وقار یونس ہال آف فیم میں شمولیت پرخوشی سے سرشار

کرکٹ سے بہت محبت کرتا ہوں،پہلی انٹرنیشنل گینداچھی طرح یاد ہے،سابق پیسر

کرکٹ سے بہت محبت کرتا ہوں،پہلی انٹرنیشنل گینداچھی طرح یاد ہے،سابق پیس. فوٹو: رائٹرز/فائل

BAGHDAD:
سابق پاکستانی کپتان وقار یونس آئی سی سی ہال آف فیم میں شمولیت پر خوشی سے سرشار ہیں، وہ کبھی شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کے اسٹینڈ میں بیٹھ کر عمران خان کو بولنگ کرتے دیکھا کرتے تھے۔

پھر ایک وقت آیا کہ انہی کی کپتانی میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے، اب وہ عمران کے ساتھ آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہیں، وہ یہ اعزاز پانے والے پانچویں پاکستانی کرکٹر بنے، اس فہرست میں جاوید میانداد، حنیف محمد اور وسیم اکرم بھی شامل ہیں، بی بی سی کو انٹرویو میں وقار یونس نے کہا کہ میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ حنیف محمد، عمران اورمیانداد جیسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں مجھے بھی شامل کیا گیا ہے، میں چند سال شارجہ میں رہا اور جب بھی پاکستانی ٹیم وہاں میچز کھیلتی میں اسٹیڈیم جاکر عمران خان کو دیکھا کرتا تھا،ان کے ساتھ کھیلنے کا خواب بھی پورا ہوا اور ہال آف فیم میں بھی ہمارا نام ساتھ درج ہوا ہے۔ وقار یونس نے کہا کہ فاسٹ بولنگ کا اپنا ایک الگ مزا ہے، مجھے اس سے جنون کی حد تک محبت ہے، اس میں سنسنی خیزی اور جوش ہے۔




جب آپ کی تیز گیند پر بیٹسمین کی وکٹ دور جاگرے، کسی کے پیڈ یا سر پر لگے تو ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ ہر چیز آپ کے کنٹرول میں آ گئی، فاسٹ بولر کے طور پر میں نے ایک ایک لمحے سے لطف اٹھایا اور دوبارہ بھی یہی بننا پسند کروں گا۔وقار یونس نے ٹیسٹ کرکٹ میں 373 اور ون ڈے میں 416وکٹیں حاصل کیں، فرسٹ کلاس کرکٹ میں وکٹوں کی تعداد 956رہی، اس شاندار کارکردگی پر وہ مطمئن ہیں، انھوں نے کہا کہ مجھے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی پہلی گیند اچھی طرح یاد ہے، سچن ٹنڈولکر کے ساتھ ٹیسٹ کیریئر کا آغاز مجھے کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے، میں نے ہی انھیں آؤٹ کیا تھا،گو کہ مجھے گلن میک گرا کی طرح اپنی ہر وکٹ تو یاد نہیں لیکن کئی شکار ذہن میں محفوظ اور یہ میرا اثاثہ ہیں، میں نے سخت محنت کا صلہ پایا۔وقار یونس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کرکٹ سے وابستگی کو کھیل سے اپنی محبت کا نتیجہ سمجھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں کرکٹ سے بہت محبت کرتا ہوں، اسی لیے کپتان، کوچ، بولنگ کوچ، کمنٹیٹر ہر حیثیت سے اپنا ناطہ جوڑے رکھا،یہ بہت ہی خوبصورت کھیل ہے۔
Load Next Story