آئندہ بد نیتی اور ذاتی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کیلیے از خود نوٹس کی حد قائم ہونی چاہیے جسٹس تصدق
اختیارات کی تقسیم کو مد نظر رکھنا چاہیے،خاموش آئین کوزبان دینےسےآئین کی عملداری ہوگی، آئین خود بولے گا تو نافذ ہوگا
از خود نوٹس کا اختیار استعمال کرتے وقت اختیارات کی تقسیم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ فوٹو:فائل
نامزد چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ آئین نے عدلیہ کو دیگر اداروں کے غیر آئینی اقدامات روکنے کا اختیار دیا ہے،محض آئینی لفاظی عدلیہ کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی ریٹائرمنٹ پرفل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ 2007ء سے پہلے بھی چیف جسٹس آف پاکستان نے مفاد عامہ میں بہت سے اہم فیصلے کیے،انھوں نے اپنے فیصلوں کی بدولت جمہوریت کی مضبوطی، عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر عوام کو تحفظ فراہم کیا، فوج کی مداخلت کو غیر آئینی قرار دیا اور بدعنوانی، کرپشن ، معاشرے کی دیگر سماجی برائیوں کے خاتمے اورگڈگورننس کو یقینی بنانے کیلیے اہم فیصلے دیے ۔نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ9 مارچ2007ء اور 3 نومبر 2007ء کے واقعات سے اس تلخ حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ محض آئینی لفاظی عدلیہ کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدلیہ نے محسوس کیا کہ عوامی اعتماد حاصل کرنے کیلیے عدلیہ کومضبوط بنیادوں پر استوارکرنا ضروری ہے اور انہی کی سربراہی میں عدلیہ نے جمہوریت کے فروغ اور فوجی راج کی بیخ کنی کی طرف پیش قدمی کی۔
جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ از خود نوٹسزکے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، آرٹیکل 184(3) کے تحت جعلی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے،آئین نے یہ اختیارگڈ گورننس کو یقینی بنانے کیلیے دیا ہے جسے آئین کی حدود میں استعمال کیا جائے گا، از خود نوٹس کا اختیار استعمال کرتے وقت اختیارات کی تقسیم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اختیارکے استعمال میں شفاف ٹرائل کے حق کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہا یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیارکر جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور جج جب وہ اپنے کردارکا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے سامنے دو اہم نکات آتے ہیں ایک تو یہ کہ آئین کے آرٹیکل 199 اور 184(3) کے درمیان انتہائی باریک فرق کو واضح کیا جانا چاہیے اور جعلی درخواستوں و بے بنیاد مقدمات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
دوسرا یہ کہ اچھی حکمرانی اور قانون کی عملداری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے اور ساتھی ججوں کی جانب سے ریٹائر ہونیوالے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے کہا کہ نئے چیف جسٹس کے طور پر میں امیدکرتا ہوں کہ پاکستان کا عدالتی نظام آپ کے چھوڑے ہوئے شاندار ورثے سے فائدہ اٹھائے گا۔این این آئی کے مطابق جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پرعملدرآمد خود ہوگا،آئین اورقانون کی بالادستی میری ترجیح ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ افتخار محمد چوہدری نے آئین اور قانون کی بالادستی کیلیے سخت محنت کی ان کے دور میں بنیادی انسانی حقوق پر زور دیا گیا، چیف جسٹس نے قانون کی حکمرانی،عوام میں جمہوریت کی آگاہی کیلیے عوامی امنگوں کے مطابق کام کیا اور ان کے ہی دور میں اربوں کی کرپشن کا ازخودنوٹس لیاگیا۔خصوصی خبرنگارکے مطابق نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے خطاب میں آئندہ کے ارادوں کوکھل کر بیان کر دیا ہے۔
ازخود نوٹس اور سپریم کورٹ کے براہ راست دائرہ اختیارکے آرٹیکل184(3) کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ چاہیں گے اس بارے میں حدود و قیود قائم ہوں اور ایک واضح تعریف ہو جائے تاکہ آئندہ بدنیتی اور ذاتی مقاصد پر مبنی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ہو۔انھوں نے کہا ان سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعدکیا ہوگا، اس ضمن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جب چیف جسٹس معزول تھے تو میں اس بینچ کا رکن تھا جس کے روبرو صدارتی ریفرنس کیخلاف ان کی درخواست زیر سماعت تھی۔ 17 جولائی 2007ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اسلام آبادکچہری میں خطاب کرنا تھا ۔
لیکن ان کے خطاب سے تھوڑی دیر پہلے دھماکا ہوگیا جس پر خوف و ہراس پیدا ہوا۔ بینچ کے ایک سینئر رکن رات کی تاریکی میں میرے گھر آئے اور چند روزکیلیے مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کا کہا، شاید وہ میرا حوصلہ آزمانا چاہتے تھے، میں نے انھیں جواب دیا کہ بالکل نہیں، انھیں عدالت اڑانے دیں، ہم شارع دستور پر اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔ میں نے فاضل جج سے کہا کہ یہ میری سوچ ہے اس سلسلے میں بینچ کے کسی اور رکن کی رائے بھی لے لی جائے اس پر ہم جسٹس ناصر الملک کے پاس گئے لیکن ان کا جواب بھی یہی تھا۔ اس کے 3 روز بعد ہم نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کر دیا۔انھوں نے کہا خاموش آئین کو زبان دینے سے آئین کی عملداری قائم ہوگی،آئین خود بولے گا تو خود ہی نافذ ہو جائے گا۔
چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی ریٹائرمنٹ پرفل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ 2007ء سے پہلے بھی چیف جسٹس آف پاکستان نے مفاد عامہ میں بہت سے اہم فیصلے کیے،انھوں نے اپنے فیصلوں کی بدولت جمہوریت کی مضبوطی، عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر عوام کو تحفظ فراہم کیا، فوج کی مداخلت کو غیر آئینی قرار دیا اور بدعنوانی، کرپشن ، معاشرے کی دیگر سماجی برائیوں کے خاتمے اورگڈگورننس کو یقینی بنانے کیلیے اہم فیصلے دیے ۔نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ9 مارچ2007ء اور 3 نومبر 2007ء کے واقعات سے اس تلخ حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ محض آئینی لفاظی عدلیہ کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدلیہ نے محسوس کیا کہ عوامی اعتماد حاصل کرنے کیلیے عدلیہ کومضبوط بنیادوں پر استوارکرنا ضروری ہے اور انہی کی سربراہی میں عدلیہ نے جمہوریت کے فروغ اور فوجی راج کی بیخ کنی کی طرف پیش قدمی کی۔
جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ از خود نوٹسزکے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، آرٹیکل 184(3) کے تحت جعلی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے،آئین نے یہ اختیارگڈ گورننس کو یقینی بنانے کیلیے دیا ہے جسے آئین کی حدود میں استعمال کیا جائے گا، از خود نوٹس کا اختیار استعمال کرتے وقت اختیارات کی تقسیم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اختیارکے استعمال میں شفاف ٹرائل کے حق کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہا یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیارکر جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور جج جب وہ اپنے کردارکا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے سامنے دو اہم نکات آتے ہیں ایک تو یہ کہ آئین کے آرٹیکل 199 اور 184(3) کے درمیان انتہائی باریک فرق کو واضح کیا جانا چاہیے اور جعلی درخواستوں و بے بنیاد مقدمات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
دوسرا یہ کہ اچھی حکمرانی اور قانون کی عملداری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے اور ساتھی ججوں کی جانب سے ریٹائر ہونیوالے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے کہا کہ نئے چیف جسٹس کے طور پر میں امیدکرتا ہوں کہ پاکستان کا عدالتی نظام آپ کے چھوڑے ہوئے شاندار ورثے سے فائدہ اٹھائے گا۔این این آئی کے مطابق جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پرعملدرآمد خود ہوگا،آئین اورقانون کی بالادستی میری ترجیح ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ افتخار محمد چوہدری نے آئین اور قانون کی بالادستی کیلیے سخت محنت کی ان کے دور میں بنیادی انسانی حقوق پر زور دیا گیا، چیف جسٹس نے قانون کی حکمرانی،عوام میں جمہوریت کی آگاہی کیلیے عوامی امنگوں کے مطابق کام کیا اور ان کے ہی دور میں اربوں کی کرپشن کا ازخودنوٹس لیاگیا۔خصوصی خبرنگارکے مطابق نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے خطاب میں آئندہ کے ارادوں کوکھل کر بیان کر دیا ہے۔
ازخود نوٹس اور سپریم کورٹ کے براہ راست دائرہ اختیارکے آرٹیکل184(3) کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ چاہیں گے اس بارے میں حدود و قیود قائم ہوں اور ایک واضح تعریف ہو جائے تاکہ آئندہ بدنیتی اور ذاتی مقاصد پر مبنی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ہو۔انھوں نے کہا ان سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعدکیا ہوگا، اس ضمن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جب چیف جسٹس معزول تھے تو میں اس بینچ کا رکن تھا جس کے روبرو صدارتی ریفرنس کیخلاف ان کی درخواست زیر سماعت تھی۔ 17 جولائی 2007ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اسلام آبادکچہری میں خطاب کرنا تھا ۔
لیکن ان کے خطاب سے تھوڑی دیر پہلے دھماکا ہوگیا جس پر خوف و ہراس پیدا ہوا۔ بینچ کے ایک سینئر رکن رات کی تاریکی میں میرے گھر آئے اور چند روزکیلیے مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کا کہا، شاید وہ میرا حوصلہ آزمانا چاہتے تھے، میں نے انھیں جواب دیا کہ بالکل نہیں، انھیں عدالت اڑانے دیں، ہم شارع دستور پر اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔ میں نے فاضل جج سے کہا کہ یہ میری سوچ ہے اس سلسلے میں بینچ کے کسی اور رکن کی رائے بھی لے لی جائے اس پر ہم جسٹس ناصر الملک کے پاس گئے لیکن ان کا جواب بھی یہی تھا۔ اس کے 3 روز بعد ہم نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کر دیا۔انھوں نے کہا خاموش آئین کو زبان دینے سے آئین کی عملداری قائم ہوگی،آئین خود بولے گا تو خود ہی نافذ ہو جائے گا۔