ڈیوٹی فری یورپی مارکیٹ رسائی برآمدات میں1ارب ڈالر اضافہ ملازمتوں کے20لاکھ مواقع پیدا ہونگے

معیشت کوفروغ ملے گا،توانائی بحران یورپی مارکیٹ رسائی کے فوائدزائل کر سکتاہے،ٹیکسٹائل سیکٹر

جمعرات کو یورپی یونین کو پاکستان کو ترجیحی عمومی نظام (جی ایس پی) کا حامل ملک قرار دینے سے متعلق قانون پر دستخط کردیے۔فوٹو:فائل

FAISALABAD:
پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر نے یورپی یونین کی جانب سے ملکی برآمدات کو ڈیوٹی فری کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معیشت کو فروغ ملے گا مگر توانائی کا بحران کمپنیوں کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو یورپی یونین کو پاکستان کو ترجیحی عمومی نظام (جی ایس پی) کا حامل ملک قرار دینے سے متعلق قانون پر دستخط کردیے جس کامطلب ہے کہ پاکستانی کمپنیاں جنوری سے آئندہ 10 سال کے لیے 28 ملکی بلاک کو برآمدات پر کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی ادا نہیں کریں گی۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین یاسین صدیق نے کہا کہ جی ایس پی کے پہلے سال پاکستانی برآمدات میں 1 ارب ڈالر کے اضافے کی امید ہے۔

اپٹما پنجاب کے صدر ایس ایم تنویر نے کہاکہ اس سہولت کے نتیجے میں اضافی کام ملے گا جس سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں ملازمتوں کے20 لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا ملکی برآمدات میں حصہ 50 فیصد سے زائد ہے، گزشتہ مالی سال ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 13.2 ارب ڈالر رہی تھی۔ بعض حلقے کہتے ہیں کہ انرجی بحران جی ایس پی سے مکمل فائدہ اٹھانے میں حائل ہو سکتا ہے۔ ایس ایم تنویر کے مطابق گیس کی عدم دستیابی کے باعث صنعت کی پیداواری صلاحیت ایک تہائی تک محدود ہو گئی ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی جی ایس پی پلس کی سہولت سے سی فوڈ سیکٹر کے لیے بھارت سے مسابقت آسان ہو گئی ہے۔ پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فیصل افتخار نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ یورپی یونین پاکستان کے لیے 10کروڑ ڈالر کی مارکیٹ ہے، جی ایس پی کی سہولت سے مزید ڈیڑھ سے 2کروڑ ڈالر کا مارکیٹ شیئر بڑھانے میں مدد ملے گی۔




انہوں نے کہا کہ یورپی یونین میں بھارت پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی حریف ہے، پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے کے بعد پاکستان کے لیے بھارت سے مسابقت آسان ہو گئی ہے، فی الوقت 2 سی فوڈ کمپنیاں یورپی ممالک کو ایکسپورٹ کررہی ہیں جبکہ مزیدکمپنیوں نے بھی خود کو یورپی یونین کے معیارات سے ہم آہنگ کر لیا ہے۔

جی ایس پی پلس کی سہولت کے پیش نظر یورپی یونین سے پاکستانی سی فوڈ کمپنیوں کیلیے اجازت حاصل کرنے کا عمل تیز کردیا گیا ہے اور آئندہ ایک سے دو ہفتوں میں مزید 4کمپنیوں کی لسٹنگ کی امید کی جارہی ہے جس کے بعد یورپی یونین کو سی فوڈ ایکسپورٹ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ادھرکراچی فشریز ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کی سہولت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی فشریز انڈسٹری کیلیے خوش آئند قرار دیا اورکہا کہ اس سہولت کے ذریعے پاکستانی سی فوڈانڈسٹریز پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اس موقع سے بھرپور استفادہ کرنے اور ملکی برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے فشریز ہاربر اتھارٹی سرمایہ کاروں اور ایکسپورٹرز کو ہرممکن مدد اور سہولت فراہم کریگی۔

دریں اثناء وزیراعظم کے سابق مشیر برائے ٹیکسٹائل اورپاکستان ڈینم مینوفیکچرنگ اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہاکہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کے سالانہ حجم میں70 کروڑ تا1ارب ڈالر کے اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
Load Next Story