تعلیمی نظام کھوکھلا ہوگیا فارمیسی کے داخلہ ٹیسٹ میں مختص نشستوں سے بھی کم امیدوار کامیاب
جامعہ کراچی شعبہ فارمیسی کے داخلہ ٹیسٹ میں350نشستوں پر190امیدوار کامیاب،1424ناکام ہوگئے،این ٹی ایس نے نظام تعلیم۔۔۔
پہلی بار کلیہ فارمیسی کا داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس نے لیا، کلیہ فارمیسی کی 40 فیصد نشستیں خالی رہ گئیں، جامعہ کا ٹیسٹ کے میرٹ میں تبدیلی کا فیصلہ۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے تحت جامعہ کراچی کے کلیہ فارمیسی میں داخلوں کے لیے منعقدہ داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے سندھ بھرمیں کالج سطح پر نظام تعلیم اور امتحانی نتائج کی قلعی کھول دی ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے تحت منعقدہ کلیہ فارمیسی کے داخلہ ٹیسٹ میں مختص نشستوں کے مساوی امیدوار بھی داخلہ ٹیسٹ پاس نہیں کرسکے ہیں اور بڑی تعداد میں امیدوار ٹیسٹ میں فیل ہوگئے ہیں جس کے سبب جامعہ کراچی شعبہ فارمیسی کی 40 فیصد نشستیں خالی رہ گئی ہیں اورجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اس خدشے کے پیش نظر شعبہ فارمیسی کے ٹیسٹ کے میرٹ میں تبدیلی اور اسے کم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
این ٹی ایس سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق جامعہ کراچی میں 350 نشستوں پرفارمیسی میں داخلوں کے لیے منعقدہ اس داخلہ ٹیسٹ میں صرف 190 طلبہ وطالبات ٹیسٹ پاس کرسکے ہیں جن کے مارکس 60 فیصد یااس سے زیادہ ہیں جبکہ باقی 1424 امیدوار ٹیسٹ پاس نہیں کرسکے ہیں این ٹی ایس کے تحت منعقدہ داخلہ ٹیسٹ میں مجموعی طور پر1614امیدوار شریک ہوئے تھے داخلہ ٹیسٹ میں اتنی بڑی تعداد میں امیدواروں کے فیل ہونے کے سبب جامعہ کراچی شعبہ فارمیسی کی 160 نشستیں خالی رہ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور اس خدشے کے پیش نظر جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے مجبوراً ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 60 فیصد سے کم کرنے اورکٹ آف مارکس 60 کے بجائے 55 فیصد کرنے پرغور شروع کردیا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی نے کلیہ فارمیسی میں صبح اور شام کے پروگرام کے داخلوں کا بیک وقت اعلان کیا تھا اور 350 میں سے 200 نشستیں صبح جبکہ 150 نشستیں شام کے پروگرام کے لیے مختص کی تھیں تاہم مذکورہ نتائج کے سبب طے شدہ میرٹ پر صبح کی مختص نشستیں بھی پوری نہیں ہورہی ہیں جبکہ شام کی 150 نشستیں اس کے علاوہ ہیں،این ٹی ایس ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی نے شعبہ فارمیسی کے ٹیسٹ میں پاسنگ مارکس 60 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی بنیاد پر نتائج جاری کیے گئے اور مذکورہ معیار پر صرف 190 طلبا پورے اترے ہیں، جامعہ کراچی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور تجرباتی بنیادوں پر پہلے مرحلے میں فارمیسی کا داخلہ ٹیسٹ گزشتہ ہفتہ منعقد ہوا تھا جس کے نتائج سے یونیورسٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے تحت جامعہ کراچی کے کلیہ فارمیسی میں داخلوں کے لیے منعقدہ داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے سندھ بھرمیں کالج سطح پر نظام تعلیم اور امتحانی نتائج کی قلعی کھول دی ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے تحت منعقدہ کلیہ فارمیسی کے داخلہ ٹیسٹ میں مختص نشستوں کے مساوی امیدوار بھی داخلہ ٹیسٹ پاس نہیں کرسکے ہیں اور بڑی تعداد میں امیدوار ٹیسٹ میں فیل ہوگئے ہیں جس کے سبب جامعہ کراچی شعبہ فارمیسی کی 40 فیصد نشستیں خالی رہ گئی ہیں اورجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اس خدشے کے پیش نظر شعبہ فارمیسی کے ٹیسٹ کے میرٹ میں تبدیلی اور اسے کم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
این ٹی ایس سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق جامعہ کراچی میں 350 نشستوں پرفارمیسی میں داخلوں کے لیے منعقدہ اس داخلہ ٹیسٹ میں صرف 190 طلبہ وطالبات ٹیسٹ پاس کرسکے ہیں جن کے مارکس 60 فیصد یااس سے زیادہ ہیں جبکہ باقی 1424 امیدوار ٹیسٹ پاس نہیں کرسکے ہیں این ٹی ایس کے تحت منعقدہ داخلہ ٹیسٹ میں مجموعی طور پر1614امیدوار شریک ہوئے تھے داخلہ ٹیسٹ میں اتنی بڑی تعداد میں امیدواروں کے فیل ہونے کے سبب جامعہ کراچی شعبہ فارمیسی کی 160 نشستیں خالی رہ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور اس خدشے کے پیش نظر جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے مجبوراً ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 60 فیصد سے کم کرنے اورکٹ آف مارکس 60 کے بجائے 55 فیصد کرنے پرغور شروع کردیا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی نے کلیہ فارمیسی میں صبح اور شام کے پروگرام کے داخلوں کا بیک وقت اعلان کیا تھا اور 350 میں سے 200 نشستیں صبح جبکہ 150 نشستیں شام کے پروگرام کے لیے مختص کی تھیں تاہم مذکورہ نتائج کے سبب طے شدہ میرٹ پر صبح کی مختص نشستیں بھی پوری نہیں ہورہی ہیں جبکہ شام کی 150 نشستیں اس کے علاوہ ہیں،این ٹی ایس ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی نے شعبہ فارمیسی کے ٹیسٹ میں پاسنگ مارکس 60 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی بنیاد پر نتائج جاری کیے گئے اور مذکورہ معیار پر صرف 190 طلبا پورے اترے ہیں، جامعہ کراچی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کروانے کا فیصلہ کیا تھا اور تجرباتی بنیادوں پر پہلے مرحلے میں فارمیسی کا داخلہ ٹیسٹ گزشتہ ہفتہ منعقد ہوا تھا جس کے نتائج سے یونیورسٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔