پاکستان نے پن بجلی گھرکو موثر انداز میں بہتر بنایا چینی جریدہ
اس وقت دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پن بجلی کی ترقی جاری رکھیں گے۔
اس وقت دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پن بجلی کی ترقی جاری رکھیں گے۔ فوٹو : فائل
بی آر آئی سے منسلک ممالک پن بجلی کی ترقی کو اہمیت دیتے ہیں، ان میں سے پاکستان نے بڑی صلاحیتوں کے ساتھ پن بجلی گھرکو موثر انداز میں بہتر بنایا ہے۔
گوادر پرو کے مطابق چین کے سرکاری جریدے میں چائنا الیکٹرک پاورکی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر 2015 میںقوام متحدہ کے ذریعہ17پائیدار ترقیاتی اہداف تجویزکئے گئے تھے، اس کے بعد پیرس معاہدے اور بی آر آئی کو بھی عالمی برادری نے بڑے پیمانے پر تسلیم کیا، بی آر آئی ممالک کے مابین پن بجلی کی ترقی میں بین الاقوامی تعاون کی شرائط ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی اور آب و ہوا کے عوامل سے متاثرہ پن بجلی کے وسائل کی عالمی سطح پر تقسیم ناہموار ہے جبکہ ایشیا کے خطے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ استحصال پن بجلی کی تقسیم کے لحاظ سے 50 فیصدایشیا میں 18فیصدجنوبی امریکہ میں 14 فیصد شمالی امریکہ میں 9فیصدافریقہ میں 8 فیصد یورپ میں اور 1فیصداوشیانا میں ہے۔
آئی ایچ اے 2020کی رپورٹ کے مطابق 2019کے آخر تک دنیا میں نصب پن بجلی کی گنجائش1308گیگا واٹ تھی جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 4306ٹی ڈبلیو ایچ ہے۔ 2019میں 15.6گیگاواٹ نئی نصب صلاحیت اور106ٹی ڈبلیو ایچ بجلی کی پیداوار شامل کی گئی۔ ان میں بی آر آئی سے منسلک ممالک نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ایشیا میں پاکستان اور چین ، جنوبی امریکہ میں برازیل ، افریقہ میں انگولا ، یوگنڈا اور ایتھوپیا اور یورپ میں ترکی نے سب سے بڑ ا حصہ بنایا۔ اس وقت دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پن بجلی کی ترقی جاری رکھیں گے۔
گوادر پرو کے مطابق چین کے سرکاری جریدے میں چائنا الیکٹرک پاورکی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر 2015 میںقوام متحدہ کے ذریعہ17پائیدار ترقیاتی اہداف تجویزکئے گئے تھے، اس کے بعد پیرس معاہدے اور بی آر آئی کو بھی عالمی برادری نے بڑے پیمانے پر تسلیم کیا، بی آر آئی ممالک کے مابین پن بجلی کی ترقی میں بین الاقوامی تعاون کی شرائط ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی اور آب و ہوا کے عوامل سے متاثرہ پن بجلی کے وسائل کی عالمی سطح پر تقسیم ناہموار ہے جبکہ ایشیا کے خطے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ استحصال پن بجلی کی تقسیم کے لحاظ سے 50 فیصدایشیا میں 18فیصدجنوبی امریکہ میں 14 فیصد شمالی امریکہ میں 9فیصدافریقہ میں 8 فیصد یورپ میں اور 1فیصداوشیانا میں ہے۔
آئی ایچ اے 2020کی رپورٹ کے مطابق 2019کے آخر تک دنیا میں نصب پن بجلی کی گنجائش1308گیگا واٹ تھی جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 4306ٹی ڈبلیو ایچ ہے۔ 2019میں 15.6گیگاواٹ نئی نصب صلاحیت اور106ٹی ڈبلیو ایچ بجلی کی پیداوار شامل کی گئی۔ ان میں بی آر آئی سے منسلک ممالک نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ایشیا میں پاکستان اور چین ، جنوبی امریکہ میں برازیل ، افریقہ میں انگولا ، یوگنڈا اور ایتھوپیا اور یورپ میں ترکی نے سب سے بڑ ا حصہ بنایا۔ اس وقت دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پن بجلی کی ترقی جاری رکھیں گے۔