آخری افغان طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع
امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر مذاکرات میں انٹرا افغان مذاکرات اور دوطرفہ قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا۔
امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر مذاکرات میں انٹرا افغان مذاکرات اور دوطرفہ قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا۔فوٹو : اے ایف پی
کابل حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی حراست میں جو چار سو کے قریب آخری طالبان قیدی رہ گئے ہیں، انھیں بھی رہا کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔
افغان مسئلے کے حل کے لیے طالبان قیدیوں کی حکومت کی طرف سے رہائی اور بدلے میں طالبان کی قید سے افغان حکومت کے اراکین اور عہدے داروں کی رہائی کے معاملہ پر معاملات رکے ہوئے تھے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر مذاکرات میں انٹرا افغان مذاکرات اور دوطرفہ قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا۔پھر صدر اشرف غنی نے مطالبہ کیا کہ طالبان پہلے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں ، اس کے بعد طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کیا جائے گا لیکن طالبان قیادت نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ پہلے طالبان قیدیوں کی رہائی ہوگی ، پھر حکومت سے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی قید میں موجود آخری طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگیا ہے، یوں انٹرا افغان ڈائیلاگ کے شروع ہونے کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ افغانستان کے اندر اسی جذبے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ملک میں امن وامان چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں انھیں یہ کامیابی بالآخر حاصل ہو جائے گی۔ تب افغانستان میں امن وامان کا دور دورہ شروع ہو گا۔
گزشتہ روز 8 طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ اس کا اعلان قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین جاوید فیصل نے کیا اور بتایا کہ قیدیوں کی رہائی کے عمل میں دونوں جانب سے تیزی لانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بہتر یہی ہو گا کہ دونوں طرف سے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور قیام امن کو اولین ترجیح رکھا جائے، تب ہی انٹرا افغان مذاکرات کی کامیابی ممکن ہوگی۔
افغان مسئلے کے حل کے لیے طالبان قیدیوں کی حکومت کی طرف سے رہائی اور بدلے میں طالبان کی قید سے افغان حکومت کے اراکین اور عہدے داروں کی رہائی کے معاملہ پر معاملات رکے ہوئے تھے۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر مذاکرات میں انٹرا افغان مذاکرات اور دوطرفہ قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا۔پھر صدر اشرف غنی نے مطالبہ کیا کہ طالبان پہلے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں ، اس کے بعد طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کیا جائے گا لیکن طالبان قیادت نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ پہلے طالبان قیدیوں کی رہائی ہوگی ، پھر حکومت سے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی قید میں موجود آخری طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگیا ہے، یوں انٹرا افغان ڈائیلاگ کے شروع ہونے کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ افغانستان کے اندر اسی جذبے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ملک میں امن وامان چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں انھیں یہ کامیابی بالآخر حاصل ہو جائے گی۔ تب افغانستان میں امن وامان کا دور دورہ شروع ہو گا۔
گزشتہ روز 8 طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ اس کا اعلان قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین جاوید فیصل نے کیا اور بتایا کہ قیدیوں کی رہائی کے عمل میں دونوں جانب سے تیزی لانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بہتر یہی ہو گا کہ دونوں طرف سے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور قیام امن کو اولین ترجیح رکھا جائے، تب ہی انٹرا افغان مذاکرات کی کامیابی ممکن ہوگی۔