کراچی حصص مارکیٹ میں تیزی94پوائنٹس کا اضافہ
انڈیکس24973ہوگیا،234 کمپنیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، مارکیٹ سرمائے میں25ارب 66 کروڑکا اضافہ
کاروباری حجم منگل کی نسبت1.29 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ98 لاکھ32 ہزار70 حصص کے سودے ہوئے. فوٹو: آن لائن/ فائل
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں ترسیلات زرکی افزائش7 فیصد بڑھنے اور افراط زر کی شرح7 فیصد کے اردگرد رہنے کی مثبت پیشگوئی کے اثرات کراچی اسٹاک ایکس چینج پربھی مرتب ہوئے جہاں بدھ کو تیزی کے اثرات غالب رہے۔
جس سے انڈیکس کی24900 کی حد بحال ہوگئی، 64.10 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں25 ارب 65 کروڑ91 لاکھ53 ہزار804 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مقامی بینکوں کے پرافٹ مارجن میں اضافے، سیمنٹ کی قیمت بڑھنے اور یورپین یونین کی جانب سے پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے جیسے عوامل کے سبب ان شعبوں کی کمپنیوں کے حصص زیادہ متحرک رہے ۔
جن میں مختلف شعبوں کی جانب سے سرمایہ کاری زائد کی گئی، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر141.52 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس 25000 پوائنٹس کی نئی تاریخی حد بھی رقم کرگیا تھا لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اوردیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے کی جانیوالی مجموعی طور پر22 لاکھ14 ہزار57 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے مذکورہ ریکارڈ حد برقرار نہ رہ سکی۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے10 لاکھ72 ہزار526 ڈالراور میوچل فنڈز کی جانب سے11 لاکھ41 ہزار 532 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس کے نتیجے میں تیزی کی لہر برقرار رہی نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس94.22 پوائنٹس کے اضافے سے 24972.90 ہوگیا۔
جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس71.25 پوائنٹس کے اضافے سے 18711.04 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 178.42 پوائنٹس کے اضافے سے 41736.10 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت1.29 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ98 لاکھ32 ہزار70 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار365 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 234 کے بھاؤ میں اضافہ، 104 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جس سے انڈیکس کی24900 کی حد بحال ہوگئی، 64.10 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں25 ارب 65 کروڑ91 لاکھ53 ہزار804 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مقامی بینکوں کے پرافٹ مارجن میں اضافے، سیمنٹ کی قیمت بڑھنے اور یورپین یونین کی جانب سے پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے جیسے عوامل کے سبب ان شعبوں کی کمپنیوں کے حصص زیادہ متحرک رہے ۔
جن میں مختلف شعبوں کی جانب سے سرمایہ کاری زائد کی گئی، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر141.52 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس 25000 پوائنٹس کی نئی تاریخی حد بھی رقم کرگیا تھا لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اوردیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے کی جانیوالی مجموعی طور پر22 لاکھ14 ہزار57 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے مذکورہ ریکارڈ حد برقرار نہ رہ سکی۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے10 لاکھ72 ہزار526 ڈالراور میوچل فنڈز کی جانب سے11 لاکھ41 ہزار 532 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس کے نتیجے میں تیزی کی لہر برقرار رہی نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس94.22 پوائنٹس کے اضافے سے 24972.90 ہوگیا۔
جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس71.25 پوائنٹس کے اضافے سے 18711.04 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 178.42 پوائنٹس کے اضافے سے 41736.10 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت1.29 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ98 لاکھ32 ہزار70 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار365 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 234 کے بھاؤ میں اضافہ، 104 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔