جونیئر ہاکی ورلڈکپ پاکستان پہلی بار کوارٹر فائنل میں نہ پہنچ سکا
ناکامی ایشیا میں کھیل کیلیے اچھی خبر نہیں،لوگ سیمی فائنل میں پاک بھارت مقابلہ دیکھنا پسند کرتے،منیجر
بھارت بھی پہلے رائونڈ تک محدود رہنے پر شدید مایوس، فیڈریشن کے سیکریٹری نے ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قوم سے معذرت کرلی۔ فوٹو: فائل
جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان پہلی بار کوارٹرفائنل میں نہ پہنچ سکا،منیجر منظور الحسن نے اسے بڑے دھچکے سے تعبیر کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہماری ناکامی ایشیا میں ہاکی کیلیے اچھی خبر نہیں ہے، یہاں کے لوگ سیمی فائنل یا فائنل میں پاک بھارت مقابلہ دیکھنا پسند کرتے، دوسری جانب سابق پاکستانی اولمپئن شہناز شیخ نے کہا ہے کہ اب ملکی ہاکی کی ' فاتحہ ' پڑھ لینی چاہیے۔ دریں اثنا بھارت بھی کوارٹرفائنل سے باہر ہونے پر شدید مایوس ہے، ہاکی انڈیاکے سیکریٹری نریندرا بٹرا نے ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قوم سے معذرت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں جاری جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جگہ نہیں بنا سکیں، پاکستان تاریخ میں پہلی مرتبہ اولین رائونڈ تک محدود رہا، ٹیم گذشتہ دنوں بیلجیئم کیخلاف آخری لیگ میچ2-2 سے ڈرا کھیلنے کے بعد کوارٹر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی تھی، اس صورتحال پر منیجر منظور الحسن نے کہا کہ پاکستان اولین جونیئر ورلڈ کپ 1979 کا فاتح رہا اور اب ہم کوارٹر فائنلز کیلیے بھی کوالیفائی نہیں کرپائے ہیں، میں اس وقت خود کو ٹوٹا ہوا محسوس کررہا ہوں۔
1976 کے مونٹریال اولمپکس میں برانز میڈل جیتنے والی ٹیم کے رکن منظور الحسن نے مزید کہا کہ یہ میرے لیے جذباتی لمحات ہیں، ہمارے ملک میں لوگ اب بھی کھیل کے بارے میں بہت جذبہ رکھتے ہیں،کوارٹر فائنلز میں جگہ نہ بنانا ہمارے لیے بڑا دھچکا ہے، ہماری ناکامی ایشیا میں ہاکی کے کھیل کیلیے بھی اچھی خبر نہیں، لوگ یہاں پر پاک بھارت ٹیموں کو سیمی فائنلز یا فائنل میں کھیلتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ، پاکستان میں کھیل سے محبت کرنے والے لوگ ہماری ٹیم کی ناکامی سے بہت اپ سیٹ ہیں، منظور الحسن نے کہا کہ مصر کیخلاف 3-2 سے کامیابی اور پھر جرمنی کے ہاتھوں 1-6 سے شکست کے بعد ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچنے کیلیے ہمیں بیلجیئم کیخلاف کم از کم 11 گولز کے مارجن سے فتح درکار تھی، میں نے اپنے پلیئرز کو بتادیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے لیے کوالیفائی کرنا ممکن نہیں ہوگا لیکن وہ لازمی طور پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کریں جو پاکستان ہاکی کے مستقبل کیلیے اہم ہوگا، اگرچہ 2سے3 گول کرنے کے مواقع ضائع ہوئے تاہم میں خوش ہوں کہ ٹیم نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔
منیجر نے مزیدکہا کہ جرمنی کیخلاف ہم نے ایونٹ کا بدترین میچ کھیلا جس سے مہم کو دھچکا لگا، انھوں نے کہا کہ اس ناکامی سے پاکستان میں ہاکی ختم نہیں ہوجائے گی لیکن ہمیں اپنی شکست کے اسباب پر سوچنا چاہیے، بھارت سے لازمی طور پر سیریز کا انعقاد کرنا ہو گا جبکہ غیرملکی ٹیموں کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے، ہمارے لیے یہ بڑی غمناک صورتحال ہے کہ ملکی میدان سونے ہیں اور ہم بڑے ایونٹ کی میزبانی نہیں کرپا رہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں ایک انٹرویو کے دوران سابق اولمپئن شہناز شیخ نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ملکی ہاکی انتہائی نگہداشت کے یونٹ ( آئی سی یو) میں ہے اور اب وقت آگیاکہ اس کی ' فاتحہ ' پڑھ لی جائے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اختتامی پوزیشنز پر کھیلنے کے معاملے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا، پلیئرز میں فزیکل فٹنس کی کمی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ جونیئر ٹیم میں 10سینئرز شامل ہیں لیکن پھر بھی حریفوں کو شکست نہیں دے پائے،ایسے میں کیا توقع رکھی جاسکتی ہے کہ یہ ٹیم دنیا کی سینئر سائیڈزکا مقابلہ کرپائے گی، انھوں نے ہاکی کے سرپرست اعلیٰ سے کھیل کے معاملات میں فوری دلچسپی لیتے ہوئے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ دریں اثنا بھارتی ٹیم بھی جنوبی کوریا کے ہاتھوں 3-3 سے آخری لیگ میچ برابر کھیلنے کے بعد کوارٹر فائنلز سے باہر ہوگئی، اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہاکی انڈیا کے سیکریٹری نریندرا بٹرا نے شائقین سے معذرت کرلی، انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پلیئرزاور معاون اسٹاف کو قصوروار قرار نہ دیں۔
انھوں نے کہا کہ ہماری ناکامی ایشیا میں ہاکی کیلیے اچھی خبر نہیں ہے، یہاں کے لوگ سیمی فائنل یا فائنل میں پاک بھارت مقابلہ دیکھنا پسند کرتے، دوسری جانب سابق پاکستانی اولمپئن شہناز شیخ نے کہا ہے کہ اب ملکی ہاکی کی ' فاتحہ ' پڑھ لینی چاہیے۔ دریں اثنا بھارت بھی کوارٹرفائنل سے باہر ہونے پر شدید مایوس ہے، ہاکی انڈیاکے سیکریٹری نریندرا بٹرا نے ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قوم سے معذرت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں جاری جونیئر ہاکی ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جگہ نہیں بنا سکیں، پاکستان تاریخ میں پہلی مرتبہ اولین رائونڈ تک محدود رہا، ٹیم گذشتہ دنوں بیلجیئم کیخلاف آخری لیگ میچ2-2 سے ڈرا کھیلنے کے بعد کوارٹر فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی تھی، اس صورتحال پر منیجر منظور الحسن نے کہا کہ پاکستان اولین جونیئر ورلڈ کپ 1979 کا فاتح رہا اور اب ہم کوارٹر فائنلز کیلیے بھی کوالیفائی نہیں کرپائے ہیں، میں اس وقت خود کو ٹوٹا ہوا محسوس کررہا ہوں۔
1976 کے مونٹریال اولمپکس میں برانز میڈل جیتنے والی ٹیم کے رکن منظور الحسن نے مزید کہا کہ یہ میرے لیے جذباتی لمحات ہیں، ہمارے ملک میں لوگ اب بھی کھیل کے بارے میں بہت جذبہ رکھتے ہیں،کوارٹر فائنلز میں جگہ نہ بنانا ہمارے لیے بڑا دھچکا ہے، ہماری ناکامی ایشیا میں ہاکی کے کھیل کیلیے بھی اچھی خبر نہیں، لوگ یہاں پر پاک بھارت ٹیموں کو سیمی فائنلز یا فائنل میں کھیلتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ، پاکستان میں کھیل سے محبت کرنے والے لوگ ہماری ٹیم کی ناکامی سے بہت اپ سیٹ ہیں، منظور الحسن نے کہا کہ مصر کیخلاف 3-2 سے کامیابی اور پھر جرمنی کے ہاتھوں 1-6 سے شکست کے بعد ناک آئوٹ مرحلے میں پہنچنے کیلیے ہمیں بیلجیئم کیخلاف کم از کم 11 گولز کے مارجن سے فتح درکار تھی، میں نے اپنے پلیئرز کو بتادیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے لیے کوالیفائی کرنا ممکن نہیں ہوگا لیکن وہ لازمی طور پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کریں جو پاکستان ہاکی کے مستقبل کیلیے اہم ہوگا، اگرچہ 2سے3 گول کرنے کے مواقع ضائع ہوئے تاہم میں خوش ہوں کہ ٹیم نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔
منیجر نے مزیدکہا کہ جرمنی کیخلاف ہم نے ایونٹ کا بدترین میچ کھیلا جس سے مہم کو دھچکا لگا، انھوں نے کہا کہ اس ناکامی سے پاکستان میں ہاکی ختم نہیں ہوجائے گی لیکن ہمیں اپنی شکست کے اسباب پر سوچنا چاہیے، بھارت سے لازمی طور پر سیریز کا انعقاد کرنا ہو گا جبکہ غیرملکی ٹیموں کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے، ہمارے لیے یہ بڑی غمناک صورتحال ہے کہ ملکی میدان سونے ہیں اور ہم بڑے ایونٹ کی میزبانی نہیں کرپا رہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں ایک انٹرویو کے دوران سابق اولمپئن شہناز شیخ نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ملکی ہاکی انتہائی نگہداشت کے یونٹ ( آئی سی یو) میں ہے اور اب وقت آگیاکہ اس کی ' فاتحہ ' پڑھ لی جائے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اختتامی پوزیشنز پر کھیلنے کے معاملے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا، پلیئرز میں فزیکل فٹنس کی کمی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ جونیئر ٹیم میں 10سینئرز شامل ہیں لیکن پھر بھی حریفوں کو شکست نہیں دے پائے،ایسے میں کیا توقع رکھی جاسکتی ہے کہ یہ ٹیم دنیا کی سینئر سائیڈزکا مقابلہ کرپائے گی، انھوں نے ہاکی کے سرپرست اعلیٰ سے کھیل کے معاملات میں فوری دلچسپی لیتے ہوئے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ دریں اثنا بھارتی ٹیم بھی جنوبی کوریا کے ہاتھوں 3-3 سے آخری لیگ میچ برابر کھیلنے کے بعد کوارٹر فائنلز سے باہر ہوگئی، اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہاکی انڈیا کے سیکریٹری نریندرا بٹرا نے شائقین سے معذرت کرلی، انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پلیئرزاور معاون اسٹاف کو قصوروار قرار نہ دیں۔