جج صاحب

انصاف کے اعلیٰ ترین ایوان سے اسلامی عدل کا نغمہ ہی سنا گیا۔ مظلوموں کو کس قدر سکون اور اعتماد ملا اس کا کوئی حساب نہیں

Abdulqhasan@hotmail.com

انصاف ہماری ایک گم شدہ میراث ہے جسے ہم پاکستان میں گزشتہ نصف صدی تک بالکل بھولے رہے۔ ہمارے حکمرانی کے ایوان اور عدالت نے بھول کر بھی عدل و انصاف کو یاد نہ کیا بلکہ پاکستان کے ایک چیف جسٹس نے تو نظریہ ضرورت ایجاد کر کے انصاف کی عمارت ہی منہدم کر دی۔ عدل و انصاف کے لیے تڑپتی ہوئی اس قوم کی خدا نے اس حد تک سن لی کہ گزشتہ چھ ساڑھے چھ برس ایک سراپا انصاف جج کی نگرانی میں گزر گئے۔ انصاف کے اعلیٰ ترین ایوان سے اسلامی عدل کا نغمہ ہی سنا گیا۔ مظلوموں کو کس قدر سکون اور اعتماد ملا اس کا کوئی حساب نہیں اور ظالموں کو کس قدرخوف و ہراس ملا اس کا بھی کوئی حساب نہیں۔ کسی مسلمان حکومت کا جزو اعظم ہی انصاف ہوتا ہے اور ہمارے اولیں حکمرانوں نے انصاف کو ہی اپنی طاقت سمجھا اور اسی انصاف نے اسلام سے پہلے کے ظالم معاشرے کو انصاف کی روشنی عطا کر کے اسلام کو دور دور تک پھیلا دیا۔ ہمارے آئیڈیل مسلمان حکمران بالعموم عوام کے ساتھ نوش نشین ہوا کرتے تھے اسی حالت میں زلزلہ آیا تو اس کے جھٹکے محسوس کر کے امیر المومنین عمرؓ نے زمین پر اپنا مشہور درہ مار کر کہا کہ کیا میں تم پر انصاف نہیں کرتا کہ تم یہ گستاخی کر رہی ہو۔ زلزلہ بند ہو گیا اور تاریخ بتاتی ہے کہ عمرؓ کی حکومت میں پھر کبھی زلزلہ نہیں آیا۔

حضرت علیؓ کا یہ مشہورقول ہے کہ قومیں اور ملک ہر مصیبت سہہ جاتے ہیں قحط، بھوک، بیماری یا کوئی دوسری کوئی بھی تکلیف لیکن وہ ظلم میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ انصاف معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ آج کے دور میں اس دور سے چودہ سو برس بعد جب ایک عالمی جنگ کے موقع پر یہ سوال پیدا ہوا کہ برطانیہ عظمیٰ کا اس جنگ میں کیا بنے گا تو اپنے دور کے سب سے بڑے انگریز اور وزیراعظم مسٹر ونسٹن چرچل نے پوچھا کہ کیا ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں اور جب جواب میں بتایا گیا کہ جی ہاں ہماری عدالتیں انصاف کا دامن تھامے ہوئے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ پھر ہمیں شکست نہیں ہو سکتی۔ عدل و انصاف اور مساوات قوم کے دل میں جو قوت اور شجاعت پیدا کر دیتا ہے اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ ہمارے سابقہ چیف جسٹس نے اپنے ایوان عدل سے قوم کے لیے جو نعمت مسلسل جاری رکھی اس نے پہلے تو قوم کو حیران کر دیا پھر پریشان کر دیا اور بالآخر عالی شان کردیا کہ اب یہ قوم اپنے حکمرانوں کا مقابلہ بھی کر سکتی ہے دشمنوں کے لیے تو یہ پہلے ہی کافی تھی اور کافی رہے گی حکمران جس قدر چاہیں دشمنوں کی خوشامد کر لیں یہ قوم نہ خوشامد کرے گی اور نہ خوشامد کرنے والوں کو برداشت کرے گی۔


میں وکیل نہیں کہ جج صاحب کے فیصلوں پر بات کر سکوں اور نہ ہی وکلا کی سیاست سے میرا کوئی سروکار ہے کہ جج صاحب کے مخالفوں یا حامیوں کا دم بھروں، میں تو ایک خود غرض پاکستانی ہوں جو انصاف کو اپنی زندگی کی سلامتی کے لیے لازم تصور کرتا ہے وکیل کے لیے میری جیب میں پیسے ہوں یا نہ ہوں میں ایک سادہ کاغذ پر اپنی عرضی لکھ کر پیش کر سکتا ہوں اور جج میرا وکیل ہو گا۔ وہ سائل اور فریادی کا ساتھی ہو گا اور انصاف کی دولت سے اسے مالا مال کر دے گا۔ ہمارے ہاں انصاف کی جوکسمپرسی کی حالت رہی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ انصاف حاصل کرنے کے لیے کسی وکیل صاحب کی سفارش چاہیے یا اتنی مصروفیت ہے کہ اپنا یہ کام کسی دوسرے کے سپرد کر دیا جائے جسے وکیل کہتے ہیں ورنہ اس کے سوا تو مجھے وکیل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی البتہ کوئی جج صاحب قانون سے اس قدر نابلد ہوں کہ انھیں متعلقہ قانون یاد دلانے کے لیے کسی وکیل کی ضرورت ہو۔

ورنہ انصاف گستری دنیا کے آسان ترین کاموں میں سے ہے۔ دو اور دو چار کی طرح حق اور ناحق کا فیصلہ ہوتا ہے کون جج ہے جسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے سامنے جو مقدمہ پیش ہے اس میں حق کس کے ساتھ ہے اور کون حقدار نہیں ہے۔ میں وکالت کے پیشے کے بارے میں مزید کچھ عرض نہیں کر سکتا کہ اب جسٹس افتخار محمد چوہدری عدالت میں نہیں ہیں اور میں کسی پیچیدہ مقدمے میں فریق بننے کی توفیق سے محروم ہوں۔ جب عدالتوں سے انصاف یقینی ہوتا ہے تو پھر مقدمے بھی بہت محدود ہو جاتے ہیں۔ ایک خاصی تعداد شوقیہ مقدمہ بازوں کی بھی ہوتی ہے جو کچہریوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ انصاف یا بے انصافی صرف عدالتوں میں ہی نہیں یہ پولیس تھانوں سے شروع ہوتی ہے اور آخری فیصلے کے لیے عدالت میں پہنچتی ہے۔

یہ عدل و انصاف کا قصہ تو جج صاحب کے حوالے سے شروع ہو گیا اصل بات تو وہ ہے جسے میں بیان کر چکا ہوں اور وہ ہے جج صاحب کی وہ غیر معمولی اور تاریخ میں زندہ رہ جانے والی استقامت اور جرات جو انھوں نے جنرل مشرف اور ان کے چند مسلح اور پیتل سے چمکتی ہوئی وردیوں والے جرنیلوں کے سامنے دکھائی یعنی استعفیٰ سے انکار۔ سچ مچ کی گالیاں بھی کھائیں اور دھمکیاں تو تھیں ہی اور یہ وہ وقت تھا جب اس جج کے ساتھ ان کا کوئی ساتھی نہیں تھا سوائے اہل خانہ کے۔ تن تنہا سے سرکاری ملازم حکمران فوجیوں کے سامنے ڈٹ گیا۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی جس سے وہ مدد کا طلب گار تھا۔ جواب میں اس کے حصے میں امید آئی اور بے پناہ عزت اور یہ عزت اور وقار جو اس کی قوم کو بھی یاد رہے گا اور وہ اس پر فخر کرے گی۔
Load Next Story