عبدالقادر ملا کی پھانسی
عبدالقادر ملا کی پھانسی کیخلاف بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں ہنگامے ہورہے ہیں،پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے احتجاج کیا
بنگلہ دیش میں جن افراد پر 1971ء میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے‘ وہ سب نظریاتی کارکن اور قائدین ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
لاہور:
بنگلہ دیش کی عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو 1971ء میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت کا حکم سنایا تھا جس پر گزشتہ روز عمل درآمد کر دیا گیا۔ جمعرات کو بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سزا پر نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ ان کو جنگی جرائم کے ٹریبونل نے رواں سال فروری میں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ عبدالقادر ملا کی پھانسی سے پاکستان اور بنگلہ دیش میں1971ء کے المیے کے زخم تازہ ہو گئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں ہنگامے ہو رہے ہیں جب کہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے احتجاج کیا اور عبدالقادر ملا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ بنگلہ دیش ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے' اس کی عدالتیں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں' شاید یہی وہ حقیقت ہے جسے سامنے رکھ کر پاکستان نے عبدالقادر ملا کی پھانسی کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے' بہر حال بنگلہ دیش میں جن افراد پر 1971ء میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے' وہ سب نظریاتی کارکن اور قائدین ہیں' وہ جرائم پیشہ افراد نہیں ہیں' بنگلہ دیش کی حکومت اورعدالتیں اگر پر امن بقائے باہمی اور عفو و درگزر سے کام لیتیں تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ نظریاتی لوگوں کو پھانسی دینے سے مسائل ختم نہیں ہوتے بلکہ نفرتیں اور کدورتیں بڑھتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو 1971ء میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت کا حکم سنایا تھا جس پر گزشتہ روز عمل درآمد کر دیا گیا۔ جمعرات کو بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سزا پر نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ ان کو جنگی جرائم کے ٹریبونل نے رواں سال فروری میں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ عبدالقادر ملا کی پھانسی سے پاکستان اور بنگلہ دیش میں1971ء کے المیے کے زخم تازہ ہو گئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں ہنگامے ہو رہے ہیں جب کہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے احتجاج کیا اور عبدالقادر ملا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ بنگلہ دیش ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے' اس کی عدالتیں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں' شاید یہی وہ حقیقت ہے جسے سامنے رکھ کر پاکستان نے عبدالقادر ملا کی پھانسی کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے' بہر حال بنگلہ دیش میں جن افراد پر 1971ء میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے' وہ سب نظریاتی کارکن اور قائدین ہیں' وہ جرائم پیشہ افراد نہیں ہیں' بنگلہ دیش کی حکومت اورعدالتیں اگر پر امن بقائے باہمی اور عفو و درگزر سے کام لیتیں تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ نظریاتی لوگوں کو پھانسی دینے سے مسائل ختم نہیں ہوتے بلکہ نفرتیں اور کدورتیں بڑھتی ہیں۔