پولیس کارروائی اذیت بن گئیاسنیپ چیکنگ سے سرشاہ سلیمان روڈ پر بد ترین ٹریفک جام
پولیس نے دونوں ٹریک پر ترچھی موبائلیں کھڑی کردیں، لیاقت آباد انڈر پاس سے عیسیٰ نگری تک ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں
پولیس طرزعمل پر شہری مشتعل،منٹوں کا سفرگھنٹوں میں طے،ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں،گاڑیوں میں ایندھن ختم،مسافر پیدل چلے گئے فوٹو : عرفان علی / ایکسپریس/فائل
سر شاہ سلیمان روڈ پر پولیس کی اسنیپ چیکنگ کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا، پولیس نے دونوں ٹریک پر موبائلیں کھڑی کرکے ایک گاڑی کے گزرنے کا راستہ چھوڑا جو بدترین ٹریفک جام کا سبب بنا، پولیس کے طرز عمل پر شہری مشتعل ہوگئے۔
عزیز بھٹی کے علاقے سر شاہ سلیمان روڈ پر سوک سینٹر سے غریب آباد انڈر پاس جانے اور آنے والے دونوں ٹریک پر پولیس کی جانب سے سڑکوں پر ترچھی موبائلیں کھڑی کرکے اسنیپ چیکنگ کی گئی اور اس دوران وہاں سے گزرنے کے لیے صرف ایک گاڑی کے گزرنے کا راستہ چھوڑا گیا ، پولیس کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کے عمل کے دوران لیاقت آباد انڈر پاس سے عیسیٰ نگری قبرستان تک دونوں جانب ٹریفک جام ہونے کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، شہریوں نے منٹوںکا سفر گھنٹوں میں طے کیا جبکہ ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں تاہم پولیس پر کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ ایمبولینسوں میں مریض علاج کیلیے تڑپتے رہے۔
ٹریفک جام کی اذیت سے دوچار شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس کو کوئی خفیہ اطلاع تھی تو ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ اسنیپ چیکنگ کا عمل شہریوں کے لیے زحمت نہ بنے ، سر شاہ سلیمان روڈ پر بدترین ٹریفک جام پر ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 915 سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ٹریفک جام سے متعلق ان کے پاس کئی ٹیلی فون کالز آئی ہیں اور جب معلوم کرایا گیا تو یہی پتہ چلا کہ پولیس اسنیپ چیکنگ کر رہی ہے جس پر اعلیٰ پولیس حکام کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ، پولیس کی اسنیپ چیکنگ کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام کے دوران کئی گاڑیوں کا ایندھن بھی ختم ہوگیا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار مسافر خواتین ، بچے اور بزرگ افراد پیدل ہی منزل کی جانب چل پڑے۔
عزیز بھٹی کے علاقے سر شاہ سلیمان روڈ پر سوک سینٹر سے غریب آباد انڈر پاس جانے اور آنے والے دونوں ٹریک پر پولیس کی جانب سے سڑکوں پر ترچھی موبائلیں کھڑی کرکے اسنیپ چیکنگ کی گئی اور اس دوران وہاں سے گزرنے کے لیے صرف ایک گاڑی کے گزرنے کا راستہ چھوڑا گیا ، پولیس کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کے عمل کے دوران لیاقت آباد انڈر پاس سے عیسیٰ نگری قبرستان تک دونوں جانب ٹریفک جام ہونے کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، شہریوں نے منٹوںکا سفر گھنٹوں میں طے کیا جبکہ ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں تاہم پولیس پر کوئی فرق نہیں پڑا جبکہ ایمبولینسوں میں مریض علاج کیلیے تڑپتے رہے۔
ٹریفک جام کی اذیت سے دوچار شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس کو کوئی خفیہ اطلاع تھی تو ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ اسنیپ چیکنگ کا عمل شہریوں کے لیے زحمت نہ بنے ، سر شاہ سلیمان روڈ پر بدترین ٹریفک جام پر ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 915 سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ٹریفک جام سے متعلق ان کے پاس کئی ٹیلی فون کالز آئی ہیں اور جب معلوم کرایا گیا تو یہی پتہ چلا کہ پولیس اسنیپ چیکنگ کر رہی ہے جس پر اعلیٰ پولیس حکام کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ، پولیس کی اسنیپ چیکنگ کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام کے دوران کئی گاڑیوں کا ایندھن بھی ختم ہوگیا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار مسافر خواتین ، بچے اور بزرگ افراد پیدل ہی منزل کی جانب چل پڑے۔