پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوشش
پاکستان کی طرف سے مشرقی پڑوسی بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں میں تیزی پیدا ہو گئی ہے
وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی الگ الگ حیثیت میں بھارت کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ فوٹو:فائل
KARACHI:
پاکستان کی طرف سے مشرقی پڑوسی بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں میں تیزی پیدا ہو گئی ہے۔ اس وقت وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی الگ الگ حیثیت میں بھارت کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ کی جامع مسجد بھی گئے۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی بھارت گئے تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ان کے مشرقی پنجاب کے ہم منصب پرکاش سنگھ بادل نے دورے کی دعوت دی تھی ۔ انھوں نے گزشتہ روز دہلی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات کی اور انھیں پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا جس میں انھیں دورۂ پاکستان کی دعوت دی گئی تھی۔ ملاقات میں توانائی، تجارت، صحت اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نواز شریف کے خیرسگالی کے پیغام میں مزید کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت دوستی کے سفر کے ہر مرحلے پر پاکستانی حکومت اور عوام کو ساتھ پائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرام دہ زندگی' علاج کی سہولتیں اور اچھی تعلیم' دونوں ملکوں میں بسنے والے عام آدمی کا خواب ہے لہذا دونوں ملکوں کی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اس خواب کو پورا کریں۔میاں شہباز شریف نے کہا اگر دونوں ملک اختلافات ختم کر لیں تو وہ غربت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بھارتی ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور بھارتی وزیراعظم نے پاک بھارت تجارت کو فروغ دینے کے علاوہ امن مذاکرات شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ بھارت کے سرکاری ذرایع کے مطابق شہباز شریف منموہن ملاقات ایک ''کرٹسی'' ملاقات تھی جس میں کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔ جہاں تک دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی کا تعلق ہے اس میں دونوں طرف سے مخالفت موجود ہے۔
ہمارے یہاں ایک فریق دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پھریرا لہرانا چاہتا ہے اور دوسری طرف اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے بھی کم نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بعض نہایت حساس مسائل چھیاسٹھ سال سے حل طلب ہیں جو تعلقات کو معمول پر لانے میں سد راہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے حل کرنے کے بعد آگے بڑھا جائے یا چین کی تقلید میں پہلے آگے بڑھ کر ان تنازعات کے حل کی راہ نکالی جائے۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے مؤخر الذکر راستے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے سندھ' بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو بھی ایسے ہی دورے کرنے چاہئیں جیسے پنجاب کے وزیراعلیٰ کر رہے ہیں' اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی شمالی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو پاکستان آنا چاہیے۔ خصوصاً راجستھان کے وزیراعلیٰ سندھ کے دورے پر آئیں اور بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جائیں تو صورتحال میں زیادہ تیزی سے بہتری آئے گی۔
پاکستان کی طرف سے مشرقی پڑوسی بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں میں تیزی پیدا ہو گئی ہے۔ اس وقت وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی الگ الگ حیثیت میں بھارت کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ کی جامع مسجد بھی گئے۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی بھارت گئے تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ان کے مشرقی پنجاب کے ہم منصب پرکاش سنگھ بادل نے دورے کی دعوت دی تھی ۔ انھوں نے گزشتہ روز دہلی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بھی ملاقات کی اور انھیں پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا جس میں انھیں دورۂ پاکستان کی دعوت دی گئی تھی۔ ملاقات میں توانائی، تجارت، صحت اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر اعظم نواز شریف کے خیرسگالی کے پیغام میں مزید کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت دوستی کے سفر کے ہر مرحلے پر پاکستانی حکومت اور عوام کو ساتھ پائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرام دہ زندگی' علاج کی سہولتیں اور اچھی تعلیم' دونوں ملکوں میں بسنے والے عام آدمی کا خواب ہے لہذا دونوں ملکوں کی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اس خواب کو پورا کریں۔میاں شہباز شریف نے کہا اگر دونوں ملک اختلافات ختم کر لیں تو وہ غربت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بھارتی ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور بھارتی وزیراعظم نے پاک بھارت تجارت کو فروغ دینے کے علاوہ امن مذاکرات شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ بھارت کے سرکاری ذرایع کے مطابق شہباز شریف منموہن ملاقات ایک ''کرٹسی'' ملاقات تھی جس میں کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔ جہاں تک دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی کا تعلق ہے اس میں دونوں طرف سے مخالفت موجود ہے۔
ہمارے یہاں ایک فریق دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پھریرا لہرانا چاہتا ہے اور دوسری طرف اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے بھی کم نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بعض نہایت حساس مسائل چھیاسٹھ سال سے حل طلب ہیں جو تعلقات کو معمول پر لانے میں سد راہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے حل کرنے کے بعد آگے بڑھا جائے یا چین کی تقلید میں پہلے آگے بڑھ کر ان تنازعات کے حل کی راہ نکالی جائے۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے مؤخر الذکر راستے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے سندھ' بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو بھی ایسے ہی دورے کرنے چاہئیں جیسے پنجاب کے وزیراعلیٰ کر رہے ہیں' اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی شمالی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو پاکستان آنا چاہیے۔ خصوصاً راجستھان کے وزیراعلیٰ سندھ کے دورے پر آئیں اور بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جائیں تو صورتحال میں زیادہ تیزی سے بہتری آئے گی۔