تجارتی میدان میں پاکستان کی اہم کامیابی

جی ایس پی اسکیم کے تحت ملنے والی رعایت سے معیشت کو بڑا سہارا ملے گا جس کا سب سے زیادہ فائدہ ٹیکسٹائل شعبے کو ہو گا

2005 ء کے بعد پاکستان کو ڈیوٹی فری رسائی حاصل نہیں ہو سکی تھی. فوٹو: فائل

MIRPURKHAS:
پاکستان نے گزشتہ آٹھ سال کی کوششوں کے بعد یورپی منڈیوں تک اپنی مصنوعات کے لیے ڈیوٹی فری رسائی حاصل کر کے تجارتی میدان میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی ایوان کے 588ارکان میں سے 406 ارکان نے پاکستان کے حق میں جب کہ 186 نے مخالفت میں ووٹ دیے۔ اس طرح پاکستان سمیت نو دیگر ممالک کو یورپی یونین کے 27 ممالک تک اپنی مصنوعات پہنچانے کے لیے جی ایس پی پلس (Generalised system Of Prefence Plus Scheme)کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔اس سہولت کے تحت پاکستان کی ٹیکسٹائل کی900 اور دیگر شعبوں کی 1600 مصنوعات ڈیوٹی کے بغیر یورپی یونین کے ممالک تک پہنچائی جا سکیں گی۔ یہ سہولت یکم جنوری 2014ء سے 2017ء تک چارسال کے عرصے کے لیے حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کرنے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات پر عالمی منڈیوں کے اعتماد کا مظہر ہے' اس سے صرف ٹیکسٹائل کی صنعت میں ایک ٹریلین روپے سالانہ کا اضافہ ہو گا اور پاکستانی مصنوعات 13 ارب ڈالر سے بڑھ کر 26 ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی معیشت ایک عرصہ سے بحرانی دور سے گزر رہی ہے۔ توانائی کے بحران کے باعث صنعتی شعبہ ترقی کے میدان میں کافی پیچھے رہ گیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت مشکلات کا شکار ہے، بہت سی ٹیکسٹائل صنعتیں بند ہو چکی ہیں جس کے باعث بے روز گاری کا عنصر بھی بڑھا ہے۔ اب جی ایس پی اسکیم کے تحت ملنے والی رعایت سے پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا جس کا سب سے زیادہ فائدہ ٹیکسٹائل شعبے کو ہو گا۔ پاکستانی صنعتی شعبے کو فروغ ملنے سے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے، یہ امید کی جا رہی ہے کہ دس لاکھ افراد کو روز گار حاصل ہو گا۔ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستان کی ساڑھے تین ہزار مصنوعات یورپی یونین کے ستائیس ممالک تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل کر سکیں گی جن پر اس وقت گیارہ فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔ پاکستان کو 2002ء سے 2004ء کے عرصے کے دوران بھی جی ایس پی اسکیم کے تحت یورپی یونین تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل تھی مگر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں چیلنج کیے جانے پر یہ سہولت ختم ہوگئی۔


اب دوبارہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنا جہاں خوش آیند ہے وہاں پاکستان کی کمزور معیشت اور توانائی کے بحران کے باعث یہ خدشہ اپنی جگہ بدرجہ اتم موجود ہے کہ کیا پاکستان اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے گا۔ خاص طور پر جب اس وقت سردیاں شروع ہوتے ہی گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی یقینی بنانے کے لیے صنعتوں کو گیس کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔ گیس نہ ملنے سے ٹیکسٹائل کے شعبے کو جو پہلے ہی زبوں حالی کاشکار ہے مزید دھچکا پہنچے گا۔ اب یورپی یونین سے وسیع تر تجارت کا موقع تو ملا ہے جس سے اقتصادی شعبے کو تقویت دینے میں مدد ملے گی مگر ایسا اُسی وقت ممکن ہو سکے گا جب پاکستانی معیشت اندرونی مسائل اور بحران سے باہر نکلے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے مختصر المدت کا نظام بھی معاشی اور اقتصادی شعبے پر کاری ضرب لگا رہا ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے جس کے باعث صنعتی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب ڈالر کی قیمت بھی آئے روز بڑھ جاتی ہے جس کا امپورٹر اور ایکسپورٹر کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

غیر متوقع طور پر صنعتی پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتکار کے لیے پرانے طے شدہ ریٹ پر مال تیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے، دوسری جانب توانائی کے بحران کے باعث بروقت مال تیار نہ ہونے سے غیر ملکی معاہدہ کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس صورت حال کے باعث غیر ملکی تاجر پاکستانی صنعتکاروں سے تجارتی معاہدہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور ان کا رخ بھارت یا چین کی طرف ہو جاتا ہے۔ ایشیا کے اندر ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کی تیاری میں بھارت اور چین بڑی تیزی سے ترقی کر اور عالمی مارکیٹ میں چھا رہے ہیں۔ اب بنگلہ دیش بھی ٹیکسٹائل صنعت میں بڑی تیزی سے آگے آ رہا ہے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل سے وابستہ بہت سے صنعتکار ملکی حالات سے مایوس ہو کر بنگلہ دیش میں اپنا کاروبار شروع کر چکے ہیں جس سے وہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تقویت ملی ہے۔ بنگلہ دیش کو بھی یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے جب کہ 2005 ء کے بعد پاکستان کو ڈیوٹی فری رسائی حاصل نہیں ہو سکی اور اسے اپنی مصنوعات پر 23 فیصد تک ڈیوٹی ادا کرنا پڑتی تھی جس کے باعث پاکستان ان 83 ممالک کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا جو زیرو ریٹڈ تھے۔ 2005ء سے پاکستان کے پیچھے رہ جانے کے باعث اس دوران زیرو ریٹڈ ممالک اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔

مسابقت کے اس تناظر میں پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ صنعتکار کو یورپی منڈیوں میں اپنا مقام بنانے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی۔ اب جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد حکومت پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بحران میں مبتلا ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ترقی دینے کے لیے اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو توانائی کی فراہمی سستی اور یقینی بنانے کے لیے حکومت کو خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے مطابق پاکستان کوجی ایس پی پلس کا درجہ دلانے میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنا بہت بڑی پیشرفت ہے اس فیصلے سے کاروباری برادری کو یورپی منڈیوں میں وسیع تر رسائی کی سہولت ملنے سے پاکستانی معیشت مضبوط ہو گی۔ یہ ایک سنہری موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کرنے ہوں گے۔
Load Next Story