ہمارا چینل بھی صاحب اولاد ہو گیا
آپ کو یہ سن کر از حد خوشی ہو گی کہ ہمارے مقبول ترین چینل ’’ہیاں سے ہواں تک‘‘ بھی صاحب اولاد ہو گیا۔۔۔
barq@email.com
آپ کو یہ سن کر از حد خوشی ہو گی کہ ہمارے مقبول ترین چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' بھی صاحب اولاد ہو گیا، کل کے مبارک دن اس نے ایک ننھا سا، منا سا، پیارا سا ، گول گوتھنا سا بچہ دیا، جس کے پاؤں پالنے ہی میں دکھائی دینے لگے اور ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کی طرح چہرے ہی سے اس کی پہچان ہو رہی تھی، چناں چہ چینل کے اکابرین نے باہم مشورہ کر کے اس کا نام ''کب تک'' رکھ دیا کیوں کہ مروجہ فیشن یہی چل رہا ہے کہ چینل چاہے بڑا ہو یا چھوٹا بوڑھا ہو یا نومولود، اس کے نام میں ''تک'' ضرور ہوتا ہے ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ''تک'' کا کیا ''تُک'' ہے لیکن چینلوں کی دنیا میں ''تک'' سے زیادہ تُک کو اہمیت دی جاتی ہے اس لیے ماہرین نے سوچا کہ چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کے اس نومولود فرزند کے نام میں اور کچھ ہو نہ ہو لیکن ''تک'' ضرور ہونا چاہیے، آخر تلاش بسیار اور بڑی تحقیق و تفتیش کے بعد صرف یہی ایک ''تک'' باقی بچا تھا جو ''کب'' سے چمٹا ہوا تھا اس لیے نومولود کا نام ''کب تک'' رکھا گیا کیوں کہ ''تک'' کا باقی پورا خاندان کہیں نہ کہیں پھنسا ہوا تھا چناں چہ یہ نام فائنل ہوا، چوں کہ یہ چینل ابھی بچہ ہے بول تو سکتا نہیں ہے اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس میں بولنا بالکل ممنوع ہو گا۔
ویسے بھی دوسرے چینل ''بولنے'' کواتنا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں کہ بے چارے بولنے کے بولنے میں بولنے ہو گئے، کم از کم ایک چینل تو ایسا بھی ہونا چاہیے جو بولتا نہ ہو صرف کرتا یا دکھاتا ہو، یوں کہئے کہ یہ چینل دراصل ریڈیو کا الٹ ہے ریڈیو میں سب کچھ کانوں کے راستے داخل کیا جاتا ہے حتیٰ کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو بھی سنایا جاتا ہے پھر جب ٹی وی آگیا تو اس نے بولنے کے ساتھ ساتھ دکھانا بھی شروع کیا یعنی کانوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی کام پر لگ گئیں، جب کہ اصولی طور پر ''ویژن'' کا مطلب صرف دکھانا ہونا چاہیے تھا، آخر جو لوگ کان نہیں رکھتے یعنی ڈیف اینڈ ڈمپ ہیں ان کے لیے بھی تو کوئی چینل ہونا چاہیے اسی مقصد کے پیش نظر بزرگ چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' نے اپنے فرزند ارجمند کا نام ''کب تک'' رکھا اور اسے صرف ''دکھانے'' کے لیے مخصوص کیا، اس میں اب کچھ بھی بولا نہیں جائے گا صرف بے آواز تصاویر ہوں گی اور وہ سب کچھ ہو گا جو ویژن میں آتا ہے اور آخر میں صرف ایک بڑے سے سوالیہ نشان کے ساتھ ''کب تک؟'' کا ظہور ہو گا، مثلاً ایک والی بال کا میچ دکھایا جائے گا دونوں ٹیموں کا لباس ان کے جھنڈوں سے بنا ہوا ہو گا اور ہر کھلاڑی کی پشت اور چھاتی پر مختلف سلوگن لگے ہوں گے کسی پر فنڈز ہڑپ کسی پر قرضہ ہڑپ کسی پر وزارت جپ لکھا ہو گا۔
جس بال سے کھیلا جائے گا اس پر ''عوام'' کا لفظ واضح طور پر لکھا ہو گا، ریفری کی پشت پر انتخابات لکھا ہو گا اور کھیل یہی ہو گا کہ ایک طرف کی ٹیم والی بال کو مار کر دوسری طرف پھینکتا ہے دوسری طرف کی ٹیم اس سے بھی زور دار کٹ لگا کر واپس کرے گا جب یہ کھیل کافی دیر تک دکھایا جائے گا تو آخر میں اسکرین پر الفاظ دکھائی دیں گے کب تک؟، ایک اور منظر ایک دھماکے کا ہو گا جب دھماکے کے بعد کشتوں کے پشتے لگے ہوں گے، لوگ چیخ و پکار کے ساتھ ادھر ادھر دوڑ رہے ہوں گے پھر کچھ لوگ لاشوں، ٹکڑوں اور زخمیوں کو اکٹھا کرتے نظر آئیں گے اور جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو اچانک سائرن وغیرہ بجنے لگیں گے نئے ماڈل کی گراں قیمت گاڑیاں بہت بڑی تعداد میں پہنچ جائیں گی اور ان میں سے ہر طرح کے حفاظتی سازو سامان سے لیس کچھ لوگ اتریں گے ان سب کی پشت پر چمکدار حروف میں لکھا ہو گا قانون نافذ کرنے والا ادارہ، قانون نافذ کرنے والے لوگ ہجوم پر ڈنڈے لے کر پل پڑیں گے اور ان پر خوب اچھی طرح قانون نافذ کر دیں گے پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی بہت بڑا تشریف لائے گا کیمرے اور مائیک اس کے گرد پھیل جائیں گے اور وہ مکے لہرا لہرا کر کسی کی ایسی کی تیسی کرنے لگے گا اسی مرحلے میں اسکرین میں ایک نقطہ ابھرے گا جو آہستہ آہستہ پھیل کر الفاظ میں بدل جائے گا ۔۔۔
''کب تک؟'' ، سب کچھ ہو گا تو اپنے چینلوں کا ذکر کیوں نہ ہو گا، بڑے بڑے صوبوں میں انتہائی پرکشش میز اور اس پر رکھے ہوئے نادر گلدستے کے اردگرد بڑے بڑے رنگین پھول ہوں گے اور ان سب کے سامنے ایک بڑا سا کیکر کا کانٹا ہو گا، پھولوں پر تجزیہ نگاروں کے ناموں کے ٹیگ لگے ہوں گے اور کانٹے کی نوک پر اینکر لکھا ہو گا پھر یہ پھول ہوا کے جھونکے سے باری باری ہلیں گے اور ہلتے ہلتے ایک دوسرے سے الجھ بھی پڑیں گے اس وقت اچانک کانٹا ان کے درمیان آکر ان کو الگ کر دے گا، یوں کبھی سلوموشن میں اور کبھی فاسٹ موشن میں یہ ''گل جنگ'' دکھائی جائے گی آخر میں ایک بڑا صفر ۔۔۔ اور اس کے درمیان کب تک؟ ، نئے چینل بل کہ نوزائیدہ اور نومولود چینل کب تک؟ ۔۔۔ سن آف ''ہیاں سے ہواں تک'' کے لیے اسٹاف تو بعد میں بھرتی کیا جائے گا فی الحال ڈائریکٹر پروگرام کے طور پر چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کی بیگم کو اپوائنٹ کیا گیا ہے جو دونوں ''کانوں''سے گونگی اور دونوں ہونٹوں سے ''بہری'' ہے اس کے معاونوں کے طور پر اس کے چار بھائی بھی ہوں گے جو بوقت ضرورت پروگراموں کے شرکاء پر اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے، چشم گل چشم کے ان چاروں ''سالاروں'' میں سے ہرایک اپنے فن کا ماہر ہے۔
چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کی یہ اہلیہ محترمہ ''نعمت عظیم'' کے نام سے معروف ہے اور یہ نام اسے علامہ بریانی نے دیا ہے کیوں کہ ان کے نزدیک گونگی، بہری بیوی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے کیوں کہ خود علامہ کی علامتی کی زبان اتنی دراز ہے کہ منہ کے علاوہ وہ اسے باقاعدہ کاندھے پر ڈال دیتی ہے اور پھرکمر کے گرد دو تین پھیر دے کر باندھ لیتی ہے اور جب کبھی علامہ کی کلاس لینی ہوتی ہے تو کوڑے کی طرح کھول کر استعمال کرتی ہے، اس بناء پر وہ قہر خداوندی کی گونگی پلس بہری بیوی کو دنیا کا سب سے بڑا انعام تصور کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حالات کا پتہ نہیں کیوں کہ جب کبھی وہ چشم گل چشم کے خلاف ''ایکشن لالہ گان'' کرتی ہے تو وہ بڑی عبرت کا مقام ہوتا ہے، چاروں سالے پہنچ جاتے ہیں ان میں بڑا بھائی قصائی کا کام کرتا ہے چناں چہ وہ چشم گل چشم کی ہڈیوں پر اپنی پریکٹس کر دیتا ہے دوسرا ہاکی کا کھلاڑی اس کو بال تصور کر کے دو چار گول ڈال دیتا ہے تیسرا نان بائی ہے چناں چہ وہ اسے آٹا سمجھ کر خوب اچھی طرح گوندھ لیتا ہے چوتھا کرکٹ پلیئر ہے چناں چہ وہ اس پر اپنی ادھوری چھوڑی ہوئی سنچری مکمل کر دیتا ہے، چینل کب تک نے تلاش بسیار کے بعد اپنے لیے ایسی زبردست ایم ڈی چنی ہے جس کے ساتھ جہیز میں یہ چاروں بھائی مفت مل گئے ہیں جو چینل کے پروگراموں سے اتفاق نہ رکھنے والوں کو اپنے اپنے طریقے پر سمجھانے کا کام کریں گے۔
ویسے بھی دوسرے چینل ''بولنے'' کواتنا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں کہ بے چارے بولنے کے بولنے میں بولنے ہو گئے، کم از کم ایک چینل تو ایسا بھی ہونا چاہیے جو بولتا نہ ہو صرف کرتا یا دکھاتا ہو، یوں کہئے کہ یہ چینل دراصل ریڈیو کا الٹ ہے ریڈیو میں سب کچھ کانوں کے راستے داخل کیا جاتا ہے حتیٰ کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو بھی سنایا جاتا ہے پھر جب ٹی وی آگیا تو اس نے بولنے کے ساتھ ساتھ دکھانا بھی شروع کیا یعنی کانوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی کام پر لگ گئیں، جب کہ اصولی طور پر ''ویژن'' کا مطلب صرف دکھانا ہونا چاہیے تھا، آخر جو لوگ کان نہیں رکھتے یعنی ڈیف اینڈ ڈمپ ہیں ان کے لیے بھی تو کوئی چینل ہونا چاہیے اسی مقصد کے پیش نظر بزرگ چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' نے اپنے فرزند ارجمند کا نام ''کب تک'' رکھا اور اسے صرف ''دکھانے'' کے لیے مخصوص کیا، اس میں اب کچھ بھی بولا نہیں جائے گا صرف بے آواز تصاویر ہوں گی اور وہ سب کچھ ہو گا جو ویژن میں آتا ہے اور آخر میں صرف ایک بڑے سے سوالیہ نشان کے ساتھ ''کب تک؟'' کا ظہور ہو گا، مثلاً ایک والی بال کا میچ دکھایا جائے گا دونوں ٹیموں کا لباس ان کے جھنڈوں سے بنا ہوا ہو گا اور ہر کھلاڑی کی پشت اور چھاتی پر مختلف سلوگن لگے ہوں گے کسی پر فنڈز ہڑپ کسی پر قرضہ ہڑپ کسی پر وزارت جپ لکھا ہو گا۔
جس بال سے کھیلا جائے گا اس پر ''عوام'' کا لفظ واضح طور پر لکھا ہو گا، ریفری کی پشت پر انتخابات لکھا ہو گا اور کھیل یہی ہو گا کہ ایک طرف کی ٹیم والی بال کو مار کر دوسری طرف پھینکتا ہے دوسری طرف کی ٹیم اس سے بھی زور دار کٹ لگا کر واپس کرے گا جب یہ کھیل کافی دیر تک دکھایا جائے گا تو آخر میں اسکرین پر الفاظ دکھائی دیں گے کب تک؟، ایک اور منظر ایک دھماکے کا ہو گا جب دھماکے کے بعد کشتوں کے پشتے لگے ہوں گے، لوگ چیخ و پکار کے ساتھ ادھر ادھر دوڑ رہے ہوں گے پھر کچھ لوگ لاشوں، ٹکڑوں اور زخمیوں کو اکٹھا کرتے نظر آئیں گے اور جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو اچانک سائرن وغیرہ بجنے لگیں گے نئے ماڈل کی گراں قیمت گاڑیاں بہت بڑی تعداد میں پہنچ جائیں گی اور ان میں سے ہر طرح کے حفاظتی سازو سامان سے لیس کچھ لوگ اتریں گے ان سب کی پشت پر چمکدار حروف میں لکھا ہو گا قانون نافذ کرنے والا ادارہ، قانون نافذ کرنے والے لوگ ہجوم پر ڈنڈے لے کر پل پڑیں گے اور ان پر خوب اچھی طرح قانون نافذ کر دیں گے پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی بہت بڑا تشریف لائے گا کیمرے اور مائیک اس کے گرد پھیل جائیں گے اور وہ مکے لہرا لہرا کر کسی کی ایسی کی تیسی کرنے لگے گا اسی مرحلے میں اسکرین میں ایک نقطہ ابھرے گا جو آہستہ آہستہ پھیل کر الفاظ میں بدل جائے گا ۔۔۔
''کب تک؟'' ، سب کچھ ہو گا تو اپنے چینلوں کا ذکر کیوں نہ ہو گا، بڑے بڑے صوبوں میں انتہائی پرکشش میز اور اس پر رکھے ہوئے نادر گلدستے کے اردگرد بڑے بڑے رنگین پھول ہوں گے اور ان سب کے سامنے ایک بڑا سا کیکر کا کانٹا ہو گا، پھولوں پر تجزیہ نگاروں کے ناموں کے ٹیگ لگے ہوں گے اور کانٹے کی نوک پر اینکر لکھا ہو گا پھر یہ پھول ہوا کے جھونکے سے باری باری ہلیں گے اور ہلتے ہلتے ایک دوسرے سے الجھ بھی پڑیں گے اس وقت اچانک کانٹا ان کے درمیان آکر ان کو الگ کر دے گا، یوں کبھی سلوموشن میں اور کبھی فاسٹ موشن میں یہ ''گل جنگ'' دکھائی جائے گی آخر میں ایک بڑا صفر ۔۔۔ اور اس کے درمیان کب تک؟ ، نئے چینل بل کہ نوزائیدہ اور نومولود چینل کب تک؟ ۔۔۔ سن آف ''ہیاں سے ہواں تک'' کے لیے اسٹاف تو بعد میں بھرتی کیا جائے گا فی الحال ڈائریکٹر پروگرام کے طور پر چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کی بیگم کو اپوائنٹ کیا گیا ہے جو دونوں ''کانوں''سے گونگی اور دونوں ہونٹوں سے ''بہری'' ہے اس کے معاونوں کے طور پر اس کے چار بھائی بھی ہوں گے جو بوقت ضرورت پروگراموں کے شرکاء پر اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے، چشم گل چشم کے ان چاروں ''سالاروں'' میں سے ہرایک اپنے فن کا ماہر ہے۔
چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کی یہ اہلیہ محترمہ ''نعمت عظیم'' کے نام سے معروف ہے اور یہ نام اسے علامہ بریانی نے دیا ہے کیوں کہ ان کے نزدیک گونگی، بہری بیوی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے کیوں کہ خود علامہ کی علامتی کی زبان اتنی دراز ہے کہ منہ کے علاوہ وہ اسے باقاعدہ کاندھے پر ڈال دیتی ہے اور پھرکمر کے گرد دو تین پھیر دے کر باندھ لیتی ہے اور جب کبھی علامہ کی کلاس لینی ہوتی ہے تو کوڑے کی طرح کھول کر استعمال کرتی ہے، اس بناء پر وہ قہر خداوندی کی گونگی پلس بہری بیوی کو دنیا کا سب سے بڑا انعام تصور کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حالات کا پتہ نہیں کیوں کہ جب کبھی وہ چشم گل چشم کے خلاف ''ایکشن لالہ گان'' کرتی ہے تو وہ بڑی عبرت کا مقام ہوتا ہے، چاروں سالے پہنچ جاتے ہیں ان میں بڑا بھائی قصائی کا کام کرتا ہے چناں چہ وہ چشم گل چشم کی ہڈیوں پر اپنی پریکٹس کر دیتا ہے دوسرا ہاکی کا کھلاڑی اس کو بال تصور کر کے دو چار گول ڈال دیتا ہے تیسرا نان بائی ہے چناں چہ وہ اسے آٹا سمجھ کر خوب اچھی طرح گوندھ لیتا ہے چوتھا کرکٹ پلیئر ہے چناں چہ وہ اس پر اپنی ادھوری چھوڑی ہوئی سنچری مکمل کر دیتا ہے، چینل کب تک نے تلاش بسیار کے بعد اپنے لیے ایسی زبردست ایم ڈی چنی ہے جس کے ساتھ جہیز میں یہ چاروں بھائی مفت مل گئے ہیں جو چینل کے پروگراموں سے اتفاق نہ رکھنے والوں کو اپنے اپنے طریقے پر سمجھانے کا کام کریں گے۔