سول اسپتال کے برنس سینٹر میں طبی آلات خراب مریض پریشان

شعبہ انتہائی نگہداشت میں وینٹی لیٹر غیرفعال ہیں، اسپتال کے سربراہ نے برنس سینٹر کا 5 سال سے دورہ نہیں کیا

مریضوں کے نام پر وصول کیے جانے والے عطیات کا آڈٹ کرایا جا ئے، ملازمین، ادویہ نہیں دی جاتیں، مریض فوٹو : فائل

سول اسپتال میں پہلا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دیاجانے والا برنس سینٹر اپنی ساکھ کھوتا جارہا ہے۔

برنس سینٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سول اسپتال انتظامیہ کی لاپروائی کی وجہ سے برنس سینٹرکی کارکردگی شدید متاثر ہورہی ہے،برنس سینٹر میں طبی آلات خراب ہیں جس سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا ہے ، تفصیلات کے مطابق سول اسپتال کے برنس سینٹر کو 2004 میں فرینڈز برنس سوسائٹی کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دیا گیا تھا اس کی عمارت سول اسپتال کی ملکہ وکٹوریہ بلدنگ میں ہے جو تاریٰخی ورثے کے اعتبار سے معروف عمارت ہے، اس عمارت میں برنس سینٹر قائم کرکے فرینڈ آف برنس سوسائٹی کو دیا گیا تھا جس میں برنس سوسائٹی کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سینٹرکو فعال بنانے کیلیے فنڈز اور عطیات جمع کرسکتے ہیں۔


سول اسپتال کی انتظامیہ کو پابند کیا گیا تھا کہ برنس سینٹرکے انتظامی امورکی مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری رکھیں لیکن سول اسپتال کے سربراہ نے برنس سینٹر کا 5 سال سے دورہ کیا اور نہ ہی مسائل حل کیے، معلوم ہوا ہے کہ برنس سینٹر کے آئی سی یومیں وینٹی لیٹر غیر فعال ہیں۔



آئی سی یو میں 4 وینٹی لیٹر ہیں لیکن مرمت نہ ہونے کی و جہ سے تمام وینٹی لیٹرز ناکارہ ہیں، جھلسے ہوئے مریضوں کو علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں، دوسری جانب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت برنس سینٹر میں غریب مریضوں کے نام پر علاج کی مد میں عطیات وصول کیے جارہے ہیں، یہ بات اسپتال میں زیر علاج بیشتر مریضوں نے بتائی، مریضوں کا کہنا تھا کہ اسپتال سے مریضوں کوکسی قسم کی کوئی ادویات فراہم نہیں کی جاتیں، اسپتال کے ملازمین اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں مریضوں کے نام پر وصول کیے جانیوالے عطیات کا آڈٹ کرایا جائے ۔
Load Next Story