جسٹس افتخار نے سیاستدانوں سے زیادہ سیاست کی بابراعوان

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی،عرفان قادر، میڈیا کوریج پرانکا قدکاٹھ چھوٹا ہوگیا، زاہدخان

عدل کرنا بہت بڑی ذمے داری ہے اور یہ کام کوئی ایساشخص نہیں کرسکتا جس کاکیریئر سیاسی ہو،سابق وزیر قانون۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

KARACHI:
پیپلزپارٹی کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ عدل خدا کی صفت ہے، عدل کرنا بہت بڑی ذمے داری ہے اور یہ کام کوئی ایساشخص نہیں کرسکتا جس کاکیریئر سیاسی ہو۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی رٹائرمنٹ کے حوالے سے ایکسپریس نیوزکے خصوصی پروگرام'' الوداع۔۔۔ افتخارچوہدری'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جسٹس افتخارکا سارا کیریئر ہی سیاسی تھا، انھوں نے سیاستدانوں سے زیادہ سیاست کی۔ جب میزبان عمران خان نے ایک میڈیا چینل کی کوریج کے حوالے سے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان کے کیریئر کی آخری گیند پر اسپاٹ فکسنگ کاالزام لگ گیا ہے تو بابر اعوان نے جواب دیا کہ ٹنڈولکرکی اننگ میں ٹلے بھی ہیں اور ٹنڈولکر اس فیلڈکا آدمی ہے جس میں اسپاٹ فکسنگ کی اجازت ہے۔

بابر اعوان نے کہاکہ تمام چینل محترم ہیں لیکن اس موقع پر سرکاری چینل کہاں تھا؟ یہ سب کچھ ان لوگوں کی وجہ سے ہوا جن کو ایکسٹینشنزدی گئیں، جسٹس افتخار چوہدری نے سرکاری وسائل ذاتی تشہیر پرخرچ کیے، ان کے ساتھ عدلیہ کی تحریک چلانے والوں کوکچھ نہیں ملا۔ علی احمدکرد نے کہاکہ سپریم کورٹ میں کچھ فرعون آکر بیٹھ گئے ہیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ ہم اس ایوان (سپریم کورٹ) کوآگ لگادیں گے، جب لوگوں نے دیکھاکہ ایک آدمی کی وجہ سے دوستیاں اوردشمنیاں بڑھنے لگی ہیں تو وہ پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے، عدلیہ کسی معاملے میں فریق نہیں بن سکتی لیکن چیف جسٹس نے کہہ دیاکہ ایجنسیوں نے20 سے30 آدمی اٹھالیے ہیں، پھرٹرائل کہاں گیاجب عوام یہ سمجھنے لگیں کہ انصاف ان کے دروازے پر پہنچ جائیگا اور ریاست ماں کے جیسے ہوگی تو امید بندھنے لگی لیکن عام آدمی کوکچھ نہیں مل سکا، ڈاکٹر ارسلان کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے اور میں سمجھتاہوں کہ ان کے دور میں عدلیہ کاوقار بحال نہیں ہوا۔




سابق قانون داں وسیم سجاد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس نے بہت سے معاملات میں اہم کردار اداکیا، گڈگورننس ،کرپشن ،مہنگائی جیسے معاملات پر نوٹس لیے، سوموٹو نوٹس کی کچھ حدود ہوتی ہیں، کچھ معاملات میں ایسا لگاکہ انھوں نے حدودکوکراس کیا ہے، چیف جسٹس کے کردار کی وجہ سے کرپشن ختم نہیںہوسکی، عام آدمی آج بھی پریشان ہے، ماتحت عدالتوں میں آج بھی پہلے جیسے ہی معاملات ہیں۔ ماہر قانون اے کے ڈوگر نے کہاکہ جوبھی حالات ہوئے ہیں یہ عدلیہ بحالی کی تحریک کی وجہ سے ہوئے ہیں ورنہ یہ بھی دوسرے پی سی او ججز کی طرح تھے، انھوں نے بھی ایل ایف او اور دیگر معاملات کی توثیق کی تھی لیکن جب ان کے خلاف ریفرنس ہوا تو تب یہ بدلے۔

اے این پی کے رہنما زاہد خان نے کہاکہ عام آدمی تو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں نہیں جاتا اور جو ماتحت عدالتوں میں جاتا ہے وہ پریشان ہے، جج خود نہیں بولتے ان کے فیصلے بولتے، ایک چینل کی میڈیا کوریج کی وجہ سے چیف جسٹس کا قد کاٹھ کچھ چھوٹا ہوگیا ہے، ان کے جاتے جاتے ان کے کیریئر کا مزہ خراب اور میڈیا سے زیادتی ہوگئی۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہاکہ ضابطہ اخلاق میں درج ہے کہ چیف جسٹس اپنے کسی بھی عزیز کا کیس نہیں سن سکتے لیکن انھوں نے ڈاکٹر ارسلان کا کیس2دن سنا، جب میں نے بات کی تو وہ الگ ہوگئے لیکن 2روز تک انھوں نے بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، جج صاحبان نے اس کیس میں بہت مداخلت کی، ڈاکٹر ارسلان کیس کے فیصلے میں بہت خراب تاریخ لکھی گئی ہے۔
Load Next Story