حقائق سامنے آنے چاہئیں
نئے چیف جسٹس نےجن حالات میں ذمے داریاں سنبھالی ہیں وہ خاصے پیچیدہ اورحساس ہیں،دیکھا جائے تو ان کے سامنے بڑے چیلنجز ہیں
عدلیہ پربھاری ذمے داری ہے کہ ازخود نوٹس لیتے وقت اس حقیقت کو مدنظررکھے کہ کہیں اس اقدام سے مقننہ یا انتظامیہ کے اختیارات تو متاثرنہیں ہوتے۔ فوٹو:فائل
نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔ وہ پاکستان کے 21 ویں چیف جسٹس ہیں۔ نئے چیف جسٹس نے جن حالات میں ذمے داریاں سنبھالیں ہیں' وہ خاصے پیچیدہ اور حساس ہیں یوں دیکھا جائے تو ان کے سامنے بڑے چیلنجز ہیں۔
ادھر گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس کی ویڈیو فوٹیج ایک چینل کو دیے جانے کے واقعے نے ریفرنس کی کوریج کا معاملہ متنازعہ بنا دیا ہے۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے فل کورٹ ریفرنس کی ویڈیو فوٹیج ایک چینل پر دیے جانے کے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ اس واقعے کی انکوائری کے لیے سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار محمد علی کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا اور بروقت اقدام ہے۔
فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی کی فوٹیج محض ایک ٹی وی چینل کو دینا بحیثیت مجموعی میڈیا کے ساتھ زیادتی کے زمرے میں آئے گا' یہی وجہ ہے کہ منگل کو صحافیوں نے عدالت عظمیٰ کے احاطے میں احتجاج کیا اور نئے چیف جسٹس سے اس واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا' نئے چیف جسٹس نے یہ مطالبہ تسلیم کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے بھی صحافیوں کے موقف کی حمایت کی ہے۔ جب بھی کوئی چیف جسٹس ریٹائرڈ ہوتا ہے تو روایت کے مطابق ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوتا ہے۔
اس بار ہوا یہ کہ سپریم کورٹ انتظامیہ نے میڈیا کو فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی سے دور رکھا تھا' اگر میڈیا کو اس کارروائی سے دور رکھنا تھا تو اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے تھا' لیکن ہوا یہ کہ اس فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی کی فوٹیج ایک چینل کو دے دی گئی' یہ ویڈیو فوٹیج کس نے بنائی' کیا سپریم کورٹ انتظامیہ نے اس کی اجازت دی تھی؟ یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے۔ اب تک اس حوالے سے جو وضاحتیں سامنے آئی ہیں انھیں تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامیہ میں موجود کسی نے یہ فوٹیج ایک چینل کے حوالے کی۔ یوں باقی میڈیا کے ساتھ زیادتی کی گئی' اصولی طور پر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے ویڈیو فوٹیج ایک چینل کو فراہم کی انھوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ بھی کوئی نیکی نہیں کی ہے۔ اس اقدام سے وہ جاتے جاتے متنازعہ ہو گئے۔ اب اس معاملے کی انکوائری کا حکم ہو چکا ہے اور انکوائری افسر مقرر ہو چکا ہے۔ اس لیے امید یہی ہے کہ حقیقت اور سچ سامنے آ جائے گا۔
نئے چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی اب اپنی ذمے داریاں سنبھال چکے ہیں۔انھوں نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض آئینی لفاظی عدلیہ کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ از خود نوٹسزکے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے نیز جعلی درخواستوںکی بھی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیارکر جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور جج جب وہ اپنے کردار کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے سامنے دو اہم نکات آتے ہیں' ایک تو یہ کہ جعلی درخواستوں و بے بنیاد مقدمات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
دوسرا یہ کہ اچھی حکمرانی اور قانون کی عملداری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے اور ساتھی ججوں کی جانب سے سبکدوش ہونیوالے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ نئے چیف جسٹس کے طور پر میں امیدکرتا ہوں کہ پاکستان کا عدالتی نظام آپ کے چھوڑے ہوئے شاندار ورثے سے فائدہ اٹھائے گا۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پرعملدرآمد خود ہو گا، آئین اور قانون کی بالادستی میری ترجیح ہو گی۔ نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے خطاب میں آیندہ کے ارادوںکوکھل کر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خاموش آئین کو زبان دینے سے آئین کی عملداری قائم ہو گی،آئین خود بولے گا تو خود ہی نافذ ہو جائے گا۔ جناب چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کسی حد تک اپنی ترجیحات کو واضح کر دیا ہے۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یقینی طور پرانتہائی مشکل حالات میں دلیرانہ فیصلے کیے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کے بعض فیصلوں پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ ان کے دور میں از خود نوٹس کا کلچر پروان چڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے چیف جسٹس نے از خود نوٹسز کے معاملے پر نظرثانی کی بات کی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اگر انتظامی ادارے آئین اور قانون کے مطابق سیاسی اثرات سے پاک ہوکر اپنا کام کریں تو عدالتوں کو از خود نوٹس لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
اعلیٰ عدلیہ کے تقدس اور وقار کا تقاضا یہ ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمے داریاں محسوس کرے اور عوام کے وہ کام جو انتظامیہ کے رویے کے باعث التوا کا شکار ہوتے ہیں' وہ ایک خود کار نظام کے تحت ہو جائیں۔ اگر ایسا کلچر پروان چڑھ جائے تو عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو گا اور از خود نوٹس بھی نہیں لینا پڑے گا۔ ادھر عدلیہ پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ از خود نوٹس لیتے وقت اس حقیقت کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ کہیں اس اقدام سے مقننہ یا انتظامیہ کی ذمے داریاں اور اختیارات تو متاثر نہیں ہوتے۔
ادھر گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس کی ویڈیو فوٹیج ایک چینل کو دیے جانے کے واقعے نے ریفرنس کی کوریج کا معاملہ متنازعہ بنا دیا ہے۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے فل کورٹ ریفرنس کی ویڈیو فوٹیج ایک چینل پر دیے جانے کے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ اس واقعے کی انکوائری کے لیے سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار محمد علی کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا اور بروقت اقدام ہے۔
فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی کی فوٹیج محض ایک ٹی وی چینل کو دینا بحیثیت مجموعی میڈیا کے ساتھ زیادتی کے زمرے میں آئے گا' یہی وجہ ہے کہ منگل کو صحافیوں نے عدالت عظمیٰ کے احاطے میں احتجاج کیا اور نئے چیف جسٹس سے اس واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا' نئے چیف جسٹس نے یہ مطالبہ تسلیم کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے بھی صحافیوں کے موقف کی حمایت کی ہے۔ جب بھی کوئی چیف جسٹس ریٹائرڈ ہوتا ہے تو روایت کے مطابق ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد ہوتا ہے۔
اس بار ہوا یہ کہ سپریم کورٹ انتظامیہ نے میڈیا کو فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی سے دور رکھا تھا' اگر میڈیا کو اس کارروائی سے دور رکھنا تھا تو اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے تھا' لیکن ہوا یہ کہ اس فل کورٹ ریفرنس کی کارروائی کی فوٹیج ایک چینل کو دے دی گئی' یہ ویڈیو فوٹیج کس نے بنائی' کیا سپریم کورٹ انتظامیہ نے اس کی اجازت دی تھی؟ یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے۔ اب تک اس حوالے سے جو وضاحتیں سامنے آئی ہیں انھیں تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامیہ میں موجود کسی نے یہ فوٹیج ایک چینل کے حوالے کی۔ یوں باقی میڈیا کے ساتھ زیادتی کی گئی' اصولی طور پر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے ویڈیو فوٹیج ایک چینل کو فراہم کی انھوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ بھی کوئی نیکی نہیں کی ہے۔ اس اقدام سے وہ جاتے جاتے متنازعہ ہو گئے۔ اب اس معاملے کی انکوائری کا حکم ہو چکا ہے اور انکوائری افسر مقرر ہو چکا ہے۔ اس لیے امید یہی ہے کہ حقیقت اور سچ سامنے آ جائے گا۔
نئے چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی اب اپنی ذمے داریاں سنبھال چکے ہیں۔انھوں نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض آئینی لفاظی عدلیہ کی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ از خود نوٹسزکے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے نیز جعلی درخواستوںکی بھی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیارکر جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بطور جج جب وہ اپنے کردار کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے سامنے دو اہم نکات آتے ہیں' ایک تو یہ کہ جعلی درخواستوں و بے بنیاد مقدمات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
دوسرا یہ کہ اچھی حکمرانی اور قانون کی عملداری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے اور ساتھی ججوں کی جانب سے سبکدوش ہونیوالے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ نئے چیف جسٹس کے طور پر میں امیدکرتا ہوں کہ پاکستان کا عدالتی نظام آپ کے چھوڑے ہوئے شاندار ورثے سے فائدہ اٹھائے گا۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پرعملدرآمد خود ہو گا، آئین اور قانون کی بالادستی میری ترجیح ہو گی۔ نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے خطاب میں آیندہ کے ارادوںکوکھل کر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خاموش آئین کو زبان دینے سے آئین کی عملداری قائم ہو گی،آئین خود بولے گا تو خود ہی نافذ ہو جائے گا۔ جناب چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کسی حد تک اپنی ترجیحات کو واضح کر دیا ہے۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یقینی طور پرانتہائی مشکل حالات میں دلیرانہ فیصلے کیے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کے بعض فیصلوں پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ ان کے دور میں از خود نوٹس کا کلچر پروان چڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے چیف جسٹس نے از خود نوٹسز کے معاملے پر نظرثانی کی بات کی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اگر انتظامی ادارے آئین اور قانون کے مطابق سیاسی اثرات سے پاک ہوکر اپنا کام کریں تو عدالتوں کو از خود نوٹس لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
اعلیٰ عدلیہ کے تقدس اور وقار کا تقاضا یہ ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمے داریاں محسوس کرے اور عوام کے وہ کام جو انتظامیہ کے رویے کے باعث التوا کا شکار ہوتے ہیں' وہ ایک خود کار نظام کے تحت ہو جائیں۔ اگر ایسا کلچر پروان چڑھ جائے تو عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو گا اور از خود نوٹس بھی نہیں لینا پڑے گا۔ ادھر عدلیہ پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ از خود نوٹس لیتے وقت اس حقیقت کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ کہیں اس اقدام سے مقننہ یا انتظامیہ کی ذمے داریاں اور اختیارات تو متاثر نہیں ہوتے۔