وزیر اعظم انویسٹمنٹ اسکیم پر آئی ایم ایف کے تحفظات دور کر دیے ایف بی آر
16دسمبر کے بعدگوشوارے جمع کرانے والوں پر جرمانے وڈیفالٹ سرچارج عائد کیے جائیں گے،ٹیکس ہدف پوراکرلیاجائیگا
ٹیکس نہ دینے والے امیروں کیخلاف کارروائی جاری ہے،گاڑیوں پرنیاٹیکس نہیں لگا،شاہد حسین اسد،’’ایکسپریس‘‘ کوانٹرویو فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی شاہد حسین اسد نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید کسی قسم کی کوئی توسیع نہیں کی جائیگی اور 16 دسمبر کے بعد گوشوارے جمع کرانے والوں پر جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج عائد کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ انکا آڈٹ بھی کیا جائے گا۔ ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کمی نہیں کی گئی، 2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرلیا جائیگا، وزیراعظم کی اعلان کردہ انویسٹمنٹ اسکیم کے بارے میں آئی ایم ایف کے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں۔ گاڑیوں پر ٹیکس کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ایف بی آر نے کسی قسم کا کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاری کیا جانے والا چارٹ پرانا ہے جو یکم جولائی سے نافذ العمل ہیں اور اس میں صرف گڈز اور ٹرانسپورٹرز کے لیے 18 نومبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شرح سے ٹیکس دیا گیا ہے لیکن بعض لوگ ناسمجھی میں اسے نئے ٹیکس کا نوٹیفکیشن سجھمے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
صرف ایکسائز و ٹیکسیشن حکام اور عوام کی آگہی کے لیے ٹیکس ریٹ کا چارٹ جاری کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی اعلان کردہ انویسٹمنٹ اسکیم سے فائد اٹھانے والے این ٹی این ہولڈر نان فائلرزاوراسکیم سے فائدہ اٹھاکرسرمایہ کاری کرنے والے ٹیکس نادہندہ امیر لوگ اپنے انکم ٹیکس گوشوارے 28 فروری تک جمع کراسکیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی اعلان کردہ گرین انویسٹمنٹ اسکیم ماضی میں متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیموں سے بالکل مختلف ہے اور اسے ایمنسٹی اسکیم نہیں کہا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے بارے میں آئی ایم ایف نے پوچھا ضرور تھا اور اسے تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے اور اب آئی ایم ایف بھی اس اسکیم سے مطمئن ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کیلیے مقررہ 2475 ارب روپے کے ٹیکس ہدف میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے براڈننگ آف ٹیکس بیس اسکیم کے تحت قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے امیروں کے خلاف کارروائی کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک 47 ہزار افراد کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، طے شدہ شرط کے مطابق رواں مالی سال کے آخر تک 1لاکھ افراد کو نوٹس جاری کیے جائیں گے تاہم جو لوگ وزیراعظم کی اسکیم سے فائد اٹھائیں گے ان کا آڈٹ نہیں کیاجائیگا۔
اس کے ساتھ ساتھ انکا آڈٹ بھی کیا جائے گا۔ ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کمی نہیں کی گئی، 2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرلیا جائیگا، وزیراعظم کی اعلان کردہ انویسٹمنٹ اسکیم کے بارے میں آئی ایم ایف کے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں۔ گاڑیوں پر ٹیکس کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ایف بی آر نے کسی قسم کا کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاری کیا جانے والا چارٹ پرانا ہے جو یکم جولائی سے نافذ العمل ہیں اور اس میں صرف گڈز اور ٹرانسپورٹرز کے لیے 18 نومبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شرح سے ٹیکس دیا گیا ہے لیکن بعض لوگ ناسمجھی میں اسے نئے ٹیکس کا نوٹیفکیشن سجھمے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
صرف ایکسائز و ٹیکسیشن حکام اور عوام کی آگہی کے لیے ٹیکس ریٹ کا چارٹ جاری کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی اعلان کردہ انویسٹمنٹ اسکیم سے فائد اٹھانے والے این ٹی این ہولڈر نان فائلرزاوراسکیم سے فائدہ اٹھاکرسرمایہ کاری کرنے والے ٹیکس نادہندہ امیر لوگ اپنے انکم ٹیکس گوشوارے 28 فروری تک جمع کراسکیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی اعلان کردہ گرین انویسٹمنٹ اسکیم ماضی میں متعارف کرائی جانے والی ایمنسٹی اسکیموں سے بالکل مختلف ہے اور اسے ایمنسٹی اسکیم نہیں کہا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے بارے میں آئی ایم ایف نے پوچھا ضرور تھا اور اسے تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے اور اب آئی ایم ایف بھی اس اسکیم سے مطمئن ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کیلیے مقررہ 2475 ارب روپے کے ٹیکس ہدف میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے براڈننگ آف ٹیکس بیس اسکیم کے تحت قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے امیروں کے خلاف کارروائی کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک 47 ہزار افراد کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، طے شدہ شرط کے مطابق رواں مالی سال کے آخر تک 1لاکھ افراد کو نوٹس جاری کیے جائیں گے تاہم جو لوگ وزیراعظم کی اسکیم سے فائد اٹھائیں گے ان کا آڈٹ نہیں کیاجائیگا۔