امریکا افغانستان کو دیوار سے نہ لگائے کرزئی پرتشدد واقعات میں 28 افراد ہلاک

واشنگٹن سیکیورٹی معاہدےپردستخط کیلیےافغانستان پردباؤ ڈال رہا ہے اور اس کا رویہ بالکل ایک نوآبادیاتی طاقت کی طرح کاہے

کرزئی2014 کے بعد افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی سے متعلق سیکیورٹی معاہدے پردستخط میں دیرنہ کریں،صدارتی امیدواروں کامطالبہ، فوٹو:فائل

افغان صدر حامد کرزئی نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سیکیورٹی معاہدے پردستخط کرنے کے لیے افغانستان پردباؤ ڈال رہا ہے اوراس کا رویہ بالکل ایک نوآبادیاتی طاقت کی طرح کا ہے۔


انھوں نے کہاکہ امریکا افغان شہریوں کے خلاف نفسیاتی جنگ لڑرہا ہے،افغان صدر نے ایک فرانسیسی اخبارکوانٹرویو میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کیلیے امریکی سفارتکارجیمزڈوبن نے افغانستان کے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ سیکیورٹی معاہدے کے بغیرافغانستان میں امن نہیں رہے گا۔ افغان صدر نے اس بیان کی تشریح کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگرآپ معاہدے پردستخط نہیں کریں گے تووہ افغانستان میں جنگ کروائیں گے اور مسائل پیداکریں گے۔ صدر کرزئی نے کہا کہ امریکا افغانستان کو دیوار سے نہیں لگا سکتا۔ انھوں نے کہا جوکچھ وہ آجکل سن رہے ہیں اور جوکچھ انھوں نے ماضی میں سنا ہے وہ نوآبادیاتی دور میں استحصال کی ایک مثال لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغان سر نہیں جھکائیں گے اور وہ کئی نوآبادیاتی طاقتوں سے لڑ چکے ہیں اور وہ اس کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

دریں اثنا افغانستان کے صدارتی امیدواروں نے صدرکرزئی سے کہا کہ وہ 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے حوالے سے سیکیورٹی معاہدہ کرنے میں دیر نہ کریں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا جب حامد کرزئی نے ملک میں آنے والے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا استقبال کرنے کے بجائے ایران کا رخ کیا۔ دوسری طرف افغانستان میں اتحادی فورسزکے آپریشن، جنگی طیاروں کی بمباری اور طالبان کے راکٹ حملوں میں 28 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ افغان پولیس نے 32 طالبان کے سرنڈر کرنے اور مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ صوبہ وردک میں اتحادی فوج کے فضائی حملے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ صوبہ بدغیث میں طالبان کی جانب سے فائر کیا گیا راکٹ ایک گائوں میں گرنے سے 6 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ نے راکٹ حملے کی تصدیق کردی۔ اتحادی فورسز کی جانب سے مختلف صوبوں میں جاری آپریشنز میں 15طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ صوبہ قندھار میں 32طالبان نے ہتھیار ڈال کرامن عمل میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
Load Next Story