پولیٹیکل انتظامیہ کو قانون کا پتہ ہی نہیں پشاور ہائیکورٹ
لوگوں کو کس قانون کے تحت جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے، جسٹس فصیح،اے پی اے باڑہ آج طلب
اگربنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات کھینچ لیے تو پھر کیا ہوگا۔ فوٹو: فائل
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس میاں فصیح الملک اورجسٹس مس مسرت ہلالی پرمشتمل ڈویژن بینچ نے بندوبستی علاقے سے شہری کوسول مقدمے میں گرفتار کر کے پولیٹیکل لاک اپ میں رکھنے پراے پی اے باڑہ کو آج ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔
جسٹس میاں فصیح الملک نے کہاکہ پولیٹکل انتظامیہ کو قانون کاپتہ ہے اورنہ ہی قانون پرعمل کررہے ہیں،اگربنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات کھینچ لیے تو پھر کیا ہوگا، وہاں پراپنی مرضی کے قانون کے تحت انتظامات نہیں چل سکتے۔
درخواست گزارکے وکیل نے بتایاکہ پولٹیکل انتظامیہ کے پاس بندوبستی علاقے سے وہاں کے رہائشی کو گرفتار کرنے کا اختیارہی نہیں اور نہ ہی وہ سول کیس میں ضمانتی مچلکے طلب کرسکتے ہیں،جسٹس فصیح الملک نے کہاکہ کونسے قانون کے تحت آپ سول مقدمات میں لوگوںکوجیلوں میں بند کررہے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ آج جمعرات کوشہری اور ریکارڈسمیت اے پی اے جمرود عدالت کے روبروپیش ہوں۔
جسٹس میاں فصیح الملک نے کہاکہ پولیٹکل انتظامیہ کو قانون کاپتہ ہے اورنہ ہی قانون پرعمل کررہے ہیں،اگربنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات کھینچ لیے تو پھر کیا ہوگا، وہاں پراپنی مرضی کے قانون کے تحت انتظامات نہیں چل سکتے۔
درخواست گزارکے وکیل نے بتایاکہ پولٹیکل انتظامیہ کے پاس بندوبستی علاقے سے وہاں کے رہائشی کو گرفتار کرنے کا اختیارہی نہیں اور نہ ہی وہ سول کیس میں ضمانتی مچلکے طلب کرسکتے ہیں،جسٹس فصیح الملک نے کہاکہ کونسے قانون کے تحت آپ سول مقدمات میں لوگوںکوجیلوں میں بند کررہے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ آج جمعرات کوشہری اور ریکارڈسمیت اے پی اے جمرود عدالت کے روبروپیش ہوں۔