچے کہ وہ کورونا کا مقابلہ کرنے کے بعد زندگی کی طرف واپس انے کے بہ جائے اپ کے لفظوں اور رویوں کے زہر کی شدت سے ہی مر جائے۔

میں یہ سب باتیں اس لیے کر رہی ہوں، کیوں کہ میں خود 'کورونا' کی مریض رہ چکی ہوں۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ مجھے اپنی جنم بھومی کراچی ایسے حالات میں چھوڑنی پڑی جب کورونا کے سبب تمام لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی، گھر والے گھر پر ایک ساتھ تھے اور میں ان سب کو چھوڑ کر اپنی ملازمت کے سلسلے میں سیکڑوں کلو میڑر دور لاہور جا رہی تھی، کبھی زندگی میں گھر والوں کو چھوڑ کر ایسے رہنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔

اس لیے پریشان بھی تھی اور اللہ کا شکر بھی ادا کر رہی تھی کے کم ازکم اس وبا کے دور میں جب سب بے روزگاری کے خطرات سے دوچار ہیں، اللہ نے مجھے مصروف رہنے کا موقع فراہم کیا ہے، لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ پہلی بار اس طرح دور جانے کا تجربہ میرے لیے کیسی آزمائش بننے والا ہے۔۔۔

جب لاہور پہنچی، تو میرا گلا خراب ہوا اور شدید کھانسی اور بخار نے آلیا، مگر میں نے اسے نظر انداز کیا اور دفتر جا کے 'جوائنگ' دے دی، 10، 12 دن تک کھانسی کی شدت بہت زیادہ رہی، جو بھی ملتا، وہ دو ہی سوال کرتا کہ اپ کی طبیعت خراب ہے؟ آپ نے ٹیسٹ کروایا۔۔۔؟ لیکن میں یہی کہتی رہی کہ مجھے الرجی ہو گئی ہے، ٹھیک ہو جاؤں گی، اور ایسے ہی مزید کچھ اور دن گزر گئے۔

ایک دن طبعیت زیادہ خراب محسوس ہونے لگی، گھر والوں سے بات ہوئی، انہوں نے طبیعت کا سن کر بہت اصرار کیا کہ واپس آجاؤ، لیکن جن حالات میں شہر چھوڑا اس وقت واپس آنا ممکن نہیں تھا۔۔۔ ان ہی دنوں دفتر میں کچھ ملازمین کی طبیعت خراب ہوئی اور اِن کو 'کورونا' کی تشخیص ہوئی، تب مجھے احساس ہوا کہ اب مجھے بھی اپنا ٹیسٹ کروا لینا چاہیے، کیوں کہ میں بھی دفتر میں روزانہ انہی لوگوں سے رابطے میں رہتی تھی۔


پھر یہ ایک ذمہ داری بھی تھی کیوں کہ اگر میں بھی اس وائرس کا شکار ہوں، تو پھر میں خود سے دوسروں کو متاثر ہونے سے بچاؤں، لیکن لاہور کے اسپتال اور کلینک اور لیب وغیرہ کہاں ہیں، مجھے اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔ ٹیسٹ کرانے کہاں اور کیسے جاؤں۔۔۔؟ پھر معلوم ہوا کہ ایک نجی لیب والے گھر آکر بھی ٹیسٹ کر لیتے ہیں اور پھر اگلے دن رپورٹ 'آن لائن' دست یاب ہو جاتی ہے، سو انہیں کال کی، میری طبیعت چوں کہ ٹھیک نہیں تھی، اب میں نے خود کو مکمل طور پر 'علاحدہ' کیا ہوا تھا، میرے ہاسٹل کا چوکی دار لیب والوں کو میرے کمرے تک لایا۔۔۔

مخصوص ماسک لگائے، اور مخصوص حفاظتی لباس پہنے وہ شخص اپنے تمام آلات کے ساتھ موجود تھا، جس نے ناک میں نرم پتلی سی لمبی تیلی ڈال کر نہایت تکلیف دہ عمل سے ٹیسٹ کے لیے 'نمونہ' حاصل کیا۔

اس ٹیسٹ کی فیس آٹھ ہزار روپے تھی، جو کہ ایک اچھی خاصی رقم تھی اور میں یہ سوچنے لگی کے ایک غریب آدمی کیسے یہ ٹیسٹ کروا سکتا ہے، اس کے تو شاید مہینے بھر کا راشن اتنی قیمت میں آتا ہوگا۔ پھر میں نے گھر فون کیا اور اپنی مما کو بتایا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے اور میں نے 'کورونا' کا ٹیسٹ کروایا ہے۔ میں اس وقت تیز بخار سے نڈھال تھی، سارا دن ہی سوتے جاگتے میں گزرا، کچھ کھایا پیا بھی نہیں جا رہا تھا۔

اگلے دن صبح ہوتے ہی تجسس ہوا کہ جلدی سے جان سکوں کہ میری رپورٹ مثبت ہے یا منفی۔۔۔؟ بہت ہمت جتا کر 'ان لائن' چیک کیا، لیکن کچھ پتا نہ چلا، دوسری طرف سب دوست رشتے دار فون اور میسج کر کے خیریت دریافت کر رہے تھے۔۔۔ سہ پہر کو نجی لیب سے ایک فون ایا کہ آپ خود کو 'آئسولیٹ' کر لیں، اپ کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔۔۔!

یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر میں کافی دیر اکیلے بیٹھ کے بے بسی سے روتی رہی کہ یہاں تو میں بالکل اکیلی ہوں، اور اس طبیعت میں، میرا کوئی خیال رکھنے والا بھی نہیں۔۔۔ اب میں گھر والوں سے ٹیسٹ کی رپورٹ کو راز نہ رکھ سکی اور انہیں سچ سچ بتا دیا، وہ بھی بہت پریشان ہوئے، اور کہا کہ ہم تمہارے پاس آ رہے ہیں، میں انہیں سمجھاتی رہی کہ یہاں آ کر بھی کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ اس بیماری میں، میں آپ سے مل بھی نہیں سکوں گی، نہ ہی اپ میں سے کوئی میرے پاس ٹھیر سکے گا۔۔۔ تو بہتر یہی ہے کہ آپ نہ آئیں۔

اب میری حالت یہ تھی کہ تیز بخار اور پسلیوں میں درد کے مارے رات رات بھر نیند نہیں اتی تھی۔۔۔ بھوک نہیں لگتی تھی، پیٹ بھی خراب ہوگیا، کبھی قے ہوتی تو کبھی سانس اٹکنے لگتا، لیکن میں نے گھر والوں کو اس سنگینی کا احساس نہیں ہونے دیا کہ میں بہت زیادہ بیمار ہوں، خود ہی تمام صورت حال سے مقابلہ کرتی رہی، یہاں نہ کوئی دوست تھا نہ ایسا کوئی اپنا، جس سے اس کیفیت میں کچھ ڈھارس بنی رہتی۔۔۔ یوں میں اس آزمائش میں بالکل تنہا تھی، حقیقت میں میرے سوا کسی کو میری اس تکلیف کی شدت کا اندازہ نہیں تھا، یا یوں کہہ لیں کہ میں نے ہی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔

ایک ہفتہ ایسے ہی گزر گیا، یہ رمضان کے دن تھے، میں یہ سوچ کر اور بھی اداس رہتی تھی کہ میری عبادت میں بھی خلل پڑ رہا تھا۔ پھر سات دن گزارنے کے بعد اگلا ٹیسٹ کروایا، تو وہ الحمد للہ منفی تھا۔۔۔ میری طبیعت کافی بہتر ہو چکی تھی، لیکن بخار کی شدت سے جو کمزوری ہوئی تھی۔۔۔ اسے دور ہونے میں مزید کچھ وقت لگا اور پھر کچھ دنوں بعد اللہ کے حکم سے میں مکمل طور پر صحت یاب ہوگئی۔

اس تمام دورانیے میں میں اکیلی تھی، میرے ساتھ کوئی نہیں تھا، جو اپنے میرے پاس آنا چاہ رہے تھے، ان کا انا بے سود تھا، اس لیے انہیں انے سے روک دیا، لیکن اس برے وقت نے جہاں کچھ لوگوں کے برے رویے ظاہر کیے، وہیں یہ بھی بتایا کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہر نہیں کرتے، لیکن درحقیقت ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں، بچوں سے لے کر بزرگوں تک، دنیا بھر میں جہاں جہاں رشتے دار دوست اور عزیر موجود ہیں۔

سبھی نے میری دل جوئی کی اور حال احوال پوچھا، دراصل انھی کی دعاؤں بھرے پیغامات سے میرا حوصلہ بڑھا اور مجھے اس مشکل وقت میں اکیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیا۔ مجھے اپنوں کے توقع سے زیادہ پیار نے حیران کیا، تو کسی کی بے رخی اور دھتکار نے نہ صرف حیران کیا بلکہ دل بھی دُکھایا۔

میں نے اپنوں کے جس پیار اور احساس کو اس وقت محسوس کیا، اتنا کبھی نہیں کیا تھا، حقیقت میں ان سچے جذبوں نے ہی مجھے دوبارہ زندہ کیا، ورنہ میں زندگی سے کافی مایوس ہوچکی تھی۔۔۔ جب رات میں پورا جسم تیز بخار میں تپتا، تب اپنی امی کی یاد اتی تھی، کاش! وہ میرے پاس ہوتیں اور ہر لمحہ میرا خیال رکھتیں، جیسا کہ مجھے بیماری میں ان کے پل پل ساتھ رہنے کی عادت ہے۔ جب پیاس لگتی تو بھابھیوں اور بھتیجوں کی یاد آتی، جو رات کے کسی بھی پہر میری ایک اواز پر ہر چیز حاضر کر دیتے تھے۔

'کورونا' کے دوران کمزوری میں پھل یا جوس وغیرہ لینا ضروری تھے، لیکن یہاں نئے شہر میں کون لے کر آتا۔۔۔ اس لیے مجبوراً کیک، بسکٹس اور اس جیسی دوسری چیزوں پر گزارا کیا، گھر میں ہوتی تو میرے پاپا ایک کال پر میرے لیے طرح طرح کے پھل لے آتے، دن میں الگ پریشانی رہتی اور رات میں الگ وحشت ہوتی تھی۔ اس دوران گھر والوں کو بھی یہ یقین دلاتی رہی کہ میں ٹھیک ہوں، تاکہ ان کی پریشانی میں اضافہ نہ ہو۔

میں نے اس وقت کو بہت ہمت سے گزارا۔۔۔ مجھے ایک طرف یہ یقین ہوگیا کہ انسان دنیا میں اکیلا بھی زندگی گزار سکتا ہے، مگر دوسری طرف یہ احساس بھی تھا کہ اپنوں کی دعائیں اور حوصلہ بڑھانا بھی بہت ضروری ہے، یوں میں نے کام یابی سے صحت یابی کا سفر طے کیا، جن لوگوں نے میرا خیال رکھا، دل کی گہرایوں سے ان کی شکر گزار ہوں۔۔۔ ہمارے معاشرے میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ موجود ہیں، کوئی آ پ کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے یہ اس کا فعل ہے، لیکن اگر کچھ منفی سوچ رکھنے والے لوگ اپنے رویے سے آپ کا دل دکھانے میں کام یاب ہو جاتے ہیں، تو یہ بھی دراصل آپ ہی کی غلطی ہے کہ آپ نے ایسے لوگوں سے اچھی امید وابستہ کی۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وائرس کسی کو بھی ہو سکتا ہے، یہ جانتے ہوئے بھی اس سے بچاؤ کے نام پر لوگ دوسروں کا دل دُکھاتے ہیں، مریض کو اتنا اچھوت سمجھتے ہیں کہ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ فاصلے اور احتیاطی تدابیر کے نام پر اسے نفرت اور ناپسندیدگی کا نشانہ بنانے لگے ہیں۔

ایسے واقعات بھی سننے میں ائے کہ اولاد نے بیماری کے بعد ماں باپ سے اتنی دوری کرلی کہ گویا کوئی تعلق ہی نہیں رہا ہو۔۔۔! ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ برا وقت کسی پر بھی اسکتا ہے، کسی کے منفی رویے کا سامنا کر کے ہی سبق لینا ضروری نہیں ہے، ہمیں خود بھی احساس ہونا ضروری ہے۔
Load Next Story