ایک زرعی ملک اتنا مجبور کیوں
کیا ایک زرعی اور ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان آٹے اور چینی کے لیے مافیاؤں کے رحم وکرم پر ہوگا۔
کیا ایک زرعی اور ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان آٹے اور چینی کے لیے مافیاؤں کے رحم وکرم پر ہوگا۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
اقتصادی اور سماجی نظام میں استحکام کے لیے ماہرین سیاست نے مثالی حکمرانی کا جو معیار قائم کیا ہے وہ عوام دوست معاشی ریلیف کی فراہمی کا ہے، دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی نہ تو کوئی روایت ملتی ہے اور نہ ضلعی اور مقامی کاؤنٹیز، لوکل گورنمنٹ اداروں، اتھارٹیز اور سوشل سیکٹر میں فوڈ سیکیورٹی اور مہنگائی میں چیزیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں، وہاں یہ سب کچھ ایک معاشی اور اقتصادی سسٹم کے تابع ہوتاہے، اس لیے مغرب اور غیر جمہوری طرز حکومت میں بھی عوام کو ایک اجتماعی آسودگی میسر ہوتی ہے۔
لیکن ملک عزیز میں یہ عجیب المیہ ہے کہ حکومت ابھی تک چینی، آٹے اور گندم میں خود کفالت کا دعویٰ نہیں کرسکی اور نہ قیمتوں میں اضافے کے مسئلہ پر قابو پا سکی ہے، چیک اینڈ بیلنس کا موثر اور شفاف نظام کہیں نظر نہیں آتا، لیکن معاشی سونامی جیسی دلفریب باتیں تو ارباب اختیار ایسی کرتے ہیں کہ گویا آیندہ چند روز میں معیشت نہ صرف مستحکم ہوگی، لاکھوں بیروزگاروں کو روزگار ملے گا بلکہ عوام جلد ہر قسم کی سہولتوں سے بہرہ مند ہوںگے۔ تاہم مارکیٹ حقیقت کچھ یوں ہے کہ چینی کی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مختلف شہروں میں چینی 92 روپے سے 110 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد، راولپنڈی کی نسبت پشاور میں چینی 10 روپے کلو مہنگی ہے۔ کوئٹہ، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، حیدرآباد میں چینی 100 روپے کلو، بنوں میں 96 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ خضدار میں چینی 92 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں کھانے پینے کی 15 چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ، 13 چیزوں کی قیمتوں میں کمی جب کہ 23 چیزوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی روزمرہ کی ضرورتوں کی اشیا کی سستے داموں فراہمی حکومت کی ترجیح میں شامل ہی نہیں کیونکہ حکومت کو معیشت کے حوالے سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ جولائی میں ترسیلات زر12 ارب76 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، یعنی عوام کو تو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں مگر حکمراں انھیں تسلی دے رہے ہیں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جلد عوام کے دن پھرنے والے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ دنیا کی حسین ساحرہ میریلن منرو نے جب خودکشی کی تو امریکی میڈیا نے کہا کہ منرو محبت کی بھوکی تھی مگر امریکی معاشرہ نے اس کے منہ میں ڈالر ٹھونس دیے۔
الم ناک صورت یہ ہے کہ حکومت مہنگائی کے سونامی کو روکنے پر فکرمند نہیں، لوگ سبزی، دالیں، مچھلی اور گوشت خریدنے کی استطاعت سے محروم ہیں،پرائس کنٹرولنگ اتھارٹی کا اتا پتا نہیں، نہ ہی حکام چینی کی قیمت میں کمی، گندم اور آٹے کی قلت، گرانی اور درآمد کی حقیقت بتا پارہے ہیں۔ معاشی آسودگی ایک معمہ بن گئی ہے۔
ادھر ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے اور یہ وفاقی ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے درآمد کی جانے والی گندم کے غذائی معیار کو یقینی بنانے کے لیے گندم میں پروٹین اور گلوٹین کی کم ازکم شرح کو بڑھا دیا ہے اور امپورٹڈ گندم کو9 اقسام کے کیڑوں سے پاک ہونے کو لازمی قرار دے دیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی زرعی معیشت اچھی ہو تو ملک میں اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی قلت کبھی پیش ہی نہ آئے، تاہم کیوں ہم معیشت کی خودکفالت کے ذریعے ایک مستحکم اقتصادی نظام کی ضمانت قوم کو آج تک پیش نہیں کرسکے، حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے دروازہ پر دستک دینے اور دوست ملکوں اور ڈونرز کے آگے کشکول کیوں پھیلائے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو اتنی بات تو یاد ہے کہ حکومت اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کر رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ کسی حکومتی اقدامات سے کنٹرول نہیں ہو رہی، دودھ سے زیادہ دہی مہنگی ! گندم اور چینی تو پاکستانی زراعت کی ترقی واستحکام اور فوڈ سیکیورٹی کی اساس میں شامل ہونا چاہیے۔
گندم اور چینی کی قلت پر جو تحقیقاتی کمیشن تشکیل پائے ان کا نتیجہ کچھ نہ نکلا، وزیر اعظم عمران خان اور ان کے معاونین خصوصی کا دعویٰ تھا کہ وہ مافیاز کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، انھیں عبرت کا نشاں بنائیں گے، پی ٹی آئی حکومت نے تحقیقات کو پبلک کرنے کے اقدام کو تاریخ ساز قرار دیا تھا، بڑی بڑھکیں ماری تھیں، بیچارے عوام شدید ترین غربت، کورونا کے عذاب اور مہنگائی کے باوجود سادہ دلی سے منتظر تھے کہ چینی،گندم اور آٹے کے ذخیرہ اندوزوں، مافیاؤں اور اسمگلروں کو قرار واقعی سزا ملے گی لیکن ٹچ ایبلز محفوظ رہے۔
بلاشبہ قوت فیصلہ کے اسی فقدان اور بے عملی کا یہ فطری نتیجہ تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدی، عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے کو علیحدہ علیحدہ انکوائری کا حکم دیدیا۔ ارباب اختیار کے پاس اس ساری صورتحال کا کیا جواب ہے۔
آج چینی،گندم اور آٹے کی قلت یا اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ملکی معاشی نظام کی کمزوری کی دلیل اور فوڈ سیکیورٹی کے مسئلہ پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ مہنگائی کا جن گندم آٹے اور چینی کی بوریوں کے اندر سے نکل رہا ہے، عوام کی زندگیوں کو مشکل اور ان کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کر رہا ہے، یاد رہے 20مئی2020 کو وزارت داخلہ نے چینی کی قیمت میں اضافہ کے سکینڈل کی رپورٹ جاری کی تھی، ایف آئی اے کی 200 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ لاحاصل رہی، حکومت نے کیا کارروائی کی، محض اس لیے رپورٹ پر عمل نہیں ہوا کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آئے۔
ضرورت اب بھی سخت اقدامات اور دلیرانہ فیصلوں کی ہے، ان پر عملدرآمد کی ہے، کیا ایک زرعی اور ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان آٹے اور چینی کے لیے مافیاؤں کے رحم وکرم پر ہوگا۔ کیا عوام بس مہنگائی کا رونا ہی روتے رہیں گے۔
لیکن ملک عزیز میں یہ عجیب المیہ ہے کہ حکومت ابھی تک چینی، آٹے اور گندم میں خود کفالت کا دعویٰ نہیں کرسکی اور نہ قیمتوں میں اضافے کے مسئلہ پر قابو پا سکی ہے، چیک اینڈ بیلنس کا موثر اور شفاف نظام کہیں نظر نہیں آتا، لیکن معاشی سونامی جیسی دلفریب باتیں تو ارباب اختیار ایسی کرتے ہیں کہ گویا آیندہ چند روز میں معیشت نہ صرف مستحکم ہوگی، لاکھوں بیروزگاروں کو روزگار ملے گا بلکہ عوام جلد ہر قسم کی سہولتوں سے بہرہ مند ہوںگے۔ تاہم مارکیٹ حقیقت کچھ یوں ہے کہ چینی کی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مختلف شہروں میں چینی 92 روپے سے 110 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد، راولپنڈی کی نسبت پشاور میں چینی 10 روپے کلو مہنگی ہے۔ کوئٹہ، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، حیدرآباد میں چینی 100 روپے کلو، بنوں میں 96 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ خضدار میں چینی 92 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں کھانے پینے کی 15 چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ، 13 چیزوں کی قیمتوں میں کمی جب کہ 23 چیزوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی روزمرہ کی ضرورتوں کی اشیا کی سستے داموں فراہمی حکومت کی ترجیح میں شامل ہی نہیں کیونکہ حکومت کو معیشت کے حوالے سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ جولائی میں ترسیلات زر12 ارب76 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، یعنی عوام کو تو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں مگر حکمراں انھیں تسلی دے رہے ہیں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جلد عوام کے دن پھرنے والے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ دنیا کی حسین ساحرہ میریلن منرو نے جب خودکشی کی تو امریکی میڈیا نے کہا کہ منرو محبت کی بھوکی تھی مگر امریکی معاشرہ نے اس کے منہ میں ڈالر ٹھونس دیے۔
الم ناک صورت یہ ہے کہ حکومت مہنگائی کے سونامی کو روکنے پر فکرمند نہیں، لوگ سبزی، دالیں، مچھلی اور گوشت خریدنے کی استطاعت سے محروم ہیں،پرائس کنٹرولنگ اتھارٹی کا اتا پتا نہیں، نہ ہی حکام چینی کی قیمت میں کمی، گندم اور آٹے کی قلت، گرانی اور درآمد کی حقیقت بتا پارہے ہیں۔ معاشی آسودگی ایک معمہ بن گئی ہے۔
ادھر ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے اور یہ وفاقی ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے درآمد کی جانے والی گندم کے غذائی معیار کو یقینی بنانے کے لیے گندم میں پروٹین اور گلوٹین کی کم ازکم شرح کو بڑھا دیا ہے اور امپورٹڈ گندم کو9 اقسام کے کیڑوں سے پاک ہونے کو لازمی قرار دے دیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی زرعی معیشت اچھی ہو تو ملک میں اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی قلت کبھی پیش ہی نہ آئے، تاہم کیوں ہم معیشت کی خودکفالت کے ذریعے ایک مستحکم اقتصادی نظام کی ضمانت قوم کو آج تک پیش نہیں کرسکے، حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے دروازہ پر دستک دینے اور دوست ملکوں اور ڈونرز کے آگے کشکول کیوں پھیلائے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو اتنی بات تو یاد ہے کہ حکومت اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کر رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ کسی حکومتی اقدامات سے کنٹرول نہیں ہو رہی، دودھ سے زیادہ دہی مہنگی ! گندم اور چینی تو پاکستانی زراعت کی ترقی واستحکام اور فوڈ سیکیورٹی کی اساس میں شامل ہونا چاہیے۔
گندم اور چینی کی قلت پر جو تحقیقاتی کمیشن تشکیل پائے ان کا نتیجہ کچھ نہ نکلا، وزیر اعظم عمران خان اور ان کے معاونین خصوصی کا دعویٰ تھا کہ وہ مافیاز کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، انھیں عبرت کا نشاں بنائیں گے، پی ٹی آئی حکومت نے تحقیقات کو پبلک کرنے کے اقدام کو تاریخ ساز قرار دیا تھا، بڑی بڑھکیں ماری تھیں، بیچارے عوام شدید ترین غربت، کورونا کے عذاب اور مہنگائی کے باوجود سادہ دلی سے منتظر تھے کہ چینی،گندم اور آٹے کے ذخیرہ اندوزوں، مافیاؤں اور اسمگلروں کو قرار واقعی سزا ملے گی لیکن ٹچ ایبلز محفوظ رہے۔
بلاشبہ قوت فیصلہ کے اسی فقدان اور بے عملی کا یہ فطری نتیجہ تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدی، عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے کو علیحدہ علیحدہ انکوائری کا حکم دیدیا۔ ارباب اختیار کے پاس اس ساری صورتحال کا کیا جواب ہے۔
آج چینی،گندم اور آٹے کی قلت یا اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ملکی معاشی نظام کی کمزوری کی دلیل اور فوڈ سیکیورٹی کے مسئلہ پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ مہنگائی کا جن گندم آٹے اور چینی کی بوریوں کے اندر سے نکل رہا ہے، عوام کی زندگیوں کو مشکل اور ان کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کر رہا ہے، یاد رہے 20مئی2020 کو وزارت داخلہ نے چینی کی قیمت میں اضافہ کے سکینڈل کی رپورٹ جاری کی تھی، ایف آئی اے کی 200 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ لاحاصل رہی، حکومت نے کیا کارروائی کی، محض اس لیے رپورٹ پر عمل نہیں ہوا کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آئے۔
ضرورت اب بھی سخت اقدامات اور دلیرانہ فیصلوں کی ہے، ان پر عملدرآمد کی ہے، کیا ایک زرعی اور ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان آٹے اور چینی کے لیے مافیاؤں کے رحم وکرم پر ہوگا۔ کیا عوام بس مہنگائی کا رونا ہی روتے رہیں گے۔