حکومت کا پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں ترمیم پر غور
حتمی چیئرمین کے تقررکا طریقہ کار تبدیل کردیا جائے گا،جلد فیصلے کا امکان
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی مصروفیات کے سبب پیش رفت نہ ہوسکی۔ فوٹو: فائل
حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں ترمیم پر غور شروع کردیا، حتمی چیئرمین کے تقررکا طریقہ کار تبدیل کردیا جائیگا۔
وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ جلد کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی خواہاں تھی، وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی مصروفیات کے سبب پیش رفت نہ ہوسکی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژنل بینچ چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے پی سی بی، وزارت بین الصوبائی رابطہ اور بورڈ کے سابق سربراہ ذکا اشرف کی انٹرا کورٹ اپیلزکی سماعت کررہا ہے۔قبل ازیں کیے گئے عدالتی فیصلے کی روشنی میں عبوری انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کو نگران کے طور پر کام جاری رکھنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔گذشتہ سماعت میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے پی سی بی آئین کی 4شقوں میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں جلد ہی خصوصی ریگولیٹری آرڈر جاری کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ بورڈ کے کام میں رخنہ ڈالنے والی تمام رکاوٹیں دور کی جاسکیں۔
انھوں نے بتایا کہ آئین میں ترمیم کے حوالے سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بات چیت 10دسمبر کو طے پائی تھی لیکن ان کی امریکی حکام سے ملاقات کے سبب موخر کرنا پڑی۔ ڈویژنل بینچ نے کہا کہ حکومت ریگولیٹری آرڈر جاری کرسکتی ہے تاہم فی الحال 4جولائی کا عدالتی حکم برقرار رکھا جائے گا،اس ضمن میں حتمی فیصلہ عدالت ہی کریگی۔اس موقع پر درخواست دہندہ میجر(ر) احمد ندیم سڈل کے وکیل عبدالرئوف نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ پی سی بی کے موجودہ چیئرمین نجم سیٹھی کی تقرری میرٹ کیخلاف تھی، انھوں نے دلائل دیے کہ بورڈکے سربراہ ایک میڈیا گروپ سے وابستہ ہونے کے ناطے باہمی مفادات کو تحفظ دے سکتے ہیں، وہ ٹیکس نادہندہ ہونے کی وجہ سے بھی عہدہ سنبھالنے کے اہل نہیں۔ یاد رہے کہ عدالت نے آئندہ سماعت کیلیے 16دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ جلد کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی خواہاں تھی، وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی مصروفیات کے سبب پیش رفت نہ ہوسکی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژنل بینچ چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے پی سی بی، وزارت بین الصوبائی رابطہ اور بورڈ کے سابق سربراہ ذکا اشرف کی انٹرا کورٹ اپیلزکی سماعت کررہا ہے۔قبل ازیں کیے گئے عدالتی فیصلے کی روشنی میں عبوری انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کو نگران کے طور پر کام جاری رکھنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔گذشتہ سماعت میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے پی سی بی آئین کی 4شقوں میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں جلد ہی خصوصی ریگولیٹری آرڈر جاری کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ بورڈ کے کام میں رخنہ ڈالنے والی تمام رکاوٹیں دور کی جاسکیں۔
انھوں نے بتایا کہ آئین میں ترمیم کے حوالے سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بات چیت 10دسمبر کو طے پائی تھی لیکن ان کی امریکی حکام سے ملاقات کے سبب موخر کرنا پڑی۔ ڈویژنل بینچ نے کہا کہ حکومت ریگولیٹری آرڈر جاری کرسکتی ہے تاہم فی الحال 4جولائی کا عدالتی حکم برقرار رکھا جائے گا،اس ضمن میں حتمی فیصلہ عدالت ہی کریگی۔اس موقع پر درخواست دہندہ میجر(ر) احمد ندیم سڈل کے وکیل عبدالرئوف نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ پی سی بی کے موجودہ چیئرمین نجم سیٹھی کی تقرری میرٹ کیخلاف تھی، انھوں نے دلائل دیے کہ بورڈکے سربراہ ایک میڈیا گروپ سے وابستہ ہونے کے ناطے باہمی مفادات کو تحفظ دے سکتے ہیں، وہ ٹیکس نادہندہ ہونے کی وجہ سے بھی عہدہ سنبھالنے کے اہل نہیں۔ یاد رہے کہ عدالت نے آئندہ سماعت کیلیے 16دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔