دھاگا اور مال بنانے والے

ہر پولیس افسرپولیس اورعوام کے تعاون کی بات تو کرتا ہے مگردونوں کے درمیان خلیج کو کم نہیں کرتا۔۔۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے دفتر کے دورے کے موقعے پر آئی جی پولیس سندھ شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ دھاگا بنانے والے دھاگا اور کپڑا بنا سکتے ہیں مگر وہ پولیس کے معاملات نہیں سمجھتے کیوں کہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا دل گردے کا کام ہے، جو پولیس کر رہی ہے۔ مگر دھاگا اور کپڑا بنانے والے موت کو کیا جانیں اور اب تو خود انھیں بھی اپنی آئی جی پی شپ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کیوں کہ تاجر رہنما اعلیٰ پولیس افسران کی جگہ بیٹھ کر پولیس کا محکمہ چلانے کی قابلیت حاصل کر چکے ہیں لیکن ہم فیکٹریاں چلانا نہیں جانتے۔ آئی جی نے اپنی اس برہمی کا اظہار اپنے ایڈیشنل آئی جی کی طرف سے پیش کیے گئے غلط اعداد و شمار بتانے پر تاجروں کے اعتراض پر کیا۔ اس موقعے پر تنقید در تنقید کے سبب ماحول کشیدہ ہو گیا اور آئی جی کی بات کا جواب دھاگا اور کپڑا بنانے والے تاجروں اور صنعت کاروں نے یہ کہہ کر دیا کہ پولیس کو تنخواہوں کی ادائیگی ہمارے دیے گئے ٹیکسوں سے ہوتی ہے اس تقریب کے اگلے روز کراچی میں جاری آپریشن کے باوجود 15 افراد دہشت گردی کا نشانہ بنائے گئے۔

سائٹ کے دورے میں ایڈیشنل آئی جی نے انکشاف کیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی صفوں میں پانچ سو جرائم پیشہ عناصر موجود ہیں اور جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور تاجروں کو پولیس پر تنقید کی بجائے ان کی کوششوں کی تعریف ہونی چاہیے۔ آئی جی سندھ نے واضح کہا کہ دھاگا بنانے والے پولیس کو در پیش زندگی اور موت کا معاملہ نہیں سمجھ سکتے اور تاجروں کی باتوں کا مشینی انداز میں جواب نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ پولیس کی کوشش سے بھتہ خوری اور جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب پہلے جیسی صورت حال نہیں ہے۔

کراچی میں پولیس، رینجرز کے ساتھ مل کر جو آپریشن کر رہی ہے جسے تین ماہ ہو چکے ہیں اور ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفتر پر دوسرا حملہ بھی اسی آپریشن کے دوران ہوا اور دہشت گرد فائرنگ اور بم سے حملے کر کے فرار ہو گئے جسے پہلے تو علاقہ ایس ایچ او نے حملہ ماننے سے انکار کیا مگر تباہی دیکھ کر انھیں خاموش ہونا پڑا۔ ایکسپریس پر یہ حملہ انتہائی مصروف علاقے میں ہوا اور ملزمان پکڑے نہ جا سکے۔

آئی جی سندھ کا یہ کہنا درست ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور پولیس کو موت اور زندگی کا معاملہ درپیش ہے۔ پولیس اہلکاروں کی اکثر شہادتیں دہشت گردوں کے اچانک حملے کے نتیجے میں ہوئی ہیں پولیس مقابلوں کے نتیجے میں کم اہلکار نشانہ بنے اور دونوں صورتوں میں پولیس کے افسران اور اہلکار نشانہ بنے اور ان میں ایسے بھی تھے جنہیں محکمہ پولیس نے بھلا دیا اور شہداء کے ورثاء واجبات، امداد اور متبادل ملازمت کے لیے پولیس دفاتر کے دھکے کھا رہے ہیں اور ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔


آئی جی سندھ کراچی میں پولیس افسروں کے ان اکثر افسروں سے بھی واقف ہوں گے جنہوں نے کراچی کو دبئی سمجھ کر مال کمایا۔ وہ اربوں روپے کی ملکیت کے مالک اور غیر ملکی شہریت کے بھی حامل ہے۔ متعدد پولیس افسر جعلی مقابلوں کے ماہر، ماورائے عدالت قتل کے مقدمات میں ملوث ہیں۔ انھوں نے غیر قانونی ترقیاں کیں، اپنوں ہی کے حقوق غصب کیے، بے گناہوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جس کی وجہ سے کراچی پولیس بد نام ہوئی، کراچی میں کوئی ایسا غیر قانونی دھندا نہیں جس میں پولیس کی مدد اور سرپرستی شامل نہ رہی ہو اور پولیس افسران اور اہلکاروں کی اکثریت مال بنانے میں پیچھے رہی ہو۔ آئی جی سندھ خود صنعتیں نہیں چلا سکتے مگر کراچی پولیس جرائم کے سدباب کی بجائے مال بنانے میں ماہر رہی ہے۔ کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں نے ہمیشہ پولیس کی مدد کی۔ انھیں اپنے وسائل سے موبائلیں تک خرید کر دیں پولیس چوکیاں بنوائیں مگر وہ آئی جی کے سامنے ایڈیشنل آئی جی کے جرائم کے سلسلے میں غلط اعداد و شمار پر خاموش نہ رہ سکے جس پر آئی جی برہم ہو گئے جاری آپریشن میں نومبر میں 153 شہری قتل ہوئے۔

307 گاڑیاں چھینی گئیں۔ 1665 موٹر سائیکلیں، 26430 موبائل فون، دو بینکوں سے 48 لاکھ روپے لٹے جب کہ پولیس کا یہ حال کہ وہ اصلی اور نقلی اسلحے کی شناخت بھی نہیں کر سکتی۔ نومبر میں 17 پولیس افسران بھی نشانہ بنے اور ہزاروں گرفتار ملزمان میں پولیس برائے نام ہی ملزمان کے چالان عدالت میں پیش کر سکی ہے۔ تاجروں اور صنعتکاروں کی طرف سے اپنی تنظیموں کی طرف سے اعلیٰ پولیس حکام کو اپنے علاقوں میں مدعو کر کے انھیں حقائق سے آگاہ کیا جاتا ہے اور مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے، کراچی میں پہلی بار تاجروں اور صنعت کاروں کی طرف سے پولیس اور عوام کی مدد کے لیے گورنر ہائوس میں سی پی ایل سی کا قیام عمل میں آیا تھا اور اغوا برائے تاوان، گاڑیوں کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتوں میں پولیس سے تعاون اور ایف آئی آر درج نہ ہونے کی شکایات ختم کرنے کے لیے سی پی ایل سی نے جو اہم کردار ادا کیا وہ حکومت اور پولیس کی نہیں بلکہ کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں کی مرہون منت تھا جس سے شہریوں کو بھی فائدہ پہنچا۔

ہر پولیس افسر پولیس اور عوام کے تعاون کی بات تو کرتا ہے مگر پولیس اور عوام کے درمیان جو خلیج حائل ہے اسے ختم کرنے کی محکمہ پولیس کی طرف سے کبھی عملی کوشش نہیں کی گئی صرف ایک بار سندھ کے ایک سابق آئی جی پولیس نے یہ کوشش نہ صرف کی تھی بلکہ اس پر عمل بھی کرایا تھا اور عوام کے لیے پولیس کی طرف سے کمیونٹی سروس کی ابتدا اچھی کوشش تھی۔

حقیقت میں پولیس کے بڑے اور چھوٹے افسران خود کو عقل کل سمجھتے ہیں، وہ میڈیا اور عوامی حلقوں کی تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ سائٹ کے اجلاس میں جب تاجروں نے پولیس کے پیش کیے گئے اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کیا تو آئی جی پولیس انھیں مطمئن کرنے کی بجائے ذاتیات پر اتر آئے اور انھوں نے تاجروں کے جارحانہ سوالات کا جواب اس برہمی سے دیا کہ دھاگا اور کپڑا بنانے والے پولیس معاملات کو کیا جانیں۔

اب پہلے والا دور نہیں رہا۔ حالات اور میڈیا نے تاجروں اور صنعت کاروں ہی کو نہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی باشعور بنا دیا ہے، اب پولیس کے مظالم اور عوام پر تشدد، جرائم کی سرپرستی، بے گناہوں کی گرفتاریاں اور حقائق چھپے نہیں رہتے اور میڈیا کے پاس ہر چیز کا واضح ثبوت موجود ہوتا ہے۔ کراچی کو پولیس کے لیے ہمیشہ دبئی بنا رہا ہے اور ملک بھر سے پولیس افسران کراچی میں تعیناتی اسی لیے چاہتے ہیں کہ یہاں ترقی کے ساتھ مال بھی ٹھیک ٹھاک طور پر ملتا ہے اور عوام کے ساتھ دھاگا اور کپڑا بنانے والوں سے اب کچھ اوجھل نہیں رہا ہے۔
Load Next Story